کالم نگار : وقاص عزیز
بھارت جب میدان جنگ میں شکست کھاتا ہے تو کیمرہ اٹھا لیتا ہے۔ یہ اس کی پرانی عادت ہے۔ 1965 سے لے کر 2025 تک کی ہر جنگ میں جب بھارتی فوج کو پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی، تو دہلی نے اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے ممبئی کا سہارا لیا۔ نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی نئی بھارتی سیریز “سفید ساگر” اسی شکست خوردہ ذہنیت کی تازہ ترین اور سب سے بھونڈی مثال ہے۔
اس سیریز میں دو بڑے جھوٹ انتہائی ڈھٹائی سے پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا جھوٹ کارگل جنگ 1999 کی تاریخ کو مسخ کرنا اور دوسرا جھوٹ جنرل پرویز مشرف کی ذات اور پاک فوج کے ادارے پر حملہ کرنا۔ اور اس سے بھی بڑا جھوٹ یہ ہے کہ پاک فضائیہ کے کردار کو مکمل طور پر غائب کر دیا گیا ہے، کیونکہ اگر پاک فضائیہ کی تاریخ دکھا دی گئی تو بھارت کا سپر پاور کا سارا بھرم ٹوٹ جائے گا۔
دوستو! سفید ساگر میں کارگل کو یوں دکھایا گیا ہے جیسے پاکستان نے چھپ کر حملہ کیا اور بھارت کی بہادر فوج نے اسے بھگا دیا۔ یہ کہانی سن کر وہ شخص بھی ہنس پڑے گا جو فوجی تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کارگل پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کی ایک شاندار مثال تھی۔ چند سو جانبازوں نے دنیا کی دوسری بڑی فوج کو 84 دن تک دنیا کے بلند ترین محاذ پر روکے رکھا۔ بھارتی فوج اپنی ہی چوٹیاں واپس لینے میں ناکام ہو گئی۔ اس وقت کے بھارتی اخبارات خود گواہ ہیں۔ انڈیا ٹوڈے نے لکھا تھا کہ بھارتی فوجیوں کی لاشیں ہفتوں تک برف میں پڑی رہیں اور دہلی میں کہرام مچا ہوا تھا۔ بھارتی جنرل وی پی ملک نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا کہ پاکستانی فورسز کب آئیں اور کہاں بیٹھ گئیں۔ یہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں را اور آئی بی کی بدترین ناکامی تھی۔
سوال یہ بنتا ہے کہ اگر یہ دراندازی تھی تو بھارتی فوج کہاں سو رہی تھی؟ 740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول پر بھارت اربوں روپے کا دفاعی بجٹ لگاتا ہے، سیٹلائٹ رکھتا ہے، میزائل رکھتا ہے، پھر کیسے چند سو لوگ اس کی آنکھوں کے سامنے آ کر بیٹھ گئے؟ اس سوال کا جواب بھارت کے پاس آج تک نہیں ہے، اس لیے وہ اس سوال کو فلموں کے شور میں دبانا چاہتا ہے۔
سفید ساگر میں یہ بھی نہیں دکھایا گیا کہ کارگل جنگ کا خاتمہ فوجی شکست سے نہیں بلکہ سیاسی فیصلے سے ہوا۔ اس کے وقت کے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف واشنگٹن گئے اور جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اگر پاک فوج کو کھلی اجازت ہوتی اور پاک فضائیہ مکمل طور پر اس جنگ میں شامل ہوتی تو آج کارگل کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ بھارت کارگل کی جنگ کو فوجی محاذ پر نہیں جیت سکا تھا۔سفارتی محاذ پر جیتنا ملا نصیر الدین والا جیتنا ہوتا ہے
اس سیریز کا سب سے زہریلا حصہ جنرل پرویز مشرف کی کردار کشی ہے۔ انہیں ایک جنگی جنونی، غیر ذمہ دار اور مہم جو شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ صرف ایک شخص کی توہین نہیں، یہ پاک فوج کے پورے ادارے پر حملہ ہے۔
جنرل پرویز مشرف کوئی فلمی کردار نہیں تھے۔ وہ ایک سچے سپاہی تھے۔ 1965 کی جنگ میں ایک نوجوان لیفٹیننٹ کے طور پر انہوں نے لاہور کے محاذ پر بہادری دکھائی، 1971 میں کمانڈو ایکشن میں حصہ لیا، سیاچن کے محاذ پر برسوں خدمات انجام دیں۔ دشمن بھی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا معترف تھا۔ امریکی جنرل انتھونی زن نے انہیں “ایک بہترین حکمت عملی ساز” کہا تھا۔
پاک فوج میں کوئی بھی جنگ کسی ایک جرنیل کی ذاتی خواہش پر نہیں لڑی جاتی۔ یہ ایک مکمل ادارہ جاتی فیصلہ ہوتا ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کی بریفنگ کے بعد کوئی آپریشن ہوتا ہے۔ کارگل بھی ایک ادارہ جاتی فیصلہ تھا۔ بھارت جان بوجھ کر اسے “مشرف کی جنگ” کہتا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ پاک فوج کا نہیں بلکہ ایک شخص کا فیصلہ تھا۔ یہ وہی پرانی چال ہے کہ شخصیت کو متنازعہ بنا کر ادارے کو کمزور کرو۔
آج جب جنرل مشرف اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کی غیر موجودگی میں ان پر فلم بنا کر حملہ کرنا بزدلی ہے۔ زندہ قومیں اپنے جرنیلوں کی عزت کرتی ہیں، چاہے ان سے سیاسی اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
سفید ساگر میں سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ اس میں پاک فضائیہ کا ذکر تک نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ پاک فضائیہ وہ واحد حقیقت ہے جس نے ہمیشہ بھارت کے عددی اور تکنیکی برتری کے غرور کو خاک میں ملایا ہے۔ اگر پاک فضائیہ کی تاریخ دکھا دی جائے تو بھارت کی کوئی بھی فلم نہیں چلے گی-
1965 کی جنگ پاک فضائیہ کی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے جسے دنیا کی ہر ایئر فورس آج بھی پڑھاتی ہے۔ جنگ کے آغاز پر بھارت کے پاس 550 جنگی جہاز تھے، ہمارے پاس صرف 130۔ بھارت کو اپنی تعداد پر ناز تھا۔
لیکن 6 ستمبر کی صبح پاک فضائیہ نے پٹھانکوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ پر حملہ کر کے زمین پر کھڑے بھارت کے 13 جہاز تباہ کر دیے۔ اسی شام سرگودھا پر بھارت نے حملہ کیا تو اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نے تاریخ رقم کر دی۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں، ایک ہی جھپٹ میں بھارتی فضائیہ کے 5 ہنٹر طیارے مار گرائے۔ یہ ریکارڈ آج تک دنیا میں کوئی نہیں توڑ سکا۔ اس جنگ میں ایم ایم عالم نے کل 9 شکار کیے۔
غیر جانبدار امریکی ذرائع کے مطابق اس جنگ میں بھارت کے 104 سے 110 جہاز تباہ ہوئے جبکہ پاک فضائیہ کا نقصان صرف 19 جہازوں کا تھا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل چودھری نے اس وقت کہا تھا کہ “پاک فضائیہ نے ہمیں دھوکہ دیا، ہم سمجھے تھے وہ چند گھنٹوں میں ختم ہو جائے گی”۔ یہ ہے وہ سچ جو بھارت کبھی فلم میں نہیں دکھائے گا۔
کارگل میں پاک فضائیہ نے ایل او سی کراس نہیں کی، یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ لیکن پاکستانی فضائی حدود میں پاک فضائیہ نے ایسی دیوار کھڑی کی کہ بھارتی فضائیہ 32,000 فٹ سے نیچے آنے کی ہمت نہیں کر سکی۔ وہ اندھا دھند بمباری کرتی رہی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
اسی دوران پاک فوج کے ائیر ڈیفنس نے بھارتی فضائیہ کے دو جنگی جہاز، ایک MiG-27 اور ایک MiG-21، اور ایک Mi-17 ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ بھارتی فضائیہ کی کارکردگی پر خود بھارتی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھائے کہ اربوں روپے کے بم گرائے گئے لیکن اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ اگر پاک فضائیہ کو اس وقت کھلی چھوٹ ہوتی تو کارگل میں بھارتی فضائیہ کا حشر 1965 سے بھی برا ہوتا۔
یہ وہ رات تھی جس نے جنوبی ایشیا میں فضائی جنگ کی تاریخ بدل دی۔ بھارت نے اپنی سب سے بڑی خریداری، فرانسیسی رافیل طیاروں پر بھروسہ کر کے پاکستان پر حملے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈیا نے رافیل کو “گیم چینجر” کہا تھا۔لیکن پاک فضائیہ نتائج چینجر ثابت ہوئی
6 اور 7 مئی کی رات بھارت نے رافیل، Su-30MKI اور Mirage 2000 کے ساتھ حملہ کیا۔ پاک فضائیہ پہلے سے تیار تھی۔ پاک فضائیہ نے چینی ساختہ J-10C Vigorous Dragon، JF-17 Thunder Block-3 اور PL-15 لانگ رینج میزائل کا جال بچھایا ہوا تھا۔
نتیجہ دنیا نے دیکھا۔ پاک فضائیہ نے BVR یعنی Beyond Visual Range جنگ میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ دنیا حیران رہ گئی۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس ایک رات میں:
– 3 رافیل طیارے مار گرائے گئے
– 1 Su-30 MKI تباہ ہوا
– 1 MiG-29 UPG تباہ ہوا
– 1 Mirage 2000 تباہ ہوا
کل 6 بھارتی جنگی جہاز گرے۔ فرانسیسی انٹیلی جنس نے خود ایک رافیل گرنے کی تصدیق کی، جبکہ Reuters اور BBC جیسے عالمی اداروں نے بھی 2 سے 3 جہاز گرنے کی خبر دی۔
یہ کیسے ہوا؟ اصل فرق ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کا تھا۔ بھارت کے پاس مہنگا جہاز تھا، پاکستان کے پاس بہتر میزائل اور بہتر حکمت عملی تھی۔ PL-15 میزائل کی رینج 200 کلومیٹر ہے جبکہ بھارتی Meteor کی رینج 150 کلومیٹر ہے۔ پاک فضائیہ نے SAAB-2000 AWACS اور ڈیٹا لنک سسٹم سے نیٹ ورک سینٹرک جنگ لڑی۔ بھارتی پائلٹس کو پتہ بھی نہیں چلا کہ میزائل کہاں سے آیا اور وہ کب لاک ہو گئے۔
1965 میں ایم ایم عالم نے گن سے 5 جہاز ایک منٹ میں گرائے تھے، 2025 میں پاک فضائیہ نے میزائل سے 6 جہاز ایک رات میں گرا کر اسی روایت کو دہرایا۔ یہی وہ تسلسل ہے جو پاک فضائیہ کو دنیا کی بہترین فضائیہ بناتا ہے۔
اب میرا سوال نیٹ فلکس سے بنتا ہے۔ نیٹ فلکس خود کو غیر جانبدار کہتا ہے لیکن پچھلے 5 سال میں اس نے بھارت میں پاکستان مخالف مواد کی ایک پوری فیکٹری لگا دی ہے۔ کبھی دہلی فسادات پر یکطرفہ ڈاکومنٹری، کبھی کشمیر پر بھارتی بیانیہ، اور اب کارگل پر جھوٹ۔
کیا نیٹ فلکس بھارتی مارکیٹ کے 100 ملین سبسکرائبرز کے لیے اپنا ضمیر بیچ چکا ہے؟ ایک عالمی پلیٹ فارم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دونوں فریقوں کا موقف دکھائے۔ اگر کارگل پر سیریز بنانی تھی تو پاکستانی جرنیلوں، پاکستانی شہداء کے خاندانوں اور عالمی مبصرین کو بھی شامل کیا جاتا۔ لیکن سفید ساگر میں پاکستان کا نام تک ایک جنگی جنونی ملک بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ آزادی اظہار نہیں، یہ نفرت کا کاروبار ہے۔
ایسی سیریز جنوبی ایشیا میں نفرت کی خلیج کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ جب بھارتی نوجوان ایسی فلمیں دیکھے گا تو وہ سمجھے گا کہ پاکستان دشمن ہے، اور جب پاکستانی نوجوان دیکھے گا تو اس کے دل میں بھی نفرت پیدا ہوگی۔ کیا نیٹ فلکس امن چاہتا ہے یا نفرت بیچ کر پیسہ کمانا چاہتا ہے؟
دوسری جانب حکومت پاکستان، دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات نیٹ فلکس کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ بھیجے اور اس سیریز کے جھوٹ پر مبنی مواد کی نشاندہی کرے۔ یہ مطالبہ کرے کہ پاکستانی موقف بھی اسی پلیٹ فارم پر دکھایا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنا بیانیہ خود بنانا ہوگا۔ پی ٹی وی، آئی ایس پی آر اور نجی پروڈکشن ہاؤسز مل کر کارگل، 1965 اور 2025 کی جنگوں پر عالمی معیار کی ڈاکومنٹری سیریز بنائیں۔ ہمارے پاس شہداء کے خاندان ہیں، غازی موجود ہیں، ایم ایم عالم جیسے ہیروز کی داستانیں ہیں۔ دنیا سچ سننا چاہتی ہے۔ ہم کیوں ہمیشہ دفاعی پوزیشن میں رہتے ہیں؟
تیسرا اور سب سے اہم کام اپنی نوجوان نسل کو سچ بتانا ہے۔ آج کا نوجوان نیٹ فلکس دیکھتا ہے۔ اگر ہم اسے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنی تاریخ نہیں بتائیں گے تو وہ سفید ساگر جیسے جھوٹ کو ہی سچ سمجھ لے گا۔
فلموں سے جنگیں نہیں جیتی جاتیں۔ اگر فلموں سے جنگیں جیتی جاتیں تو آج بھارت سپر پاور ہوتا کیونکہ اس نے پاکستان کے خلاف ماضی میں بے شمار فلمیں بنائی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میدان جنگ میں ہمیشہ پاک فوج اور پاک فضائیہ کا لوہا مانا گیا ہے۔ 2019 میں ابھینندن کی چائے ہو یا 2025 میں رافیل کا ملبہ، دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان زندہ قوم ہے۔
سفید ساگر ایک سیریز نہیں، ایک شکست خوردہ ذہنیت کا نام ہے۔ اور شکست خوردہ ذہنیت کبھی تاریخ نہیں بدل سکتی۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔
About The Author
Muhammad Mubbashir Rauf
Mubbashir Rauf is the WEB EDITOR of Click Pakistan. He can be reached at mmubbashirrauf@gmail.com.













