کالام کی ٹوٹی سڑک سے پشاور کے ایوانوں تک: سہیل آفریدی کی ناکام حکومت اور پی ٹی آئی کے 12 سالہ دور کا احتساب

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم نگار: وقاص عزیز

وادی کالام کی برف پوش چوٹیاں، دریائے سوات کا شور مچاتا نیلگوں پانی، اور وہاں کے لوگوں کی مثالی مہمان نوازی۔ خیبر پختونخوا کے لوگ واقعی مہمان نواز ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع ظرف کے بھی مالک ہیں۔ جو ایک بار ان وادیوں میں جاتا ہے، وہ ان کی محبت اور خلوص کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ میں خود اس کا گواہ ہوں کہ اجنبی سیاحوں کو وہ اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہیں۔

لیکن جیسے ہی ہم موٹروے سے اتر کر عازم کالام ہوئے، تو اس ساری رومانویت کو چند کلومیٹر بعد ہی بریک لگ گئی۔ کئی مقامات پر سڑک اتنی ٹوٹی ہوئی اور سائیڈوں سے کٹی ہوئی تھی کہ ایسے محسوس ہوا ابھی گاڑی نیچے دریا میں گئی کہ گئی۔ ایک طرف سینکڑوں فٹ گہری کھائی اور شور مچاتا دریا، دوسری طرف پہاڑ سے گرتے ہوئے پتھر، اور درمیان میں وہ سڑک جسے سڑک کہنا بھی سڑک کی توہین ہے۔ گاڑی کا ٹائر ذرا سا ادھر ہوا تو سیدھی موت۔ یہ منظر ایک بار نہیں، چکدرہ سے بحرین اور بحرین سے کالام تک درجنوں مقامات پر دیکھنے کو ملا۔

یہ کوئی قدرتی آفت نہیں ہے۔ زلزلہ نہیں آیا، سیلاب نہیں آیا۔ یہ خالصتاً انسانی غفلت، مجرمانہ لاپرواہی اور 12 سالہ مسلسل حکومتی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اور یہیں سے وہ سوال جنم لیتا ہے جو ہر ذی شعور پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے: کیا کوئی ان سے پوچھنے والا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں تین مسلسل ادوار ملے۔ پہلا دور 2013 سے 2018 تک، دوسرا 2018 سے 2023 تک، اور تیسرا 2024 سے تاحال جاری ہے۔ پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں یہ کسی بھی ایک جماعت کو ملنے والا سب سے طویل بلا شرکت غیرے اقتدار ہے۔ اتنے طویل عرصے میں تو قومیں اپنی تقدیر بدل لیتی ہیں۔ ملائیشیا اور سنگاپور کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیکن تحریک انصاف نے اس سنہری موقع کو ضائع کر دیا۔ انہوں نے صوبے کو ترقی دینے کے بجائے اسے صرف اپنی وفاقی سیاست کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔

آئیے اعداد و شمار کے ساتھ ان تینوں ادوار کا جائزہ لیتے ہیں۔

2013 میں جب تحریک انصاف کو پہلی بار حکومت ملی تو نعرہ تھا تبدیلی کا۔ دعویٰ تھا کہ 90 دن میں سب کچھ بدل دیں گے۔ سب سے بڑا منصوبہ بلین ٹری سونامی تھا۔ اس پر سرکاری خزانے سے اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ دعویٰ کیا گیا کہ ایک ارب درخت لگائے گئے۔ لیکن آج تک اس کی کوئی شفاف تھرڈ پارٹی آڈٹ رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ محکمہ جنگلات کے اپنے فیلڈ ملازمین بتاتے ہیں کہ لگائے گئے پودوں کی اکثریت پانی اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے سوکھ گئی۔ دوسری طرف اسی دور میں ٹمبر مافیا پہلے سے زیادہ طاقتور ہوا۔ کالام اور دیر کے جنگلات میں دیودار کا کٹاؤ جاری رہا اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔

تعلیم اور صحت میں اصلاحات کے دعوے بھی کھوکھلے نکلے۔ اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو تو بہتر بنایا گیا، لیکن ہزاروں اسکول آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسپتالوں کی حالت یہ تھی کہ بڑے آپریشن کے لیے مریضوں کو پشاور یا اسلام آباد بھیجا جاتا تھا

دوسرا دور سب سے تباہ کن تھا۔ پشاور بی آر ٹی منصوبہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 49 ارب روپے لگایا گیا تھا، وہ بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور بار بار ڈیزائن تبدیل کرنے کی وجہ سے 110 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے لیے گئے قرضے کی ادائیگی آج بھی صوبے کے بجٹ پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ بی آر ٹی کی بسیں تو چل رہی ہیں، لیکن اس کی تعمیر کے دوران پشاور شہر کی معیشت تباہ ہو گئی۔ تاجروں کے کاروبار بند ہوئے اور شہری سالوں تک گرد و غبار میں رلتے رہے۔

اسی دور میں مالم جبہ اراضی اسکینڈل بھی سامنے آیا، جس پر نیب نے تحقیقات شروع کیں لیکن وہ تحقیقات بھی سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو گئیں۔ کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں اربوں روپے کے غبن کے الزامات سامنے آئے، جس نے صوبے کے مالیاتی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

قرضوں کی صورتحال دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 2013 میں صوبے کا کل قرضہ تقریباً 90 ارب روپے تھا۔ 2023 تک یہ بڑھ کر 600 ارب روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔ یہ پیسہ کہاں لگا؟ نہ کوئی نیا بڑا ڈیم بنا، نہ کوئی نئی یونیورسٹی

اور اب بات کرتے ہیں موجودہ دور کی، جس کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ ان سے توقع تھی کہ وہ نوجوان قیادت کے طور پر صوبے کو بحران سے نکالیں گے۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے وزارت اعلیٰ کو خدمت کے بجائے احتجاج کا پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔

سہیل آفریدی صاحب کی روزانہ کی مصروفیات دیکھ لیں۔ صبح عمران خان کی رہائی کے لیے بیان، دوپہر وفاق پر چڑھائی کی دھمکی، شام کو اڈیالہ جیل کے باہر پریس کانفرنس۔ کیا خیبر پختونخوا کے 4 کروڑ عوام نے آپ کو اسی لیے ووٹ دیا تھا؟ کیا آپ کا مینڈیٹ صرف ایک شخص کی رہائی کی تحریک چلانا ہے؟

آپ کہتے ہیں کہ وفاق ہمارے فنڈز روک رہا ہے۔ چلیں ایک لمحے کے لیے آپ کی بات مان لیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو وسائل آپ کے اپنے ہاتھ میں ہیں، ان کا کیا کیا؟ سوات، کالام اور کمراٹ سے سیاحتی ٹیکس کی مد میں ہر سال اربوں روپے اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہ کہاں جاتے ہیں؟ معدنیات اور ماربل کی رائلٹی کے اربوں روپے کس کھاتے میں جا رہے ہیں؟ اس کا کوئی وائٹ پیپر آپ نے آج تک جاری کیا؟ نہیں۔ کیونکہ آپ کے پاس جواب ہے ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ کی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہے۔ صوبائی بیوروکریسی کو واضح پیغام ہے کہ ترقیاتی فائلوں کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ٹھیکیدار اپنے بلوں کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں۔ چکدرہ سے کالام تک سڑک کی مرمت کے لیے جاری کردہ فنڈز کاغذوں میں تو موجود ہیں، لیکن زمین پر کام نظر نہیں آتا۔

سہیل آفریدی صاحب! ذرا اس ڈرائیور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں جو بحرین سے کالام تک روزانہ 20 سیاحوں کی زندگی اپنے ہاتھ میں لے کر اس ٹوٹی سڑک پر سفر کرتا ہے۔ اسے آپ کی تقریروں سے کوئی غرض نہیں، اسے ایک محفوظ سڑک چاہیے۔ اس ہوٹل مالک سے پوچھیں جس نے کالام میں لاکھوں کا قرض لے کر ہوٹل بنایا، لیکن ٹوٹی سڑکوں کی وجہ سے سیاح آنے سے ڈرتے ہیں۔ اسے آپ کے مارچ کی تاریخ نہیں چاہیے، اسے انفراسٹرکچر چاہیے۔

آپ نے پرویز خٹک اور محمود خان کی 10 سالہ ناکامیوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر لے لیا ہے۔ ان کے دور کے کرپٹ نظام کو ٹھیک کرنے کے بجائے آپ اسے مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ آپ کے ارد گرد وہی پرانے چہرے ہیں، وہی کمیشن مافیا ہے، وہی ٹھیکیدار ہیں جو 12 سال سے صوبے کو لوٹ رہے ہیں۔

کے پی کے میں کرپشن اور لوٹ مار کا وہ بازار گرم ہے جس کی دور دور تک مثال نہیں ملتی۔ تھانوں میں بھرتی سے لے کر ٹھیکوں کی الاٹمنٹ تک، ہر چیز بکتی ہے۔ اور اس سب کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ آپ نعروں کی سیاست چھوڑ دیں۔ یہ کرسی ایک امانت ہے۔ اگر آپ نے اگلے ایک سال میں کالام کی سڑک نہ بنائی، پشاور کے ہسپتالوں کی حالت نہ بدلی، اور قرضوں کا پہاڑ کم نہ کیا، تو تاریخ آپ کو ایک ناکام وزیر اعلیٰ کے طور پر یاد رکھے گی۔ کے پی کے کے مہمان نواز اور وسیع ظرف عوام اب مزید دھوکہ کھانے کے لیے تیار نہیں۔ انہیں اب عمل چاہیے، تقریریں نہیں۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions