کالم نگار: وقاص عزیز
مری… پہاڑوں کی ملکہ، بادلوں کا مسکن، چیڑ کے جنگلوں میں بسی وہ وادی جسے قدرت نے حسن بخشا اور حالات نے آزمائشوں میں ڈالا۔ یہاں کی ہر صبح دھند اوڑھ کر آتی ہے اور ہر شام برف کی چادر تان لیتی ہے۔ لیکن اس حسن کے پیچھے انتظامی مشکلات کا ایک پہاڑ بھی کھڑا ہے۔ ایک چھٹی پر لاکھوں سیاح، ایک برف باری پر بند سڑکیں، ایک لینڈ سلائیڈنگ پر معطل زندگی۔ ایسے شہر کو وہ قائد چاہیے جو دفتر کی دیواروں سے نکل کر میدان میں اترے۔ آغا ظہیر عباس شیرازی اسی قبیل کے منتظم ہیں۔
جب آغا صاحب نے مری کا چارج سنبھالا تو مری کو ضلع بنے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ ضلع کا نوٹیفکیشن ہو چکا تھا، مگر زمینی حقیقت یہ تھی کہ ضلع صرف کاغذ پر تھا۔ عمارتیں نہیں تھیں، عملہ پورا نہیں تھا، دفاتر بکھرے ہوئے تھے، سسٹم بننا باقی تھا۔ ایک نومولود ضلع کو ماں کی گود کی طرح توجہ چاہیے تھی۔ ایسے کڑے وقت میں آغا ظہیر عباس شیرازی نے اس نومولود ضلع کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
آپ اندازہ کیجیے، ضلع بننے کے بعد ابتدائی دنوں میں ڈپٹی کمشنر مری کے پاس مکمل سیٹ اپ نہیں تھا۔ کئی محکموں کے ضلعی افسران تعینات نہیں تھے، ریکارڈ راولپنڈی سے منتقل ہونا باقی تھا، کنٹرول روم کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا۔ عوام ضلع بننے کی خوشی تو منا رہے تھے مگر ان کے مسائل حل کرنے والا نظام ابھی جنم لے رہا تھا۔
آغا صاحب نے سب سے پہلے ضلعی مشینری کو جوڑا۔ انہوں نے مختلف محکموں کے افسران کی تعیناتی کے لیے حکومت سے مسلسل رابطہ رکھا۔ عارضی عمارتوں میں دفاتر قائم کیے، ڈسٹرکٹ کنٹرول روم کو جدید خطوط پر فعال کیا، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے ایس او پیز بنائے۔ آج مری میں اگر برف باری سے پہلے مشینری تیار کھڑی ہوتی ہے، اگر سیاحوں کے رش سے پہلے ٹریفک پلان بن جاتا ہے، اگر کسی ایمرجنسی میں تمام محکمے ایک کال پر حرکت میں آتے ہیں تو یہ اسی بنیادی ڈھانچے کا ثمر ہے جس کا بیج آغا ظہیر عباس شیرازی نے بویا تھا۔
انہوں نے ریونیو سسٹم کو ضلعی تقاضوں کے مطابق ڈھالا۔ مری کے عوام کو اب اپنے زمینی معاملات کے لیے راولپنڈی نہیں جانا پڑتا۔ فرد کا اجرا، انتقال کا اندراج، قبضے کی شکایت، یہ سب مری میں ہی حل ہونے لگے۔ پٹواری کلچر کی شکایات پر انہوں نے خود چھاپے مارے، لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کیا،کرپٹ پٹواریوں کی جتھ بندی کو توڑا اور گرفتاریاں تک ہویں
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن ستھرا پنجاب کو مری جیسے مشکل terrain پر نافذ کرنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ ماضی میں مری کچرے میں دھنستا جا رہا تھا۔ سیاح آتے، کچرا پھیلاتے، نالے بند ہوتے، بدبو پھیلتی۔
آغا صاحب نے اسے مشن بنا لیا۔ انہوں نے وارڈ وائز صفائی کے عملے کی تعیناتی کی، حاضری کو بائیو میٹرک سے منسلک کیا، جدید صفائی مشینری منگوائی۔ وہ صبح سویرے خود مال روڈ، جھیکا گلی، کلڈنہ اور باڑیاں میں صفائی کا معائنہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہوٹلوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنا سالڈ ویسٹ مقررہ پوائنٹس پر دیں۔ دکانداروں کو جرمانے کے ڈر سے نہیں بلکہ شراکت داری کے جذبے سے اس مہم میں شامل کیا گیا۔
آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ مال روڈ پر زیرو ویسٹ کا تصور حقیقت بنتا جا رہا ہے، گلیاں دھلی ہوئی نظر آتی ہیں، کوڑا دان ہر موڑ پر دستیاب ہیں۔ یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئی، یہ روز کی نگرانی کا نتیجہ ہے۔
آغا صاحب کی موجودگی میں مری میں تاریخ کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد تیز ہوا۔ مال روڈ کی بحالی کے لیے 55 کروڑ روپے کا منصوبہ والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے تعاون سے جاری ہے۔ مجموعی طور پر 4.5 ارب روپے کے مری بیوٹیفکیشن پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ باغ شہیداں پارک 52.1 کروڑ روپے سے 40 کنال پر تعمیر ہو رہا ہے۔
سب سے نمایاں منصوبہ مری گلاس ٹرین کا ہے۔ لیک ویو پارک اسلام آباد سے مری تک 40 کلومیٹر طویل پاکستان کی پہلی شیشے والی سیاحتی ٹرین کی فزیبلٹی اور بولی کا عمل جاری ہے۔ اس کے ساتھ پنج پیر چیئر لفٹ، اسکائی گلاس برج اور گلیمپنگ ویلج جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔
ان منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تجاوزات تھیں۔ آغا صاحب نے مال روڈ، ہال روڈ اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کیا۔ سرکاری زمین واگزار کرا کر اسے پارکوں اور گرین ایریاز کے لیے مختص کیا گیا۔ یہ فیصلے آسان نہیں تھے، دباؤ بھی آیا، مگر وہ عوامی مفاد پر کھڑے رہے۔
مری میں قیادت کا اصل امتحان برف باری میں ہوتا ہے۔ آغا صاحب رات دو بجے بھی جھیکا گلی میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہم مے دیکھا کہ پھنسے سیاحوں کے لیے انہوں نے ہوٹل ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر مفت رہائش اور خوراک کا بندوبست کرایا۔ ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے ون وے سسٹم اور پیشگی الرٹس کا نظام ان کی دین ہے۔
کھلی کچہریوں کو انہوں نے انصاف کی دہلیز بنا دیا۔ دور دراز گاؤں کے بزرگ کی بات بھی وہ پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ صحت مراکز کے اچانک دورے، اسکولوں میں بچوں سے مکالمہ، یہ سب ان کے معمول کا حصہ ہے۔
آغا ظہیر عباس شیرازی نرم گفتار مگر مضبوط ارادے والے انسان ہیں۔ ان میں تکبر نہیں، شفقت ہے۔ ماتحت عملے کے لیے وہ باس نہیں رہبر ہیں۔ مری جیسے پریشر والے اسٹیشن پر ان کا دامن دیانت سے اجلا رہا، یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
مری کے لوگ آج کہتے ہیں، ہمیں اپنا ڈی سی ملا ہے۔ ضلع تو پہلے بن چکا تھا، مگر ضلع کو ضلع بنانا، اسے چلانا، سنوارنا اور جگانا، یہ کام آغا ظہیر عباس شیرازی نے کیا۔ ان کا نام مری کی انتظامی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔
About The Author
Muhammad Mubbashir Rauf
Mubbashir Rauf is the WEB EDITOR of Click Pakistan. He can be reached at mmubbashirrauf@gmail.com.













