کالم نگار: وقاص عزیز
کچھ بول صرف بول نہیں ہوتے۔ وہ کسی ایک زبان میں قید نہیں رہتے۔ وہ ہوا کی طرح ہوتے ہیں، وہ مٹی سے اٹھتے ہیں اور سرحدوں کو توڑ کر دوسری مٹی میں جا بستے ہیں۔ “چھلڑے چھلڑے وال” ایسا ہی ایک بول ہے۔
آپ نے یہ بول پہلی بار کہاں سنا تھا؟ کسی نے ریڈیو پر، کسی نے کسی شادی کے لاؤڈ سپیکر پر، کسی نے ٹرک کے پیچھے بجتے ہوئے ٹیپ ریکارڈر پر، اور آج کی نسل نے انسٹاگرام کی ایک پندرہ سیکنڈ کی ریل پر۔ ایک ہی بول ہے، لیکن ہر بار اس کا مطلب بدل جاتا ہے۔ کبھی یہ ایک مرد کی للکار لگتا ہے، کبھی ایک عورت کا نخرہ، کبھی ایک بچی کی معصوم فرمائش۔
اس بول کی جڑوں میں جانے کے لیے آپ کو تھل جانا پڑے گا۔ تھل کی دوپہر، جہاں سورج سر پر کھڑا ہوتا ہے، جہاں ریت گرم ہوتی ہے، جہاں محبت کا اظہار بھی دھیمے لہجے میں نہیں ہوتا، وہاں محبت بھی چیخ کر کی جاتی ہے۔ اس گانے کا خالق محمد حسین بندیالوی ہے۔ وہ نام جو بڑے شہروں کے میوزک چینلز نے کبھی نہیں دکھایا۔ وہ بزرگ جو شاید ساری زندگی ایک ہارمونیم اور ایک ڈھولک کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس نے یہ گیت کسی فلم کے لیے نہیں لکھا تھا۔ اس نے یہ گیت کسی اسٹوڈیو میں بیٹھ کر نہیں لکھا تھا۔ اس نے یہ گیت اپنی وسیب کی کسی لڑکی کو دیکھ کر لکھا ہوگا، جس کے کانوں میں چھلڑے یعنی چھمکے لٹک رہے ہوں گے۔ “چھلڑے چھلڑے وال” اس نے کہا نہیں، اس نے پکارا ہوگا۔
پھر اس پکار کو آواز دی شفاء اللہ خان روکھڑی نے۔
شفاء اللہ خان روکھڑی کو سمجھنے کے لیے آپ کو میوزک کو بھولنا پڑے گا۔ وہ گلوکار نہیں ہے۔ وہ ایک کردار ہے۔ وہ تھل کا وہ وڈیرہ ہے جو شام کو اپنی بیٹھک میں بیٹھتا ہے، حقہ پیتا ہے اور پھر جب دل کرتا ہے تو گلا کھول دیتا ہے۔ اس کی آواز میں کوئی تربیت نہیں ہے، کوئی استادوں والی باریکی نہیں ہے، اس کی آواز میں ریت ہے۔ جب وہ “چھلڑے چھلڑے وال” کہتا ہے تو وہ لفظ کو کھینچتا نہیں، وہ لفظ کو زمین پر مارتا ہے۔ اس کے لہجے میں ایک مردانہ حکم ہے۔ “توں سانول پھل کستوری” جب وہ کہتا ہے تو اس میں ایک عاشق کی ضد بھی ہے اور ایک مالک کا دعویٰ بھی۔ اس کی موسیقی سنیں۔ پیچھے کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ ایک ڈھولک کی تھاپ ہے جو بالکل سادہ ہے، جیسے کسی گاؤں میں شادی پر بج رہی ہو۔ ایک ہارمونیم ہے جو بس سر کو سہارا دے رہا ہے۔ سارا زور صرف آواز پر ہے۔ کیونکہ شفاء اللہ کو کسی پروڈکشن کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا گلا خود ایک پورا بینڈ ہے۔ اس کی آواز میں وہ خشکی ہے جو صحرا میں سالوں رہنے سے آتی ہے۔ اس کی آواز میں وہ گرج ہے جو کسی کو پکارنے کے لیے چاہیے۔ اس ورژن میں کوئی ادا نہیں ہے۔ اس میں سچائی ہے۔ اس میں وہ خالص سرائیکی تلفظ ہے جو آج لاہور کے کسی میوزک اسکول میں نہیں سکھایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی دیہات کی شادی میں یہ گانا بجتا ہے تو بزرگ کرسی سے اٹھ کر جھومنے لگتے ہیں۔ انہیں اس میں اپنی جوانی نظر آتی ہے۔ انہیں اس میں کوئی بناوٹ نظر نہیں آتی۔
پھر وقت بدلا۔ گانا ریڈیو سے نکل کر موبائل میں آ گیا۔ اور موبائل سے سرحد پار چلا گیا۔
یہاں سے اس گانے کا دوسرا جنم ہوتا ہے۔ بھارت کی سنندا شرما کا ورژن۔
سنندا شرما نے اس گانے کے ساتھ جو کیا ہے وہ ایک بہت بڑا آرٹ ہے۔ اس نے گانے کی جنس بدل دی۔ شفاء اللہ کا گانا مردانہ تھا۔ وہ ایک مرد کا عورت کو پکارنا تھا۔ سنندا نے اسی پکار کو عورت کا جواب بنا دیا۔ اس نے “چھلڑے چھلڑے وال” کو حکم سے نکال کر ناز میں ڈال دیا۔
سنندا کو آپ غور سے دیکھیں تو وہ گاتی کم ہے، دکھاتی زیادہ ہے۔ اور یہ اس دور کی ضرورت ہے۔ آج گانا صرف سنا نہیں جاتا، دیکھا بھی جاتا ہے۔ سنندا کی آنکھوں میں ایک چمک ہے، اس کے بالوں میں ایک جنبش ہے، اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ہے۔ جب وہ “چھلڑے” کہتی ہے تو وہ لفظ ادا نہیں کرتی، وہ اسے اپنی آنکھ سے گرتی ہے۔ اس کی آواز میں پنجابی لوک کی مٹھاس ہے، ایک ایسی مٹھاس جو فوراً کان میں گھل جاتی ہے۔ جہاں شفاء اللہ کی آواز میں دھوپ تھی، وہاں سنندا کی آواز میں چاندنی ہے۔
اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی پروڈکشن ہے۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ بھارتی انڈسٹری لوک کو بھی عالمی بنا دیتی ہے۔ اس ورژن میں ڈھولک اب بھی ہے لیکن اس کے نیچے ایک گہری بیس لائن ہے جو آپ کے دل میں اترتی ہے۔ پیچھے گٹار کا ایک بہت ہی نرم ٹکڑا ہے۔ آواز کو اس طرح صاف کیا گیا ہے کہ ہر لفظ کرسٹل کی طرح چمکتا ہے۔ یہ ورژن انسٹاگرام ریل کے لیے بنا ہے۔ پندرہ سیکنڈ میں آپ کو پکڑ لیتا ہے۔ نوجوان نسل جو شفاء اللہ خان کے بھاری لہجے سے شاید ڈر جاتی ہے، وہ سنندا کے اس لاڈ بھرے لہجے سے فوراً جڑ جاتی ہے۔ اس نے اس گانے کو ایک نئی ادا دے دی ہے۔ ایک ایسی ادا جس میں حسن ہے، جس میں نزاکت ہے، جس میں وہ چیز ہے جو کیمرے کو پسند ہے۔
اب اس کہانی کا تیسرا حصہ پاکستان میں لکھا جا رہا ہے۔
جب سنندا کا ورژن وائرل ہوا تو پاکستان میں دو نئے نام اٹھے۔ ایک وہ وائرل لڑکی اور دوسرا ذیشان روکھڑی۔
اس وائرل لڑکی کو آپ نے ٹک ٹاک پر دیکھا ہوگا۔ نہ اس کے پاس بڑا اسٹوڈیو ہے، نہ مہنگی پروڈکشن۔ وہ اپنے گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر موبائل پر گاتی ہے۔ اس کی آواز میں کوئی ٹریننگ نہیں، اس کا گلا کچا ہے۔ لیکن اس کچے گلے میں ایک ایسی معصومیت ہے جو سنندا کی چمک میں بھی نہیں۔ وہ جب گاتی ہے تو لگتا ہے جیسے وہ کسی کے لیے نہیں، اپنے لیے گا رہی ہے۔ اس کی آواز میں وہی دیسی پن ہے جو ہماری گلیوں میں کھیلنے والی بچیوں میں ہوتا ہے۔ اس نے اس گانے کو واپس اس کی جڑوں میں لا دیا ہے۔ اس نے اسے پھر سے گھر کا گانا بنا دیا ہے۔ لوگ اسے اس لیے سن رہے ہیں کیونکہ وہ ان میں سے ایک لگتی ہے۔ وہ سٹار نہیں لگتی، وہ اپنی بہن لگتی ہے۔
اور دوسرا نام ذیشان روکھڑی کا ہے۔ ذیشان کے کندھے پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ وہ شفاء اللہ خان روکھڑی کا بیٹا ہے۔ جس باپ نے اس گانے کو امر کر دیا ہو، اس باپ کے گانے کو دوبارہ گانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ ذیشان نے بہت کوشش کی ہے۔ اس کا گلا اچھا ہے، سر میں ہے، وہ باپ کی نقل نہیں کرتا، وہ اپنا رنگ لانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس گانے کو ایک نوجوان کے لہجے میں گانا چاہتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ابھی اس میں وہ گرج نہیں ہے۔ باپ کی آواز میں جو تھل کا درد ہے، جو ریت پر ننگے پاؤں چلنے کی تھکاوٹ ہے، جو ایک پوری زندگی کی کہانی ہے، وہ بیٹے کی میٹھی آواز میں ابھی نہیں آئی۔ ذیشان کی آواز جوان ہے، صاف ہے، لیکن “چھلڑے چھلڑے” جیسے بھاری بول کو جو وزن چاہیے، وہ وقت کے ساتھ آئے گا۔ فن باپ سے مل تو جاتا ہے، لیکن اپنا لہجہ خود بنانا پڑتا ہے۔ ذیشان ابھی اس لہجے کی تلاش میں ہے
یہ گانا اب کسی ایک کا نہیں رہا۔ یہ اب ایک داستان بن چکا ہے۔
اگر آپ کو مٹی کی سچائی چاہیے، اگر آپ کو وہ آواز چاہیے جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو، جو جیسی ہے ویسی ہی ہے، تو آپ آج بھی شفاء اللہ خان روکھڑی کو سنیں گے۔ وہ اس گانے کا باپ ہے۔ وہ اس کا اصل ہے۔
اگر آپ کو حسن چاہیے، ادا چاہیے، ایک ایسی آواز چاہیے جو آنکھوں کو بھی اچھی لگے، جو ریل پر وائرل ہو جائے، جو آپ کو نچا دے، تو آپ سنندا شرما کو سنیں گے۔ اس نے اس پرانے گانے کو نیا جوڑا پہنا دیا ہے۔اور اگر آپ کو اپنائیت چاہیے، تو آپ اس وائرل لڑکی کو سنیں گے۔
“چھلڑے چھلڑے” اس بات کا ثبوت ہے کہ سچا بول کبھی مرتا نہیں ہے۔ وہ کبھی تھل کے ریڈیو سے اٹھتا ہے، کبھی ممبئی کے اسٹوڈیو میں جا کر چمک جاتا ہے، اور کبھی واپس آ کر کسی گاؤں کی بچی کے موبائل میں زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی اس کی خوبصورتی ہے۔ یہ گانا اب سرحدوں سے اوپر نکل چکا ہے۔ یہ پورے وسیب کا، پورے پنجاب کا مشترکہ ورثہ ہے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔














