کالم نگار:وقاص عزیز
مسٹر پتلو کی شادی کی خوشی ۔ ایک غریب گھر کے بچے کی خوشی۔ اس نے دل میں سوچا، یہ خوشی میں اکیلا کیوں مناؤں؟ یہ تو بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ اس نے سیالکوٹ کے سٹیڈیم میں سب کو بلایا، انعامات کا اعلان کیا، کہ آؤ میری خوشی میں شریک ہو جاؤ۔
وہاں کیا ہوا؟ رش لگا، ہجوم بے قابو ہوا، بھگدڑ مچی اور ایک ماں کا لال اس دنیا سے چلا گیا، تیرہ لوگ زخمی ہو گئے۔ اللہ کی قسم، اس سے بڑا صدمہ ایک شادی والے گھر کے لیے کوئی نہیں ہو سکتا۔ جس گھر میں ڈھول بجنا تھا، وہاں صفِ ماتم بچھ جائے تو اس دل پر کیا گزرتی ہے، یہ صرف وہی جانتا ہے جس پر بیتی ہو۔ سب سے پہلے اس ماں سے معافی بنتی ہے، اس باپ سے تعزیت بنتی ہے جس کا بچہ گیا، ان زخمیوں کے لیے دعا بنتی ہے۔
لیکن ہمارے ملک میں تو لاشوں پر بھی ویوز لیے جاتے ہیں۔حادثے کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ٹی وی سکرینوں پر دوسری بھگدڑ مچ گئی، جو اس سٹیڈیم والی بھگدڑ سے زیادہ غلیظ تھی۔ بڑے بڑے اینکر، بڑے بڑے دانشور، یوٹیوب کے دانشور، سب نے ایک ہی شخص کو نشانے پر رکھ لیا۔ وہی غریب لڑکا۔ طعنے شروع۔ یہ جاہل ہے، اسے بولنا نہیں آتا، اس کے فالوور جاہل ہیں، اسے دیکھنے والے جاہل ہیں۔
ذرا اپنا گریبان تو دیکھو۔ایک لڑکا، جسے اللہ نے عزت دی۔ جسے اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ جس نے کسی پرچی کے بغیر، کسی سفارش کے بغیر، بڑے باپ کے نام کے بغیر، ایک ٹوٹے ہوئے موبائل کے کیمرے سے اپنی تقدیر لڑ کر بدلی۔ جو اپنے ماں باپ کا سہارا بنا، جس نے اپنے جیسے درجنوں غریب لڑکوں کو اپنے ساتھ لگایا، ان کے گھروں میں چولہا جلایا، وہ جاہل ہے؟
اگر وہ جاہل ہو کر ارب پتی بن گیا، تو پھر تم پڑھے لکھے ہو کر گالیاں کیوں کھا رہے ہو؟اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ مسٹر پتلو کا نہیں ہے، مسئلہ تمہاری ذہنیت کا ہے۔
اس ملک میں دو طرح کے جاہل ہیں۔ ایک وہ بیچارہ ان پڑھ جاہل، جس نے سکول کی شکل نہیں دیکھی، وہ تو قابلِ رحم ہے، اسے گلے لگایا جا سکتا ہے، اسے سکھایا جا سکتا ہے۔ دوسرا وہ ذہنی جاہل ہے، جس کا کوئی علاج نہیں۔ اس کے پاس ڈگریاں ہیں، اس کی انگریزی ٹھیک ہے، اس کا سوٹ مہنگا ہے، اس کی گاڑی بڑی ہے، لیکن اس کا دل کالا ہے اور دماغ پر تالا لگا ہوا ہے۔
مسٹر پتلو نے اسی ذہنی جاہلوں کے ملک میں مسیحائی کرنے کی کوشش کی ہے۔اس نے کیا بیچا؟ اس نے کبھی کہا آؤ مجھ سے تعویذ لو تمہاری قسمت بدل جائے گی؟ اس نے کبھی کہا میں تمہیں جنت کا ٹکٹ دوں گا؟ اس نے کبھی کسی کا فرقہ پوچھا؟ کبھی کسی کو دوسرے کے خلاف بھڑکایا؟ نہیں۔
اس نے تو صرف ایک کام کیا، اس قوم کو ہنسایا ہے جو ہنسنا بھول گئی تھی۔یہ وہ قوم ہے جو صبح اٹھتی ہے تو مہنگائی کا رونا روتی ہے، دوپہر کو بجلی کے بل پر روتی ہے، شام کو بچوں کی فیسوں پر روتی ہے، رات کو ٹاک شوز میں بیٹھے ہوئے لوگ اسے مزید رلاتے ہیں۔ پچھلے چالیس سال میں اس قوم کو کسی نے ہنسایا ہی نہیں، سب نے رلایا ہے۔ سیاستدان نے وعدوں سے رلایا، اینکر نے مایوسی بیچ کر رلایا۔
ایسے میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا، سر پر ٹوپی، چہرے پر مونچھیں، اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو اور میٹھی پنجابی میں آتا ہے اور کہتا ہے “مسٹر پتلو کی بات میں دم ہے”۔ تو ایک مزدور جو سارا دن اینٹیں ڈھوتا ہے، وہ ہنس پڑتا ہے۔ ایک ٹرک ڈرائیور جو ساری رات نہیں سویا، وہ ہنس پڑتا ہے۔ ایک ماں جو سارا دن برتن مانجھتی ہے، وہ ہنس پڑتی ہے۔
دوستو، کسی تھکے ہوئے انسان کو ہنسانا اتنی چھوٹی نیکی نہیں ہے۔ حدیث ہے کہ اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ اس فقیر نے تو کروڑوں صدقے بانٹ دیے۔ جس غریب کے پاس نیٹ فلکس نہیں ہے، مری جانے کے پیسے نہیں ہیں، اس کے لیے مسٹر پتلو کا تین منٹ کا کلپ ہی اس کی ساری تھکن اتار دیتا ہے۔
اور اس ہنسی کے پیچھے کتنے گھر پل رہے ہیں، تمہیں خبر ہے؟ آج وہ اکیلا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ کیمرہ مین ہے، ایڈیٹر ہے، لکھنے والے ہیں، اس کے گاؤں کے لڑکے ہیں۔ سب کا روزگار لگا ہوا ہے۔ آج پنجاب کے ہر گاؤں میں دس لڑکے ہیں جو کہتے ہیں ہم بھی ویڈیو بنائیں گے، ہم بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔ ڈیجیٹل پاکستان کا جو کام حکومتیں اربوں روپے لگا کر نہ کر سکیں، وہ اس اکیلے لڑکے نے کر دکھایا۔
تو پھر نفرت کیوں ہے اس سے؟نفرت اس لیے ہے کہ طاقت کا منبع بدل گیا ہے۔ پہلے عزت کا لائسنس صرف چند جگہوں سے ملتا تھا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد کے چند کلب، چند انگریزی اخبار، چند ٹی وی چینل طے کرتے تھے کہ کون دانشور ہے، کون ہیرو ہے۔
مسٹر پتلو نے وہ لائسنس پھاڑ کر پھینک دیا۔ اس نے کہا عزت تم نہیں دو گے، عزت میری عوام دے گی۔ اور عوام نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ اسی لیے تمہیں تکلیف ہو رہی ہے۔ تمہیں برداشت نہیں ہو رہا کہ ایک گاؤں کا لڑکا تم سے آگے نکل گیا۔
تم کہتے ہو اس کے فالوور جاہل ہیں۔ یعنی اس ملک کے کروڑوں لوگ جاہل ہیں؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں تم عوام کو ہی جاہل کہہ دو؟ تم کہتے ہو عوام کی رائے کا احترام کرو، اور پھر اسی عوام کو گالی دے دیتے ہو کیونکہ وہ تمہیں نہیں، اسے دیکھتی ہے۔
اور پھر دیکھو اس کا ظرف۔اسی تکلیف میں اس کی ایک اور ویڈیو سامنے آتی ہے۔ وہ بال پکڑتے ہوئے گرتا ہے۔ کمر میں شدید بل پڑ جاتا ہے۔ اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا، چلا بھی نہیں جا رہا۔ درد سے اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ لیکن اسی درد میں بھی وہ کیمرہ آن کرتا ہے۔ وہ اپنا درد نہیں بتاتا، وہ کہتا ہے میرے بھائیو، میرا ایونٹ کینسل ہو گیا، مجھے معاف کر دینا۔
اللہ اکبر۔ جس کی کمر میں درد ہے، وہ معافی مانگ رہا ہے۔ وہ اپنی تکلیف کی نہیں، تمہاری خوشی کی فکر کر رہا ہے۔ اور ہم اسی لمحے اس پر میمز بنا رہے ہیں، اس کی اس تکلیف پر ہنس رہے ہیں۔ ہم کتنے گر گئے ہیں؟
سیالکوٹ والے واقعے پر اصل سوال کیا بنتا تھا؟ سوال یہ بنتا تھا کہ سٹیڈیم کا انتظام کس کے ذمہ تھا؟ سیکیورٹی پلان کس نے بنانا تھا؟ گیٹ کتنے کھلے تھے؟ پولیس کتنی تھی؟ وہاں ایمبولینس تھی یا نہیں؟
کیا وہ پولیس ہے؟ کیا وہ ضلعی انتظامیہ ہے؟ اس نے تو صرف محبت میں کہا تھا آؤ خوشی بانٹتے ہیں۔ جب کسی سیاسی جلسے میں بھگدڑ مچتی ہے تو کیا ہم اس لیڈر کو قاتل کہہ دیتے ہیں؟ نہیں، ہم کہتے ہیں انتظامیہ فیل ہو گئی۔ یہاں سارا ملبہ اس غریب پر کیوں ڈال رہے ہو؟ کیونکہ وہ نرم چارہ ہے۔ اس کے پیچھے کوئی چینل نہیں، کوئی پارٹی نہیں، کوئی بڑا وکیل نہیں۔ اس کو مارو گے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ویوز لو گے۔
سنو، وہ ایک کردار نہیں، وہ ایک سبق ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ اس ملک میں کامیاب ہونے کے لیے تمہیں انگریزی آنا ضروری نہیں، جھوٹ ضروری نہیں، کسی کے تلوے چاٹنا ضروری نہیں۔ صرف نیت کا خلوص اور مستقل مزاجی چاہیے۔
اس سے اختلاف ہو سکتا ہے، اس کے کسی کام پر تنقید ہو سکتی ہے۔ لیکن اسے اور اس کے چاہنے والے کروڑوں دل والوں کو جاہل کہہ کر گالی دینا، یہ انصاف نہیں ہے، یہ حسد ہے۔ اور حسد کی آگ میں سب سے پہلے حسد کرنے والا خود جلتا ہے۔
اس ملک کو ایسے دس اور مسٹر پتلو چاہئیں جو ہنسائیں، جو روزگار دیں، جو یہ بتائیں کہ تم سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ساہیوال کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے بھی اٹھ کر پاکستان کے سب سے بڑے انٹرٹینر بن سکتے ہو۔
اللہ مسٹر پتلو کو جلد صحت دے۔ اس کی کمر کی تکلیف دور کرے۔ اس کی شادی کی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے۔ اور اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے ہیروز کو گرانے کی بجائے سنبھالنا سیکھیں۔ کیونکہ جو قوم اپنے ہنسانے والوں کی قدر نہیں کرتی، وہ ایک دن رونا بھی بھول جاتی ہے، وہ صرف چیختی ہے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔
About The Author
Muhammad Mubbashir Rauf
Web Editor at Click Pakistan, specializing in news editing, fact-checking, SEO and digital publishing.













