بلوچستان پر حکومت اور فوج کا ”سیم پیج“۔یہی ”سوچ“ اور ”اپروچ“ چاہئے

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم کا عنوان: قلم کہانی
تحریر:سید صداقت علی شاہ

آؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، گولی کسی مسئلے کاحل نہیں، مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا جواز نہیں،پاکستان اور بلوچستان کا حال اور مستقبل ہمیشہ ایک رہے گا۔جو اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں، انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ بلوچستان کی ترقی کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے۔ اسی ”سوچ“ اور ”اپروچ“ کی ضرورت ہے۔ حکومت اور فوج نے ساتھ مل کر قدم بڑھا لیے ہیں۔ اب سازشیوں کی، سہولت کاروں کی، دہشت گردوں کی خیر نہیں۔
پاکستان میں جمعہ 21اگست 2026کا دن بلوچستان کے نام رہا۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کیا۔ اس ورکشاپ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی، بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عمائدین نے شرکت کی۔ اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شرکا کے سوالات سنے اور براہ راست ان کے جواب بھی دیئے۔ وزیراعظم نے ورکشاپ سے خطاب میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ”بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے فتنہ الخواج اور دشمن ممالک سے وسائل حاصل کرنے والے گھس بیٹھیے ہیں۔ حکومت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن این 25شاہراہ تعمیر کررہی ہے۔ 415ارب روپے کا منصوبہ وفاق نے دیا، یہ چاروں صوبوں کے عوام کا پیسہ ہے جو بلوچستان پر لگا رہے ہیں، یہ سب کچھ بلوچستان کے عوام کیلئے ہے“۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صاف کہا کہ ”مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں، ماضی میں جو ہو گیا سو ہو گیا، اب مسائل کو سامنے رکھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوں گے، اگر ہماری بیٹیاں اور بیٹے اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں تو انہیں خوش آمدید کہنا چاہئے“۔
جمعے کے بابرکت دن ہی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ”پاکستان اور بلوچستان کا حال اور مستقبل ہمیشہ ایک رہے گا، دشمن کے عزائم فیصلہ کن کارروائی سے ناکام بنائیں گے۔ دشمن کے پراپیگنڈے کا جامع اور بلاجھجک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان اور اس کے عوام کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور امنگوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان باصلاحیت،ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے۔فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے، اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے اور ریاست وعوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ دشمن کے یہ عزائم قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیرمتزلزل، پرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے ناکام بنائے جائیں گے“۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز شخصیات اور سماجی رہنماؤں کے امن کے فروغ، سماجی ہم آہنگی کے استحکام اور تعمیری قومی مکالمے کو آگے بڑھانے میں کردار کو سراہا۔
گرینڈ ڈائیلاک اور قومی مکالمہ۔بلوچستان میں آج جتنی ضرورت اس چیز کی ہے، ماضی میں شاید کبھی نہ رہی ہو۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سول حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس اہم معاملے پر ”سیم پیج“ پر ہے۔ یہی اتفاق اور اتحاد دشمن کو کھٹکتا ہے۔ دشمن نے بلوچستان کے سینے پر بہت زخم لگائے ہیں اور وہ کسی صورت نہیں چاہتا کہ بلوچستان میں امن ہو۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ حکومت اور فوج نے مل کر اب دہشت گردوں کا راستہ روک دیاہے۔
بلوچستان ہمارے لیے کتنا اہم ہے، اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت نے اپنا سارا فوکس بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی طرف رکھا ہوا ہے۔ بلوچستان کے 22ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ 70ارب روپے کے شمسی منصوبے میں 40ارب روپے وفاق نے خرچ کیے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر وفاق نے فنڈنگ میں 100فیصد اضافہ کیا۔ پنجاب نے 11ارب روپے سالانہ بلوچستان کو فراہم کیے۔بلوچستان کے 9اضلاع میں دانش سکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کیلئے 200ارب جبکہ پنجاب کیلئے 70ارب روپے رکھے گئے۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں بلوچستان میں 650کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی گئیں۔
یہ حکومت کے چند وہ کام ہیں جو فوری فوری گنوائے اور بتائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں جو کردار ادا کر رہی ہے، وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بات صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ سول حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اب یہ تہیہ کر لیا ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی طرف اب اٹھنے والے ہر ہاتھ کو توڑ دیا جائے گا۔ یہی وہ عزم اور سمت ہے، جس کی ضرورت تھی، ہے اور آگے بھی رہے گی۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے اپنی گفتگو اور اقدامات سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان واقعی پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اور یہ مٹھی بھر دہشت گرد اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
گولی کسی مسئلے کاحل نہیں، مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا جواز نہیں،پاکستان اور بلوچستان کا حال اور مستقبل ہمیشہ ایک رہے گا۔جو اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں، انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ بلوچستان کی ترقی کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے۔ اسی ”سوچ“ اور ”اپروچ“ کی ضرورت ہے۔ حکومت اور فوج نے ساتھ مل کر قدم بڑھا لیے ہیں۔ اب سازشیوں کی، سہولت کاروں کی، دہشت گردوں کی خیر نہیں۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions