کالم نگار: وقاص عزیز
کامیڈی کا مطلب کیا ہے؟ کامیڈی کا مطلب صرف دانت نکال کر ہنسنا نہیں ہے۔ اصل کامیڈی وہ ہوتی ہے جو ہنسانے کے بعد آپ کے اندر کچھ چھوڑ جائے۔ ایک خالی پن نہ چھوڑے بلکہ ایک اپنائیت چھوڑ جائے۔ اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جو دنیا نیوز کے مذاق رات اور نیٹ فلکس کے دی گریٹ انڈین کپل شرما شو کے درمیان ہے۔ دونوں کے نام کے ساتھ بڑے نام جڑے ہیں۔ ایک طرف کپل شرما ہے جسے بھارت کا کامیڈی کنگ کہا جاتا ہے، دوسری طرف عمران اشرف ہے جسے پاکستان نے بھولا کے نام سے اپنے دل میں بسایا ہوا ہے۔ دونوں کے پاس مداح ہیں، دونوں کے پاس شہرت ہے، لیکن دونوں کی روح میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ذرا کپل شرما شو کو دیکھیے، پہلے ہی لمحے میں پتہ چل جائے گا کہ یہ کتنا بڑا شو ہے۔ پیچھے نیٹ فلکس لکھا ہوا ہے۔ کروڑوں روپے کا سیٹ لگا ہوا ہے۔ ہر کونے میں لائٹ ہے۔ ہر چیز چمک رہی ہے۔ جیسے ہی شو شروع ہوتا ہے، ایک بڑی فلم کا ٹریلر چلتا ہے، اور اس کے بعد اس فلم کے ہیرو اور ہیروئن اسٹیج پر آ جاتے ہیں۔ شاہ رخ خان آ رہا ہے، سلمان خان آ رہا ہے، اکشے کمار آ رہا ہے۔ لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ کپل آتا ہے، ایک دو جگتیں مارتا ہے، اس کی ٹیم میں سے کوئی عورت بن کر آ جاتا ہے، کوئی بوڑھی دادی بن کر آ جاتا ہے، اور پھر وہی پرانا مذاق شروع ہو جاتا ہے۔ تمہاری شادی نہیں ہوئی، تم موٹے ہو، تمہاری بیوی تمہیں مارتی ہے۔ آڈینس ہنستی ہے۔ مہمان بھی مصنوعی ہنسی ہنستا ہے کیونکہ اسے اپنی فلم بیچنی ہے۔ ڈائریکٹر پیچھے سے اشارہ کرتا ہے کہ اب ہنسنا ہے، تو سب ہنس پڑتے ہیں۔ شو ختم ہوتا ہے، مہمان چلا جاتا ہے، اور اگلے دن کوئی بھی اس شو کو یاد نہیں رکھتا، سوائے ایک دو کلپس کے جو انسٹاگرام پر وائرل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مارکیٹ ہے۔ ایک سجی ہوئی، مہنگی، چمکتی ہوئی مارکیٹ جہاں ہر چیز بک رہی ہے۔ کامیڈی بھی بک رہی ہے، ہنسی بھی بک رہی ہے، اور سٹار بھی اپنا آپ بیچنے آئے ہوئے ہیں۔
اور اب اس کے بالکل سامنے مذاق رات کو رکھ کر دیکھیے ،دنیا نیوز کا ایک چھوٹا سا سیٹ ہے۔ نہ وہ چمک ہے نہ وہ نیٹ فلکس کا بورڈ ہے۔ چار کرسیاں رکھی ہیں، ایک طرف بینڈ بیٹھا ہے، سامنے آڈینس بیٹھی ہے۔ لیکن جیسے ہی عمران اشرف اسٹیج پر آتا ہے، پورا ماحول بدل جاتا ہے۔ وہ چیخ کر نہیں آتا، وہ ناچ کر نہیں آتا، وہ ایک عاجزی کے ساتھ آتا ہے، سلام کرتا ہے، اور آتے ہی محفل کو اپنا بنا لیتا ہے۔ یہی اس کا سب سے بڑا جادو ہے۔ عمران اشرف جوکر نہیں ہے۔ یہ بات سمجھنی پڑے گی۔ کپل ایک جوکر ہے، ایک بہت اچھا جوکر ہے، لیکن وہ جوکر ہی ہے۔
عمران اشرف ایک اداکار ہے۔ اس نے رانجھا رانجھا کردی میں بھولا بن کر پوری قوم کو رلایا ہے۔ اس نے الف میں ایک ایسا کردار کیا ہے جو صوفی بھی ہے اور عاشق بھی۔ جب وہ لکھتا ہے تو زندگی لکھتا ہے۔ تو جب وہ میزبان بن کر بیٹھتا ہے تو وہ جگت نہیں مارتا، وہ کہانی نکالتا ہے۔
مذاق رات میں جو سب سے خوبصورت چیز ہوتی ہے وہ مہمان کا کھل جانا ہے۔ کپل کے شو میں مہمان کبھی نہیں کھلتا۔ وہ ڈرا ہوا ہوتا ہے کہ کہیں کپل اس کی بے عزتی نہ کر دے۔ وہ سوچ سمجھ کر بولتا ہے۔ مذاق رات میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں مہمان آ کر اسٹار نہیں رہتا۔ عمران اسے انسان بنا دیتا ہے۔ تم نے کتنی بار دیکھا ہے کہ کوئی گلوکار آیا ہے اور عمران نے اس سے کہا ہے کہ یار وہ گانا سناؤ جو تم بچپن میں اپنی ماں کے لیے گاتے تھے، اور وہ گلوکار واقعی آنکھیں بند کر کے وہ گانا گانے لگتا ہے۔ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ کوئی اداکارہ آئی ہے اور اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ناکامی کے بارے میں بتا دیا ہے، وہ بات جو اس نے کسی انٹرویو میں نہیں بتائی۔ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ کوئی عام سا ٹک ٹاکر آیا ہے اور اس نے اپنی لکھی ہوئی شاعری سنائی ہے اور عوام خاموش ہو کر اسے سنتی رہی ہے۔ یہ کپل کے شو میں کبھی نہیں ہوتا۔ وہاں شاعری نہیں ہوتی، وہاں گانا نہیں ہوتا، وہاں دل کی بات نہیں ہوتی۔ وہاں صرف پروموشن ہوتی ہے۔
اور اس شو کی سب سے بڑی جان اس کی آڈینس ہے۔ میں تمہیں سچ بتا رہا ہوں، میں نے آج تک کسی کامیڈی شو میں ایسی آڈینس نہیں دیکھی۔ کپل کے شو میں آڈینس کو بٹھایا جاتا ہے تالیاں بجانے کے لیے۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ جب ہم اشارہ کریں تو ہنسنا۔ مذاق رات میں آڈینس بھی شو کا حصہ ہے۔ عمران اچانک آڈینس میں چلا جاتا ہے۔ وہاں بیٹھی ایک بچی سے پوچھتا ہے کہ بیٹا تم کیا کرتی ہو؟ وہ کہتی ہے میں شاعری کرتی ہوں۔ وہ کہتا ہے سناؤ۔ وہ بچی شاعری سناتی ہے۔ کسی لڑکے سے گانا سن لیتا ہے۔ کسی بزرگ سے دعا لے لیتا ہے۔ وہ شو اسٹیج پر نہیں ہو رہا ہوتا، وہ پورے ہال میں ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک بیٹھک بن جاتی ہے۔ لاہور کی ایک پرانی بیٹھک جہاں سب اپنے ہوتے ہیں۔ یہی اپنائیت ہے جو نیٹ فلکس کے کروڑوں روپے سے بھی نہیں خریدی جا سکتی۔ تم پیسے سے لائٹیں خرید سکتے ہو، سیٹ خرید سکتے ہو، بڑے سٹار خرید سکتے ہو، لیکن تم محفل نہیں خرید سکتے۔ محفل بنانی پڑتی ہے۔
اب آتے ہیں ٹیم پر۔ کپل کی ٹیم ٹوٹ چکی ہے۔ سنیل گروور جیسا بڑا آرٹسٹ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ کیوں چھوڑ کر گیا؟ کیونکہ وہاں عزت نہیں تھی۔ وہاں ہر وقت ایک دوسرے کی تذلیل کر کے ہنسانا ہے۔ مذاق رات کی ٹیم کو دیکھو۔ سخاوت ناز بیٹھا ہے، جو پنجاب کی مٹی کی خالص خوشبو ہے۔ اس کی ایک جگت میں پورا پنڈ آ جاتا ہے۔ ہنی البیلا بیٹھا ہے، جس کی زبان پر جگت ایسے آتی ہے جیسے تلوار چل رہی ہو۔ اکرم اداس بیٹھا ہے، اپنے مخصوص لہجے میں جب وہ بولتا ہے تو بغیر کچھ کہے ہی ہنسی آ جاتی ہے۔ فیصل رامے ہے جو شاعری کو بھی لطیفہ بنا دیتا ہے۔ عون علی خان ہے جو ڈی جے نہیں ہے، وہ اس محفل کی دھڑکن ہے، وہ میوزک سے ماحول کو جوڑے رکھتا ہے۔ اور عائشہ ہے جو اس ساری محفل کو ایک توازن دیتی ہے۔ اور ان سب کے بیچ میں عمران اشرف کھڑا ہے جو ان سب کو عزت دیتا ہے۔ وہ کبھی ان پر چیختا نہیں، وہ انہیں استاد کہتا ہے، وہ انہیں آگے رکھتا ہے۔ اسی لیے یہ ٹیم نہیں لگتی، یہ ایک خاندان لگتا ہے۔ اور خاندان میں جو ہنسی ہوتی ہے وہ کرائے کی نہیں ہوتی، وہ اصلی ہوتی ہے۔
آخر میں بات بہت سیدھی ہے۔ کپل شرما کے پاس نیٹ فلکس ہے، عمران اشرف کے پاس نیت ہے۔ کپل کے پاس بجٹ ہے، عمران کے پاس پنجابی، اردو اور سرائیکی کی مٹھاس ہے۔ کپل کے پاس بالی ووڈ ہے، عمران کے پاس پاکستان کی مٹی ہے۔ برانڈ ہمیشہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ آج نیٹ فلکس ہے، کل کوئی اور آ جائے گا۔ لیکن محفلیں ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ لوگ آج بھی پرانی بیٹھکوں کو یاد کرتے ہیں۔
اسی لیے تم یوٹیوب کھول کر دیکھ لو۔ مذاق رات کے ہر کلپ کے نیچے آدھے کمنٹس بھارت کے لوگوں کے ہوتے ہیں۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ یار یہ شو ہمیں زیادہ اصلی لگتا ہے، یہ ہمیں اپنا لگتا ہے۔ کیونکہ دنیا کو اب چمک دمک نہیں چاہیے۔ دنیا کو اب گلیمر سے نفرت ہو گئی ہے۔ دنیا کو اب اصل چاہیے، سچ چاہیے، اپنائیت چاہیے۔ اور سچ آج بھی لاہور کی اس چھوٹی سی محفل میں ہے جس کا نام مذاق رات ہے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔
About The Author
Muhammad Mubbashir Rauf
Mubbashir Rauf is the WEB EDITOR of Click Pakistan. He can be reached at mmubbashirrauf@gmail.com.













