یہ وردی ماؤں کی دعا ہے، بہنوں کی ڈھال ہے

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم: وقاص وعزیز

میں نے جب پہلی بار گروپ کیپٹن عاصم طارق کا نام سنا تو دل کانپ گیا۔ کوئی اجنبی تھا۔ کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ بس ایک خاتون روڈ پر تھی اور اس سے زبردستی کی کوشش کی جا رہی تھی

اس لمحے میں سوچتا ہوں کہ عام آدمی کیا کرتا؟ موبائل نکالتا؟ ویڈیو بناتا؟ یا وہاں سے گزر جاتا کہ “میرا کیا”؟

مگر اس دن شاہین چوک پر ایک باپ، ایک شوہر، ایک بیٹی کا والد گاڑی سے اترا۔ وردی نہیں پہنی تھی۔ صرف ضمیر پہنا تھا۔ اور وہ ضمیر بولا: “نہیں۔ یہ میری بہن ہے۔”

5 جولائی 2026 کی وہ دوپہر اسلام آباد بھول نہیں پائے گا۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق نے مزاحمت کی۔ ڈھال بنے۔ اور پھر گولی چل گئی۔ وہ گرے تو اکیلے نہیں گرے۔ ہمارے اس یقین کے ساتھ گرے کہ ابھی بھی اس ملک میں کوئی ہے جو بیٹی کی عزت کے لیے سانس لینا چھوڑ سکتا ہے۔

جب جنازہ اٹھا تو پورا ملک افسردہ و خاموش تھا۔ ISPR نے کہا “مکمل فوجی اعزاز”۔ مگر مجھے لگتا ہے کوئی اعزاز اس قربانی کا بدل نہیں۔ پیچھے ایک بیوہ رہ گئی۔ ایک بیٹی رہ گئی جس نے ابھی ابا کا ہاتھ پکڑ کر سکول جانا تھا۔ ایک بیٹا رہ گیا جس نے ابا کے ساتھ کرکٹ کھیلنی تھی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا “قوم کا ہیرو”۔ ہیرو لفظ چھوٹا ہے۔ یہ لفظ ان لوگوں کے لیے ہیں جو میچ جیتتے ہیں۔ یہ وہ ہے جو زندگی ہار کر ہماری عزت جتا گیا۔

اور پھر آج دوسری خبر آئی۔ سرحد یونیورسٹی روات کیمپس۔اسلام آباد

ویڈیو وائرل ہوئی۔ ایک افسر غصے میں تھا۔ بات بڑھی۔ ہاتھا پائی ہوئی۔ ہوائی فائرنگ ہو گئی۔ کیمپس میں ڈر پھیل گیا۔

میں نے سوچا اب کیا ہو گا؟ اب تو سوشل میڈیا پر طوفان آئے گا۔ “دیکھو وردی والا کیا کر رہا ہے”۔ “ادارہ بچا لے گا”۔

مگر ایک سو بیس منٹ سے پہلے خبر آئی: افسر تحویل میں۔ انکوائری کمیٹی بن گئی۔ ISPR کا بیان آیا: “ہمارا نظام انصاف پر کھڑا ہے۔ قصور وار کوئی بھی ہو، سزا ملے گی۔”

بس یہیں پر فرق سمجھ آتا ہے۔

دنیا کی بہت سی فوجیں ہیں۔ مگر کون سی فوج ہے جو اپنے شہید کا جنازہ بھی خود پڑھاتی ہے، اور اپنے غلط افسر کو ہتھکڑی بھی خود لگاتی ہے؟

یہی تو پاک فوج ہے۔

*قربانی اور احتساب، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ*

دیکھیں، ہم انسان ہیں۔ غلطی ہو جاتی ہے۔ جذبات میں آدمی غلط قدم اٹھا لیتا ہے۔ سرحد یونیورسٹی والا افسر بھی انسان تھا۔ اس کی بیوی سے بدتمیزی ہوئی تو وہ بھاگا آیا۔ غصہ آیا تو قانون ہاتھ میں لے لیا۔ غلط کیا۔

مگر ادارے نے کیا کیا؟ چھپایا؟ دفاع کیا؟ نہیں۔
فوراً کہا: “لاؤ اسے۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔”

یہ ہوتا ہے نظم۔ یہ ہوتا ہے ڈسپلین۔

دوسری طرف عاصم طارق تھے۔ ان سے کوئی نہیں کہہ رہا تھا “جاؤ لڑو”۔ ان کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ وہ چھٹی پر بھی ہو سکتے تھے۔ مگر وہ رکے۔ کیونکہ ان کے خون میں یہ بات لکھی ہے کہ “بیٹی روئے تو میں کیسے چپ رہوں؟”

ایک طرف قربانی۔ دوسری طرف احتساب۔
اور دونوں کے بیچ میں ایک لفظ: *عزت*۔

قوم کی بیٹیوں کی عزت۔
اور وردی کی عزت۔

*تو پھر پروپیگنڈا کیوں؟*

اب آتے ہیں سب سے تکلیف دہ بات پر۔

جس دن عاصم طارق کا جنازہ تھا، اسی دن کچھ اکاؤنٹس نے لکھنا شروع کر دیا: “مبینہ مقابلہ”۔ “کہانی گھڑی گئی”۔

جس دن یونیورسٹی میں افسر کو گرفتار کیا گیا، اسی دن دوسرے اکاؤنٹس نے لکھا: “فوج نے طلبہ پر حملہ کر دیا”۔ “یہ فسطائیت ہے”۔

میں پوچھتا ہوں: بھائی، تمہیں شرم نہیں آتی؟

ایک ماں کا بیٹا شہید ہوا ہے۔ اس کی بیٹی یتیم ہوئی ہے۔ تم اسے “مبینہ” کہہ رہے ہو؟
ایک ادارے نے اپنی غلطی مان کر اپنے بندے کو پکڑا ہے۔ تم اسے “فسطائیت” کہہ رہے ہو؟

یہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا سیل نہیں ہے۔ یہ نفرت کا سیل ہے۔ ان کا کام ملک بنانا نہیں، ملک توڑنا ہے۔ ان کا کام سچ بولنا نہیں، سچ کو مشکوک بنانا ہے۔

انہیں عاصم طارق کی شہادت سے مسئلہ نہیں۔ انہیں اس بات سے مسئلہ ہے کہ کوئی وردی والا “اچھا” کیوں نکلا؟
انہیں یونیورسٹی کے احتساب سے مسئلہ نہیں۔ انہیں اس بات سے مسئلہ ہے کہ ادارے نے “جلدی” ایکشن کیوں لیا؟

کیونکہ اگر لوگوں کو یقین آ گیا کہ فوج قربانی بھی دیتی ہے اور احتساب بھی کرتی ہے، تو پھر ان کی سیاست کا جنازہ نکل جائے گا۔

پچھلے ہفتے میں ایک دوست کے گھر گیا۔ اس کے ابا آرمی میں کرنل ہیں۔ اس کی بہن 10 سال کی ہے۔

میں نے پوچھا: “بیٹا ڈر لگتا ہے جب ابو ڈیوٹی پر جاتے ہیں؟”

کہنے لگی: “انکل، ابو کہتے ہیں ہم لوگوں کی وجہ سے ہیں۔ اگر ہم نہ ہوں تو کوئی بھی آپ کو تنگ کر سکتا ہے۔”

بس۔ یہی ایک جملہ پورے کالم کا خلاصہ ہے۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق بھی کسی کی بیٹی کے “ابو” تھے۔ وہ ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ وہ بس انسان تھے۔ اور انسانیت نے کہا: “اٹھو”۔

سرحد یونیورسٹی والا افسر بھی کسی کا شوہر تھا۔ اس نے غلط کیا۔ مگر ادارے نے کہا: “نہیں، ہم ذاتی رشتوں سے اوپر قانون کو رکھتے ہیں۔”

*آخر میں صرف ایک بات*

میں فوج کا ترجمان نہیں ہوں۔ میں ایک عام پاکستانی ہوں۔ جس کی بہن یونیورسٹی جاتی ہے۔ جس کی بیوی بازار جاتی ہے۔ جس کی ماں اکیلی گھر رہتی ہے۔

اور میں یہ جانتا ہوں کہ اگر شاہین چوک پر عاصم طارق جیسا کوئی نہ ہو، تو کل کو میری بہن کے ساتھ بھی وہی ہو سکتا ہے جو اس خاتون کے ساتھ ہونے والا تھا۔

اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر سرحد یونیورسٹی پر ادارے نے ایکشن نہ لیا ہوتا، تو کل کو کوئی اور افسر بھی قانون کو مذاق سمجھ لیتا۔

اس لیے خدارا، شہیدوں کی قربانی کو “مبینہ” مت کہو۔
اور ادارے کے احتساب کو “ڈرامہ” مت کہو۔

یہ وردی ہمارے گھروں کی دیوار ہے۔
اس دیوار پر کیچڑ مت اچھالو۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق، ہم آپ کا قرض نہیں چکا سکتے۔ ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بتائیں: “بیٹا، اگر کبھی کوئی تنگ کرے تو گھبرانا نہیں۔ اس ملک میں ابھی بھی لوگ ہیں جو تمہارے لیے جان دے دیتے ہیں۔”

اور سرحد یونیورسٹی کے طلبہ کو بتائیں: “بیٹا، احتجاج کرو۔ حق مانگو۔ مگر یہ بھی جان لو کہ یہی ادارہ کل کو تمہاری حفاظت بھی کرے گا۔”

یہی پاکستان ہے۔
یہی پاک فوج ہے۔
قربانی بھی ہماری۔ احتساب بھی ہمارا۔ عزت بھی ہماری۔

اللہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کے درجات بلند کرے۔ آمین

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions