کالم کا عنوان:قلم کہانی
تحریر:سید صداقت علی شاہ
پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ کرنا ہے۔ احتجاج کرنا جمہوریت کا حسن ہے۔ کر لو بھائی، کس نے روکا ہے؟ حکومت نے لانگ مارچ کو روکنا ہے۔ عدالتی حکم ہے کہ کوئی بھی عوام کی جان، مال کو نقصان نہ پہنچائے، شہر بند نہ کرے، راستے نہ روکے۔ تو حکومت تحریک انصاف کو روک لے۔ کس نے روکا ہے؟ حکومت اور تحریک انصاف آگے بڑھنے سے پہلے ایک کہانی سن لیں:۔
امی مجھے کیلا کھانا ہے، اچھا ایسا کرو، سیب لے دو۔ یہ بھی نہیں تو انگور دلا دو۔
7سالہ احسن اور 6سالہ طیبہ اپنی ماں سے پھل کی فرمائش کرتے رہے۔
غریب ماں کیا کرتی؟ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ بچوں کو ڈانٹا اور انہیں گھر لے آئی۔
لیکن دل ہی دل میں سوچتی رہی کہ کاش اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ اپنے بچوں کی فرمائش پوری کر دیتی۔
شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ کی مجبور ماں شازیہ غربت کے ہاتھوں اتنی مجبور ہو گئی کہ اسے کچھ نہ سوجھی۔
پہلے اپنے دل کے ٹکڑے دونوں بچوں پر گولی چلائی اور اس کے بعد اپنے دل پر گولی مار لی۔
احسن موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ طیبہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اور اس کی حالت بھی نازک ہے۔
شازیہ نے بھی موت کو گلے لگا لیا۔
شیخوپورہ کی بستی گلی نمبر ایک گھنگ روڈ کے محنت کش ڈرائیور عمران کا گھر مقتل گاہ بن گیا۔
اہل محلہ کے مطابق عمران کے گھر غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
بچے چھوٹے تھے اور اکثر ماں سے چیزوں کی ضد کیا کرتے تھے۔ تنگدستی کے باعث عمران کی بیوی شازیہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔
جس دن یہ واقعہ پیش آیا، اسی دن بچوں نے ماں کو ریڑھی والے کے پاس روکا اور پھل خریدنے کا مطالبہ کیا۔
ماں بچوں کیلئے پھل تو نہ خرید سکی، ہاں مگر موت ضرور خرید لی۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیم موقع پر پہنچی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ شازیہ بچی اور نہ اس کا بیٹا زندہ بچا۔ بیٹی طیبہ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہاں ایک منٹ کیلئے رکیں۔ اپنے ذہن پر زور ڈالیں۔ سات سالہ احسن اور چھ سالہ طیبہ کو ذہن میں لائیں۔ یہ عمر تو سکول جانے کی ہے۔
شرارتیں کرنے کی ہے، گلی محلے میں کھیلنے کودنے کی ہے۔ لیکن اس گھر کو غربت لے ڈوبی۔
اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان بچوں کو کسی اور نے نہیں، ان کی ماں نے مار ڈالا۔غربت نے مار ڈالا۔
یہ ایک فیملی ٹریجڈی نہیں بلکہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ کہانی نہیں، حقیقت ہے۔ ایک تلخ حقیقت۔ نجانے کتنے والدین اور بچے رات کو کچھ کھائے بغیر سوتے ہیں۔ بھوکے رہتے ہیں کیونکہ غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ کسی کے پاس بل دینے کے پیسے نہیں ہیں تو کوئی بچوں کے سکول کی فیس نہیں دے پا رہا۔
یونیسف اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے۔ اور ان میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے۔
ابھی گزشتہ ماہ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے غذائیت کے بارے میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ” غذائیت کی کمی کا مسئلہ محض صحت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ریاست کیلئے سکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے۔ 40فیصد بچے جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور ہیں۔ غذائیت کی کمی وجہ سے ریاست کو ہر سال 17بلین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ ذہنی طور پر محدود نشوونما کے حامل بچے سکولوں میں داخل ہو بھی جائیں تو وہ مکمل تعلیم و تربیت کی صلاحیتوں سے محروم رہتے ہیں“۔
قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے مگر بدقسمتی سے شہریوں کو خالص دودھ میسر نہیں۔ غذائیت محض پیٹ بھرنے کا نام نہیں۔ انسان کو زندہ رہنے کیلئے خوراک درکار ہے مگر صحت مند، ذہین اور پیداواری زندگی کیلئے متوازن اور معیاری خوراک ضروری ہے۔ اور وہ ”معیاری“ خوراک بچوں کو میسر نہیں۔
لیکن اس ملک میں ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ لانگ مارچ ہو گا تو سب ٹھیک ہو گا۔حکومت سمجھتی ہے کہ لانگ مارچ کو روکیں گے تو ملک چلے گا۔
دوسری طرف اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ نہ لانگ مارچ سے ملک چلنا ہے اور نہ اسے روک کر اس ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔
ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا۔ اس ملک کے شہریوں کی زندگیوں کو بچانا ہو گا۔ انہیں غذا، تعلیم، صحت، صاف پانی جیسی بنیادی ضرورتیں مہیا کرنی ہوں گی۔
ورنہ بھوک ناچتی رہے گی۔ جنازے اٹھتے رہیں گے۔
حکومت اور اپوزیشن سے درخواست ہے کہ ترجیحات درست کریں۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام سمیت تمام سیاسی جماعتیں ایک لانگ مارچ مہنگائی کیخلاف کریں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ کرنا ہے۔ احتجاج کرنا جمہوریت کا حسن ہے۔ کر لو بھائی، کس نے روکا ہے؟ حکومت نے لانگ مارچ کو روکنا ہے۔ اسلام آباد کا گھیراؤ نہیں کرنے دینا۔ تو حکومت تحریک انصاف کو روک لے۔ کس نے روکا ہے؟ کوئی غربت کو بھی ہاتھ ڈالے۔ مہنگائی کو لگام ڈالے۔ ہے کوئی روکنے والا؟
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔














