کالام کی حسین وادی میں پہلا دو روزہ نسلِ نو ادبی میلہ

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

سخن فاؤنڈیشن اور انجمنِ کوہِ ادب کے زیرِ اہتمام ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا خوبصورت انعقاد

رپورٹ: ناز پروین

کالام کی حسین، پُرسکون اور دل فریب وادی میں سخن فاؤنڈیشن اور انجمنِ کوہِ ادب کے زیرِ اہتمام پہلا دو روزہ نسلِ نو ادبی میلہ منعقد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے نامور ادبی شخصیات، شعراء، ادیبوں، دانشوروں اور نوجوان نسل کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ ادبی میلہ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا، جس میں ادب، شاعری، قدرتی حسن اور مقامی ثقافت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔
ادبی میلے کا انعقاد کالام کے خوبصورت حجرہ ہوٹل میں کیا گیا۔ اپنی منفرد طرزِ تعمیر کے باعث حجرہ ہوٹل واقعی ایک روایتی حجرے کا منظر پیش کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی ثقافت اور روایتی مہمان نوازی کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ دریائے سوات کے کنارے بلند و بالا پہاڑوں میں گھرا ہوا یہ مقام، سرسبز درختوں، رنگ برنگے پھولوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ادبی میلے کے لیے ایک مثالی منظر پیش کر رہا تھا۔
ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مہمان وقتاً فوقتاً حجرہ ہوٹل پہنچتے رہے، جہاں منتظمین نے روایتی گرمجوشی اور محبت کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ مہمانوں کی میزبانی اور ادبی سرگرمیوں کے انتظامات میں سخن فاؤنڈیشن کے چیرمین وقاص عزیز جبکہ انجمنِ کوہِ ادب کے بانی سربراہ آفتاب عالم تاب، صدر خضر حیات خضر اور سیکرٹری علی محمد خان پیش پیش تھے۔
دو روزہ ادبی میلے میں مختلف ادبی نشستوں، مذاکروں، مشاعروں اور فکری پروگراموں کا اہتمام کیا گیا۔ ان نشستوں میں اردو ادب کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں مطالعے، تخلیقی صلاحیتوں اور ادبی ذوق کے فروغ پر گفتگو کی گئی خاص کر مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے اردو ادب اور صحافت پر بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی بحث کی گئی ۔ نوجوان شعراء اور ادیبوں کو بھی اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جس سے میلے میں نسلِ نو کی بھرپور نمائندگی دیکھنے میں آئی۔
ادبی میلے کے شرکاء میں محمد حمید شاہد، ارشد معراج ،ناصر علی سید، جہانگیر عمران، باقر وسیم قاضی، افشاں عباسی ، محمد علی نیاز ،عامر ڈھڈی، عاشق حسین عاشق ،ذیشان مہدی ، فرمان علی خیال ، حسین ظہیر راجہ ، ڈاکٹر تحسین بی بی ، امتیاز اے قریشی ،ناز پروین ، ڈاکٹر شاہدہ سردار، عتیق الرحمٰن ،راج محمد آفریدی ، شاہ محمود مہمند ، راج ولی ، اویس قرنی وقاص عزیز ،علی محمد خان ،آفتاب عالم، خضر حیات خضر، فیاز وردگ ،عمر حیات ،اسامہ جمشید ،نثار دانش، شہلان نصیب،سجاد گل ، سردار شجاعت اور دیگر شاعر اور ادیب شامل تھے ۔
میلے کا آغاز ایک خوبصورت افتتاحی تقریب سے ہوا۔سخن فاؤنڈیشن کے چیرمین وقاص عزیز صاحب نے ابتدائیہ پیش کیا جبکہ نظامت محمد علی نیاز نے کی ۔صدارتی پینل میں حمید شاہد، ناصر علی سید ،ڈاکٹر عاشق حسین عاشق ،ڈاکٹر تحسین بی بی، ڈاکٹر نثار دانش اور ناز پروین شامل تھے ۔محمد علی نیاز نے نظامت کے دوران خوبصورت منتخب اشعار سنا کر حاضرین سے داد وصول کی ۔پہلے دن کے سیشنز میں جدید اردو فکشن کا بیانیہ اور قاری ،بیاد احمد فراز ،بچوں کا ادب اور ہماری ترجیحات پر سینیئر دانشورو شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے نمائندوں نے بھی بھرپور حصہ لیا ۔شہلان نصیب کے شعری مجموعے“ بعض اوقات “اور سجاد گل کے ناول“ مرشد “کی تقریب پذیرائی بھی منعقد ہوئی ۔ادبی میلے کا ماحول اس وقت مزید رنگین ہو گیا جب خوش گلو عاشق حسین عاشق ،ڈاکٹر اویس قرنی اور سردار شجاعت نے خوبصورت غزلیں سنا کر حاضرین سے داد وصول کی ۔

مشاعروں کی محفلیں اس ادبی میلے کا خصوصی حسن تھیں۔ جب شعراء نے کالام کی حسین وادی، دریائے سوات کی روانی، پہاڑوں کی بلندی اور فطرت کے رنگوں کے درمیان اپنے اشعار پیش کیے تو ماحول ایک خوبصورت شعری کیفیت میں ڈھل گیا۔پہلے دن پشتو مشاعرے جب کہ دوسرے دن اردو مشاعرے کا اہتمام تھا ۔

ادبی میلے کے پہلے دن شام ڈھلے پشتو مشاعرے کا انعقاد ہوا ۔جس کی صدارت محمد حنیف قیس جب کہ نظامت کے فرائض نوجوان شاعر ارباز احساس نے انجام دیے ۔ڈاکٹر شاہدہ شاہین سردار، زبیر آفریدی، عطاء الرحمن عطا سمیت شعراء کی بڑی تعداد مشاعرے میں شریک ہوئی اور اپنا کلام سنا کر داد تحسین وصول کرتے رہے ۔یخ بستہ ہواؤں اور جھلملاتی روشنیوں کے درمیان شعرا اپنی خوبصورت شاعری کے رنگ بکھیرتے رہے۔اس موقع پر حاضرین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔شعر و شاعری کی یہ محفل رات گئے تک جاری رہی ۔
ادبی میلے کے دوسرے دن 21کیسویں صدی کی اردو غزل رجحانات اور مستقبل ،نئی نظم کے موضوعات اور ہمارا نقاد ،فکشن کے پورے آدمی سے مکالمہ ،اور سوشل میڈیا اور اے آئی کی موجودگی میں اردو صحافت کا مستقبل پر سیشنز کا انعقاد ہوا ۔جس میں صدارتی پینل کے ساتھ ساتھ حاضرین نے بھی بھرپور شرکت کی اور ان موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ادبی میلے کے اختتام پر اردو مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ۔جس کی صدارت عمران علی خیال جبکہ نظامت علی نیاز نے کی ۔ ڈاکٹر شاہدہ شاہین سردار وقاص عزیز، ذیشان مہدی ،فرمان علی خیال ،ارباز باغی، عامر ڈھڈی ،شہلان نصیب، عاشق حسین عاشق ،علی محمد خان، آفتاب عالم تاب کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں شعرائے کرام نے شرکت کی ۔حاضرین نے اردو مشاعرے میں بے حد دلچسپی لی اور شعراۓ کرام کے عمدہ کلام پر دل کھول کر داد دیتے رہے۔آسمان پر چمکتے چاند کی روشنی اور پہلو میں بہتے دریائے سوات کی مست لہروں کے سنگ یہ مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا ۔
شعر و سخن کی ان محفلوں میں سینئر ادیبوں کے تجربات اور نوجوان شعراء کے جوش و جذبے نے ایک خوبصورت ادبی ربط پیدا کیا۔
اس موقع پر یہ احساس بھی اجاگر ہوا کہ ادب صرف شہروں کے ادبی مراکز تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے خوبصورت اور دور دراز علاقوں میں بھی ادبی سرگرمیوں کو فروغ دے کر نئی نسل کو کتاب، شعر، فکر اور تخلیق سے جوڑا جا سکتا ہے۔ کالام جیسے سیاحتی مقام پر ادبی میلے کا انعقاد نہ صرف ادبی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنا بلکہ اس نے وادی کے قدرتی حسن اور مقامی ثقافت کو بھی ادبی دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
سخن فاؤنڈیشن کے وقاص عزیز ، انجمن کوہ ادب کے بانی سربراہ آفتاب عالم تاب، صدر خضر حیات خضر اور سیکرٹری علی محمد خان نے میزبانی کا بھرپور حق ادا کیا ۔آفتاب عالم تاب اور علی محمد خان انفرادی طور پر ہر مہمان کے آرام ،رہائش اور ضروریات کا خیال رکھتے رہے ۔
نسلِ نو ادبی میلے کی سب سے خوبصورت بات یہی تھی کہ یہاں ادب اور فطرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آئے۔ پہاڑوں کی خاموشی، دریائے سوات کی مدھم آواز، ٹھنڈی ہواؤں، سبزہ زاروں اور پھولوں کے درمیان ہونے والی ادبی گفتگو اور مشاعروں نے شرکاء کے لیے ایک یادگار تجربہ رقم کیا۔
سخن فاؤنڈیشن اور انجمنِ کوہِ ادب کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس نے ملک بھر کے ادیبوں اور شعراء کو ایک خوبصورت اور پُرفضا مقام پر اکٹھا کیا اور نوجوان نسل کو ادبی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ نسلِ نو ادبی میلے کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور کالام سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر خوبصورت علاقوں میں ادب، ثقافت اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔
کالام سے واپسی پر شرکاء اپنے ساتھ صرف اس وادی کے حسین مناظر کی یادیں ہی نہیں بلکہ شعر و ادب کی ان خوبصورت محفلوں کی خوشبو بھی لے کر روانہ ہوئے، جہاں قدرت کے حسن
اور سخن کی روشنی نے مل کر ایک یادگار ادبی منظر تخلیق کیا۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions