اکادمی ادبیات پاکستان: تین سالہ زوال کی داستان اور آنے والے چیئرمین کے لیے لمحہ فکریہ

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم نگار: وقاص عزیز

ادب قوموں کی بقا کی ضمانت ہوتا ہے۔ جب معیشت تباہ ہو جائے تو قومیں دوبارہ کھڑی ہو جاتی ہیں، جب سیاست ناکام ہو جائے تو نئے رہنما آ جاتے ہیں، لیکن جب ادب مر جائے تو قوم کی روح مر جاتی ہے۔ بدقسمتی سے اکادمی ادبیات پاکستان، جو اس روح کی محافظ تھی، پچھلے تین سال میں ایک ویران سرائے میں تبدیل ہو چکی ہے۔اسی لیے میں نے بارہا حکومت_پاکستان سے گزارش کی ہے کہ اس ادارے کو ختم کر کے اس کے سٹاف کو دوسرے اداروں میں ضم کر دینا چاہیے،،مردہ گھوڑے پر پیسے لگانے کا فائدہ؟ آئی ایم ایف کی قرضوں میں جکڑی قوم کو پی ڈبلیو ڈی کی طرف ان جعلی ادبی اداروں کو جو ذاتی نمود و نمائش و تشہیر کے لیے استعمال ہو رہے ہیں کو سرے سے ختم کر دینا چاہیے ،اس کی بنیادی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ ادارے میں موجود وہ لوگ ہیں جن کے پاس تخلیقی ذہن نہیں ہے وہ صرف نو سے پانچ کے ملازم ہیں ،انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ دنیا میں ادب و ادیب اس وقت ٹیکنالوجی کی بدلتی دنیا میں کیسے خود کو ہم آہنگ کر کے آگے بڑھ رہے ہیں
یقین کیجیے میں نے اکادمی ادبیات یا پاکستانی ادبی اداروں پر بات کرنا ایک طویل عرصہ سے چھوڑ رکھی ہے لیکن نئے چیرمین کی تعیناتی کا شور سنائی دیا تو کچھ احباب نے باالتزام کہا ہے کہ کالم لکھ یا وی لاگ کرو تا کہ حقائق سامنے آ سکیں ،اس لیے دکھی دل کے ساتھ چند معروضات پیش کر رہا ہوں اور اس کا نتیجہ بھی جانتا ہوں کہ کیا نکلنا ہے،خیر بقول فیض جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

پچھلے تین برسوں کو اگر اکادمی کی تاریخ کا کمزور ترین دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ دعویٰ کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ زمینی حقائق، ادیبوں کی گواہیوں اور موجودہ پاکستانی ادبی منظر نامے میں میرٹ کے کھلے قتل_عام پر کیا جا رہا ہے تا کہ آنے والے نئے چیرمین کو اصل صورتحال کا ادراک رہے اور وہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لادنے سے محفوظ رہیں

اکادمی کا سب سے باوقار کام سالانہ قومی ادبی انعامات ہیں۔ کبھی اس انعام کے لیے نامزد ہونا بھی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پچھلے تین سال میں اس نظام کو جس طرح تباہ کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ الزامات ہیں کہ انعامات کی جیوریوں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کا ادب سے دور تک تعلق نہیں تھا۔ اور اس سال تو غیرت مند شاعر نے جہان سے جانے ہی گوارا کیا چہ جائیکہ وہ ایوارڈ قبول کرتے،مزید برآں مبینہ اطلاعات کے مطابق کئی جیوری ممبران بیک وقت خود بھی انعام کے امیدوار تھے،یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ماضی میں ایک چیرمین جن کا تعلق سندھ سے تھا انہوں نے خود کو اپنی ہی سفارش پر ایوارڈ دلوایا تھا جو کہ مفادات کے ٹکراؤ کا کھلا ثبوت ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقی تخلیق کار محروم رہے اور سفارشی مصنفین کو نوازا گیا۔ سندھ اور بلوچستان کے کئی سینئر ادیبوں نے احتجاجاً اپنی کتب جمع کرانے سے ہی انکار کر دیا۔ جب تخلیق کار ہی انعام پر یقین نہ رکھے تو اس کی کیا وقعت رہ جاتی ہے؟ پچھلے سال تو حد ہی ہو گئی کچھ غیر معیاری کتب کو انعام دیا گیا جس پر ادبی حلقوں میں شدید احتجاج ہوا، لیکن انتظامیہ نے کان نہ دھرے۔

اکادمی کا دوسرا بڑا کام معیاری کتب کی اشاعت ہے۔ پچھلے تین سال میں اشاعتوں کی تعداد کاغذ شاید کاغذوں میں پورا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں نئی تخلیقی کتب نہ ہونے کے برابر تھیں۔

جو چند نئی کتب چھپیں ان کے انتخاب کا معیار بھی انتہائی پست تھا وہی نام نظر آئے جو ہمیشہ سے منظور_نظر رہے ہیں
دوسری جانب نوجوان ادیب اپنی پہلی کتاب چھپوانے کے لیے سالوں تک دھکے کھاتے ہیں اور اکادمی کے افسران چپ کا تالا لگا کر ڈھیٹوں کی طرح ، اثر و رسوخ والوں کو چھاپ دیتے ہیں

آئین پاکستان کے مطابق اکادمی تمام پاکستانی زبانوں کی نمائندہ ہے۔ لیکن پچھلے تین سال میں عملی صورتحال یہ رہی کہ 90 فیصد بجٹ اور سرگرمیاں صرف اسلام آباد اور اردو تک محدود رہیں۔

پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی اور شینا زبانوں کے ادیبوں کے لیے کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ ان زبانوں کی لغت اور انسائیکلوپیڈیا کے منصوبے فائلوں میں دبے رہے۔ دیگر شہروں میں اکادمی کے علاقائی دفاتر غیر فعال ہو گئے۔ اور یہاں کے افسران اسلام آباد میں بیٹھ کر تنخواہیں لیتے رہے۔ یہ صرف ناانصافی نہیں، یہ قومی جرم ہے۔

فنڈز کی کمی کا رونا ہر اجلاس میں رویا گیا، لیکن جو فنڈز ملے ان کا استعمال بھی انتہائی غیر دانشمندانہ تھا۔ لاکھوں روپے کے سیمینار پانچ ستارہ ہوٹلوں میں منعقد کیے گئے جن میں شرکاء کی تعداد کبھی حوصلہ مند نہیں تھی۔ ان سیمیناروں کے مقالات کبھی شائع ہی نہ ہوئے۔

آج کی دنیا ڈیجیٹل ہے۔ بھارت کی ساہتیہ اکیڈمی نے اپنی تمام کتب آن لائن مفت کر دی ہیں۔ لیکن ہماری اکادمی کی ویب سائٹ پچھلے تین سال سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئی۔ لنک ٹوٹے ہوئے ہیں، پرانی معلومات پڑی ہیں۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دھول اڑتی نظر آتی ہے

نوجوان نسل جو موبائل پر ادب پڑھنا چاہتی ہے، اس تک پہنچنے کے لیے کوئی ایپ، کوئی ڈیجیٹل لائبریری نہیں بنائی گئی۔ لاکھوں روپے مالیت کا علمی ذخیرہ کاغذی کتابوں میں گل سڑ رہا ہے اور کوئی اسے ڈیجیٹائز کرنے والا نہیں۔

پچھلے تین سال میں بھرتیوں اور تعیناتیوں میں میرٹ کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ اہم آسامیوں پر ایسے افراد کو لگایا گیا جن کی ادبی قابلیت مشکوک تھی۔ ادارے کے اندر ایک خوف کی فضا قائم کی گئی۔ جو افسر اختلاف کرتا اسے سائیڈ لائن کر دیا جاتا۔

نتیجہ یہ ہے کہ اکادمی آج ایک زندہ ادارے کے بجائے ایک مردہ فائل خانہ بن چکی ہے۔اور ابھی میں رائٹرز ہاوس،نئے تعمیراتی کاموں پر الگ سے کالمز پر لکھوں گا کیونکہ نئے چیئرمین کی تعیناتی ابھی ہونی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بار کسی سفارشی افسر کے بجائے کسی حقیقی ادیب یا منتظم کو لگایا جائے۔ نیا چیئرمین جو بھی ہو، اس کے سامنے یہ تباہ شدہ ادارہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اسے سب سے پہلے احتساب کرنا ہوگا، پھر اصلاح

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions