کالم نگار: وقاص عزیز
وفاقی کابینہ نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ کوئی سیاسی انتقام نہیں، وہ ریاست کی بقا کا فیصلہ ہے۔ پریس ریلیز نمبر 422/2026 پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور پاکستانی کو سمجھ آ جانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا اب ایک صوبہ نہیں رہا، وہ ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی جماعت نے دہشت گردی، کرپشن، اور انتشار کے بیج بوئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کو جو بریفنگ دی گئی وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ صوبہ جہاں روز جنازے اٹھ رہے ہیں، جہاں پولیس، ایف سی اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، وہاں کی صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سے زیادہ ملک دشمنی اور کیا ہوگی؟
وفاقی حکومت نے گزشتہ 10 سال میں خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 800 ارب روپے دیے۔ یہ کوئی چھوٹی رقم نہیں ہے۔ یہ پورے پاکستان کے ترقیاتی بجٹ کے برابر ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں گیا؟
سی ٹی ڈی کی استعداد کار آج بھی 2013 والی ہے۔ تھانوں میں گاڑیاں نہیں، جوانوں کے پاس بلٹ پروف جیکٹ نہیں، انٹیلی جنس سسٹم ناکارہ، اور سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ ہاؤس سے صرف ایک ہی ٹرینڈ چلتا ہے “عمران خان کو رہا کرو”۔
جب بنوں میں دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، صوبائی حکومت خاموش۔ جب ڈی آئی خان میں پولیس شہید ہوتی ہے، صوبائی حکومت خاموش۔ جب سوات میں اسکول بند ہوتے ہیں، صوبائی حکومت خاموش۔ لیکن جیسے ہی اسلام آباد کی کال آتی ہے کہ جتھہ لے کر آؤ، تو ساری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے، سارے فنڈز نکل آتے ہیں، ساری گاڑیاں تیار ہو جاتی ہیں۔یہ دانستہ لاتعلقی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ آئین سے غداری نہیں تو اور کیا ہے؟
تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں 2013 سے 2026 تک تقریباً تین ادوار حکومت کی ہے۔ 13 سال۔ 13 سال میں دنیا بدل جاتی ہے۔ پنجاب میں میٹرو، اورنج لائن، ہسپتال، یونیورسٹیاں بنیں۔ سندھ میں تھر کول پراجیکٹ بنا۔ بلوچستان میں بھی ترقی ہوئی۔ لیکن کے پی میں کیا بنا؟
ایک ارب درخت کا جھوٹا بیانیہ جس کا آڈٹ آج تک نہیں ہو سکا۔ بی آر ٹی جس کی لاگت 30 ارب سے 100 ارب تک پہنچ گئی اور آج بھی خسارے میں ہے۔ صحت کارڈ جس کے نام پر پرائیویٹ ہسپتالوں کو نوازا گیا۔
تعلیم کا حال دیکھ لیں، صوبے کے سرکاری اسکولوں میں آج بھی بچے زمین پر بیٹھتے ہیں۔ یونیورسٹیاں تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ پشاور یونیورسٹی جیسا تاریخی ادارہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔
کرپشن کی انتہا یہ ہے کہ ہر محکمے میں ایک ہی ریٹ ہے۔ ٹرانسفر پوسٹنگ سے لے کر ٹھیکوں تک، سب کچھ عمران خان کے نام پر بیچا گیا۔ احتساب کمیشن جو پرویز خٹک نے بنایا تھا، اسی نے سب سے پہلے پی ٹی آئی کے اپنے کرپشن کے کیسز نکالے تو اسے ہی بند کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہاں حکومت عوام کی نہیں، اڈیالہ جیل کے ایک قیدی کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کام صوبے کے عوام کو تحفظ دینا ہوتا ہے، لیکن یہاں وزیر اعلیٰ کا واحد کام یہ ہے کہ روزانہ ایک بیان دے کہ “خان جلد آئے گا”۔
عوام مر رہے ہیں، لیکن کابینہ کا اجلاس اس بات پر ہوتا ہے کہ اسلام آباد پر کیسے چڑھائی کرنی ہے۔ وزیراعظم نے بالکل درست کہا کہ معاشی استحکام کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ چڑھائی ناقابل قبول ہے۔
جب ملک میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں، جب سرمایہ کاری آ رہی ہے، جب مہنگائی کم ہو رہی ہے، تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان کا مقصد 9 مئی کو دہرانا ہے۔ جتھوں کے ذریعے وفاق پر حملہ آور ہونا ہے۔
آئین پاکستان واضح ہے۔ آرٹیکل 232 کہتا ہے جب کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال ایسی ہو جائے کہ حکومت رٹ قائم نہ رکھ سکے، یا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبہ وفاق کا ساتھ نہ دے، تو صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر سکتا ہے۔ اور آرٹیکل 234 کہتا ہے اگر صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے تو اسے معطل کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی حکومت نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم افغانستان سے بات کریں گے۔ یعنی وفاق کی خارجہ پالیسی کو بھی وہ چیلنج کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہرگز قبول نہیں، اور افغان طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو روکنا ہوگا۔ لیکن کے پی حکومت افغان رجیم کی ترجمان بنی ہوئی ہے۔یہ دہشت گردی پر خاموشی دراصل ملک دشمنی کے مترادف ہے،
کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ جمہوریت پر حملہ ہے۔ ان سے سوال ہے کہ کیا جمہوریت یہ ہے کہ آپ عوام کے پیسے سے جتھے تیار کر کے وفاق پر چڑھائی کریں؟ کیا جمہوریت یہ ہے کہ آپ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے دیں اور خود بنی گالہ اور اڈیالہ کے چکر لگاتے رہیں؟
خیبر پختونخوا کے عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ وہ محب وطن ہیں، بہادر ہیں، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ لیکن ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان پر ایک ایسی ٹولہ مسلط ہے جس کا ایجنڈا صرف عمران خان کا رونا ہے۔
ایمرجنسی کا نفاذ دراصل خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کی اپنی نااہل حکومت سے نجات دلانا ہے۔ وہاں سیکیورٹی اداروں کو کھلی اجازت ملے گی، سی ٹی ڈی کو دوبارہ فعال کیا جائے گا، ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہونے کی بجائے عوام پر لگیں گے۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صدر کو ایڈوائس بھیجیں۔ یہ آئینی عمل ہے۔ اس میں کوئی غیر آئینی کام نہیں۔ صدر مملکت کے پاس اختیار ہے اور حالات اس اختیار کے استعمال کے متقاضی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاست نے مشکل فیصلے کیے، اسی میں قوم کی بقا تھی۔ آج بھی وہی وقت ہے۔ خیبر پختونخوا کو بچانا ہے تو وہاں ایمرجنسی لگانا ہوگی، وہاں کی موجودہ انتشار پسند حکومت سے جان چھڑانا ہوگی، اور وہاں کے عوام کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ وفاق ان کے ساتھ ہے، اسلام آباد ان کے ساتھ ہے، اور پورا پاکستان ان کے ساتھ ہے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔














