!نہ چھیڑ اے نگہتِ بادِ بہاری

Table of Content

کالم نگار: ناز پروین

احساس

قلم تھامنے سے بہت پہلے، جب ہم ابھی ٹھیک سے بولنا بھی نہیں جانتے تھے، ہماری والدہ نے ہمیں پڑھنا سکھا دیا تھا۔ رات کو سلاتے سلاتے نہ جانے کب چھ کلمے، آیت الکرسی اور نماز ہماری ننھی سی یادداشت کا حصہ بن گئے، ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔ شاید اس زمانے میں موبائل فون نہیں تھے، سوشل میڈیا کی رنگینیاں تھیں اور نہ وقت کو نگل جانے والی بے شمار مصروفیات۔ سو، مائیں اپنا بیشتر وقت بچوں کی تربیت پر صرف کرتی تھیں اور گھر ہی بچوں کی پہلی درس گاہ ہوا کرتا تھا۔

اسکول میں داخلے سے پہلے ہی اردو اور انگریزی کے حروفِ تہجی نہ صرف یاد ہو چکے تھے بلکہ انہیں لکھنا بھی آ گیا تھا۔ اور وہ ابتدائی قاعدہ! اس کے نقوش تو آج بھی ذہن کے نہاں خانوں میں یوں محفوظ ہیں جیسے کل ہی کی بات ہو۔ ظ سے ظروف اور ط سے طوطا آج بھی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہیں۔ اسی قاعدے نے ہمیں حروف کی پہچان ہی نہیں کروائی تھی بلکہ ان کی آوازوں کے لطیف فرق سے بھی آشنا کیا تھا۔

ح کے مختلف تلفظ، ہ کی الگ شناخت اور پھر دو چشمی ھ! ہمارے لیے یہ محض حروف نہیں، ایک پوری دنیا تھی۔ حلوے والا ح، ہک والا ہ اور دو چشمی ھ، ہر ایک کی اپنی پہچان، اپنا مزاج اور اپنی آواز تھی۔ ان سب میں دو چشمی ھ ہمیں سب سے زیادہ دلچسپ لگتی تھی۔ کسی لفظ کے ساتھ لگ جاتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے وجود پر کوئی اضافی بوجھ رکھ دیا گیا ہو۔ بھ سے بھالو تو ہمیں بے حد پیارا لگتا تھا۔ والدہ ایک ایک لفظ کی شناخت کرواتیں، اس کی آواز نکال کر سمجھاتیں اور ہمیں بار بار دہرا کر یاد کرواتیں۔

اب سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری والدہ کی وہی کڑی تربیت آج ہماری مشکل کا سبب بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ہمیں الفاظ کی درست ادائیگی اور املا کا ایسا عادی بنا دیا کہ اب زبان کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی دل پر گراں گزرتی ہے۔

مانا کہ وقت کے ساتھ زبانیں بدلتی رہتی ہیں۔ الفاظ نئے معنی اختیار کرتے ہیں، لہجے تبدیل ہوتے ہیں اور اظہار کے طریقے بھی زمانے کے ساتھ اپنا رنگ بدلتے رہتے ہیں، لیکن اردو کے ساتھ تو کچھ زیادہ ہی ہاتھ ہو گیا ہے۔ انگریزی نے اس زبان پر ایسی یلغار کی کہ اب خالص اردو سننے کے لیے کان ترس جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اردو اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ گئی ہو۔

مصالحہ چینل، جو بالخصوص خواتین کی دلچسپی کا مرکز ہے، میں بڑے شوق سے دیکھتی ہوں۔ مگر وہاں نئی نسل کی باورچی ہوں یا شیریں انور جیسی سینئر میزبان، اردو اور انگریزی کا ایسا ملغوبہ پیش کیا جاتا ہے کہ کبھی کبھی دل چاہتا ہے عرض کروں کہ بی بی! پورا پروگرام ہی انگریزی میں کر لیجیے، کم از کم اردو کے ساتھ یہ سلوک تو نہ ہوگا۔

مثلاً:

’’فرائنگ پین میں آنین ڈال کر اسے ساؤٹے کر لیں، پھر گارلک، جنجر اور بلیک پیپر کرش کرکے ایڈ کر لیں۔‘‘

اب اسے اردو کہا جائے، انگریزی کہا جائے یا دونوں زبانوں کی مشترکہ حکومت؟ یقیناً کوئی انگریز یہ پروگرام دیکھ لے تو اسے سمجھنے میں چنداں دشواری نہ ہو، کیونکہ انگریزی کے اس طوفان میں اردو کا کوئی آدھ لفظ ہی بمشکل اپنی شناخت بچا پاتا ہے۔

خیر، بات تو چلی تھی حروف کی، سو واپس اسی طرف آتے ہیں۔ خصوصاً ح کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پہلوان کو پھلوان، بہار کو بھار، پہاڑ کو پھاڑ، سہارا کو سھارا، سہاگن کو سھاگن، جہاز کو جھاز، صحیح کو صھیح، بہاؤ کو بھاؤ، سہی کو سھی، ہوا کو ھوا اور دہشت کو دھشت لکھا جانے لگا ہے۔

اب کوئی ہمیں سمجھائے کہ جس لفظ کو ساری عمر ایک خاص انداز میں پڑھا، لکھا اور سیکھا ہو، اسے محض جدید املا کے نام پر بدلتا دیکھ کر ہم خاموش کیسے رہیں؟ ہمارے لیے تو ہر لفظ کے پیچھے ماں کی آواز ہے، قاعدے کا ایک صفحہ ہے اور بچپن کی ایک یاد ہے۔ ہم ان یادوں کو کیسے جھٹلا دیں؟

دو چشمی ھ کو ہی لے لیجیے۔ یہ جہاں مناسب جگہ پر لفظ کو درست صورت دیتی ہے، وہیں بلاوجہ کسی لفظ میں در آنے پر اس کی شکل و صورت بھی بدل دیتی ہے۔ مگر آج کل تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دو چشمی ھ نے اردو کے بہت سے الفاظ پر قبضہ جما لیا ہو اور اصل حروف اپنی ہی بستی میں بے گھر ہو گئے ہوں۔

رہی سہی کسر کمپیوٹر اور موبائل کے کی بورڈ نے پوری کر دی ہے۔ یہ آلات ہماری سہولت کے لیے بنائے گئے تھے، مگر بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے زبان کی اصلاح کا ٹھیکہ بھی اپنے سر لے لیا ہو۔ ہم کچھ لکھنا چاہتے ہیں، یہ کچھ اور لکھ دیتے ہیں۔ ہم ایک لفظ بولتے ہیں، یہ اپنی مرضی کا دوسرا لفظ کاغذ پر اتار دیتے ہیں۔ اور پھر اس تبدیلی سے معنی کا ایسا حلیہ بگڑتا ہے کہ آدمی سر پکڑ کر بیٹھ جائے۔

اردو کی بورڈ پر ٹائپ کرتے ہوئے، خصوصاً وائس ٹائپنگ کے دوران، ’’آ‘‘ اکثر غائب ہو جاتا ہے۔ آمد، امد بن جاتی ہے؛ آپ، اپ رہ جاتا ہے؛ آس، اس بن جاتی ہے اور آخر، اخر۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ جناب! الف تو اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کی یہ چھوٹی سی مد کہاں گئی؟ کیا اتنی سی علامت بھی آپ کے نظام پر بھاری ہے؟

اور ’’ؤ‘‘ کے ساتھ تو ہمارا ذاتی تجربہ کچھ زیادہ ہی تلخ ہے۔ جب بھی اپنا کالم ٹائپ کرکے بھیجتی ہوں، سب سے پہلے اسی حرف کی شامت آتی ہے۔ دباؤ سے دبا، تناؤ سے تنا، بہاؤ سے بہا، گاؤں سے گاں اور شرماؤں سے شرما بن جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی علامت غائب ہوتی ہے اور لفظ کا مفہوم کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔

جب کمپوزر سے شکایت کیجیے تو جواب ملتا ہے، ’’جی، کی بورڈ میں فرق ہے۔‘‘

اب بھلا ہم کیا کہیں؟ کی بورڈ میں فرق ہے تو کیا زبان میں بھی فرق ڈال دیا جائے؟ ٹیکنالوجی کی سہولت اپنی جگہ، مگر زبان کی درستی کی ذمہ داری بھی تو کسی پر عائد ہوتی ہے۔

ایک بار تو حد ہی ہو گئی۔ میں نے اپنے کالم میں لکھا کہ آج کل کی مائیں بچوں کو بہلانے کے لیے ٹی وی کے سامنے بٹھا دیتی ہیں۔ جب کالم چھپ کر آیا تو عبارت کچھ یوں تھی:

’’آج کل کی مائیں بچوں کو نہلانے کے لیے ٹی وی کے سامنے بٹھا دیتی ہیں۔‘‘

اب آپ ہی بتائیے کہ یہ کی بورڈ کی شرارت تھی، کمپوزر کی غفلت یا ہماری قسمت کا لکھا؟ میرے قارئین نے یہ فقرہ پڑھ کر کیا سوچا ہوگا؟ شاید کسی نے تصور ہی کر لیا ہو کہ نئی نسل کے گھروں میں بچوں کو ٹی وی کے سامنے بٹھا کر نہلانے کا کوئی جدید طریقہ بھی رائج ہو چکا ہے!

زبان کی یہ بے چارگی صرف حروف تک محدود نہیں۔ اعراب کا معاملہ بھی کچھ کم دل خراش نہیں۔ ہماری سہیلیاں سلمیٰ، لبنیٰ اور بشریٰ اپنے نام لکھواتے ہوئے کی بورڈ کی محتاج ہو گئی ہیں۔ وہ نام جو برسوں سے اپنی درست صورت میں لکھے جاتے رہے، اب سلمہ، لبنا اور بشرا بن کر سامنے آتے ہیں۔ کھڑی زبر لگانے کے لیے دوبارہ لفظ مٹاؤ، پھر لکھو اور پھر اعراب کی تلاش میں کی بورڈ کے مختلف گوشے چھانو۔

ہم تو اس خوف سے کبھی کبھی انہیں پیغام بھیجنے سے بھی گریز کرنے لگتے ہیں کہ کہیں نام کی صورت ہی نہ بگڑ جائے!

اسی طرح قطعاً، فوراً، یقیناً، خصوصاً اور مثلاً جیسے الفاظ میں دو زبر لگانے کی باری آئے تو کی بورڈ اکثر خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔ ہم درست لفظ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اپنی سہولت کے مطابق اس کی شکل بدل دیتا ہے۔

ہمارے انتہائی محترم حلقۂ اربابِ ذوق کو بھی یہ جدید ٹیکنالوجی معاف نہیں کرتی۔ ہم کچھ بھی لکھیں، کی بورڈ سن کر اسے ’’ہلکا اربابِ ذوق‘‘ بنا دیتا ہے۔ اب اس سے کیا گلہ کیجیے؟ حلقۂ اربابِ ذوق کی ادبی سنجیدگی اپنی جگہ، مگر کی بورڈ کے نزدیک شاید حلقہ ہلکا ہو تو لکھنے میں آسانی رہتی ہو!

اور ادبیاتِ اطفال کا قصہ بھی سن لیجیے۔ بار بار درست تلفظ کے ساتھ بولنے کے باوجود یہ اسے ’’ادویاتِ اطفال‘‘ لکھنے پر مصر رہتا ہے۔ گویا بچوں کے ادب کو بھی طب کی دنیا میں داخل کرکے ہی دم لے گا۔ اب کوئی اس سے پوچھے کہ بھئی، بچوں کے ادب کا علاج کون سی دوا سے کروانا چاہتے ہو؟

اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم رفتہ رفتہ زبان کے درست املا اور تلفظ سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے قلم اور تختی ہاتھ سے چھوٹی، پھر کاغذ اور قلم کا رشتہ کمزور پڑا، اس کے بعد کمپیوٹر اور موبائل پر ٹائپنگ شروع ہوئی اور اب وائس ٹائپنگ نے بھی ہماری جگہ سنبھال لی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری زبان ایک ایسے سفر سے گزر رہی ہے جس میں سہولتیں تو بڑھتی جا رہی ہیں، مگر لفظوں کی شناخت دھندلاتی چلی جا رہی ہے۔

لیکن شاید یہ بھی زمانے کا تقاضا ہے۔ آج کی نسل کے پاس اظہار کے نت نئے ذرائع ہیں۔ جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ کی جگہ ایموجیز نے لے لی ہے۔ خوشی ہو یا غم، ہنسی ہو یا طنز، محبت ہو یا نفرت، بھوک ہو یا حیرت، ہر جذبے کے لیے ایک الگ علامت موجود ہے۔ اب بھلا انہیں حلوے والے ح، ہک والے ہ اور دو چشمی ھ کے درمیان فرق سمجھنے کی فرصت کہاں؟

ایک مسکراتا ہوا چہرہ بھیج کر بات ختم کی جا سکتی ہے۔ نہ املا کی فکر، نہ تلفظ کی الجھن، نہ اعراب کی تلاش۔ لفظوں کی پوری دنیا چند تصویروں میں سمٹ آئی ہے۔ شاید اسی لیے ہماری نئی نسل لفظوں کے پیچ و خم سے آزاد ہوتی جا رہی ہے۔

مجھے یاد ہے، کالج کے زمانے میں ہماری اردو کی استانی خود اردو بولتے ہوئے انگریزی کے الفاظ کا بے دریغ استعمال کرتی تھیں۔ اس وقت بھی اردو میں انگریزی کی آمیزش کو فیشن سمجھا جاتا تھا۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ جس زبان کی تدریس کی ذمہ داری ایک استانی کے سپرد ہے، اسی زبان کے ساتھ وہ خود کتنی بے اعتنائی برت رہی ہیں۔ مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ تو محض ابتدا تھی۔ انگریزی کی یلغار کے بعد کمپیوٹر اور موبائل کے کی بورڈ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔

اور پھر رومن اردو! اس کا تو ذکر ہی کیا کیجیے۔ اب تو اپنے ہی لوگوں کے پیغامات پڑھنے کے لیے بھی کبھی کبھی انگریزی کے حروف کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

Shayad koi sun lay faryad…

Pata nahi kab aye gi.

Light nay tu bohat tang kiya huwa hay.

یہ چند جملے ابھی حال ہی میں اپنے پڑوسیوں کے گروپ میں پڑھنے کو ملے۔ اردو کے الفاظ، انگریزی کے حروف اور اظہار کا ایک ایسا انداز جس میں زبان تو ہماری ہے، مگر اس کا لباس بدل چکا ہے۔ یہی صورتِ حال پشتو کے پیغامات میں بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں رومن حروف میں پشتو لکھی جاتی ہے۔ البتہ اس کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ ہمیں رومن پشتو پڑھتے پڑھتے پشتو پڑھنی آ گئی!

اب اس تبدیلی کو مکمل طور پر رد کرنا بھی شاید ممکن نہیں۔ زبان زندہ ہو تو اس میں تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ نئی نسل اپنے اظہار کے لیے نئے راستے اختیار کرتی ہے اور ٹیکنالوجی ان راستوں کو مزید آسان بنا دیتی ہے۔ مسئلہ تبدیلی کا نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تبدیلی کے نام پر زبان کی بنیادی شناخت ہی مجروح ہونے لگے۔ جدید ذرائع سے فائدہ اٹھانا یقیناً ضروری ہے، مگر اپنی زبان کے درست املا، تلفظ اور اس کی خوب صورتی کو محفوظ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

آخر اردو محض حروف کا مجموعہ تو نہیں۔ یہ ہماری تہذیب، ہماری یادوں، ہمارے رشتوں اور ہماری شناخت کی امین ہے۔ اس کے ہر لفظ میں ایک تاریخ سانس لیتی ہے، ہر محاورے میں ایک روایت پوشیدہ ہے اور ہر درست تلفظ کے پیچھے صدیوں کا لسانی سفر موجود ہے۔ اگر ہم نے سہولت کے نام پر اس کے لفظوں کی شکلیں بدلنے دیں، تو ایک دن شاید ہمیں اپنی ہی زبان کے اصل چہرے کو پہچاننے کے لیے کسی پرانے قاعدے کی ورق گردانی کرنا پڑے۔

سو، اب ہمیں گلھری، پھاڑ، بھارو پھول برسا، ’’ھنس ھنس کے سھیں گے ھم‘‘ اور پھلوان کی دکان جیسے شاہکاروں کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا۔ اپنی والدہ کے سکھائے ہوئے سبق کو تھپتھپا کر سلانا ہوگا اور اپنے دل کو یہ تسلی دینا ہوگی کہ نئے زمانے کے نئے رنگ ہیں۔ ہم دو چشمی ھ کی حفاظت میں لگے ہیں اور زمانہ رومن اردو کے راستے پر دوڑا چلا جا رہا ہے۔

پھر بھی دل کے کسی گوشے میں امید کا ایک چراغ روشن ہے کہ شاید کوئی ہماری فریاد سن لے۔ شاید کوئی زبان کے اس بکھرتے ہوئے حسن کو سمیٹنے کی کوشش کرے۔ شاید کوئی نئی نسل کو یہ سمجھا سکے کہ زبان کی ترقی اس کی اصل شناخت مٹا دینے کا نام نہیں۔

اور اگر کوئی ہماری بات سننے پر آمادہ نہ ہو تو پھر ہم بھی کیا کریں؟

بس اپنی والدہ کے سکھائے ہوئے قاعدے کو سینے سے لگائیں، حلوے والے ح، ہک والے ہ اور دو چشمی ھ کو یاد کریں اور زمانے کی اس تیز رفتار تبدیلی کو دیکھتے ہوئے زیرِ لب یہی کہیں:

نہ چھیڑ اے نگھتِ بادِ بھاری، راہ لگ اپنی!

انشاءاللہ خان انشاء سے معذرت کے ساتھ!

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions