موڈیز نے حکومتی کارکردگی پر مہر لگا دی، سسٹم تو یہی چلے گا

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم کا عنوان:قلم کہانی
تحریر:سید صداقت علی شاہ

30جولائی کی بات ہے، ملک میں ہر طرف غل مچ گیاکہ ”سسٹم ڈھے گیا ہے“۔ ہر طرف سے ”آواز“ آنے لگی کہ ”جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا“۔ پھر 18اگست کو سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دے دیا۔ اڈیالہ کے قیدی کو وہ ریلیف بھی دے دیا گیا جو مانگا بھی نہیں گیا تھا۔ ایک بار پھر شور اٹھا۔ ”ہواؤں کا رخ بدل گیا ہے، ڈیل ہو گئی، حکومت کے دن گنے جا چکے“۔ 18کے بعد 24اگست آئی۔ اور کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ”سی اے اے ون“ سے بڑھاکر ”بی تھری“ کر دی۔ اس موقع پر حیدر علی آتش خوب یاد آئے:۔
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
بات 30جولائی 2026سے شروع ہوئی تھی۔ ان 26دنوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا۔ جس کسی نے جو کچھ کہا، وہ تاریخ کا حصہ ہو گیا۔ مگر ”موڈیز“ کی طرف سے جو تازہ ہوا کا جھونکا آیا ہے، اس کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ سب کچھ بھلانے کو دل چاہتا ہے۔ موڈیز کی جانب سے پیرکوجاری بیان کے مطابق” پاکستان کی ریٹنگ کو بی تھری تک اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ اس توقع کی عکاسی کررہاہے کہ حکمرانی اور پالیسی سازی میں بہتری کے باعث حکومت ملک کے بیرونی شعبے میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب رہے گی۔ موڈیز کے مطابق اگست 2025 میں پاکستان کی ریٹنگ سی اے اے ون مقرر کیے جانے کے بعد سے ملک کو درپیش بیرونی کمزوریوں کے خطرات میں مزید کمی آئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسے معاشی استحکام کے تسلسل سے تقویت ملی ہے “۔
موڈیز نے صرف یہیں بس نہیں کیا۔ آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”شرح سود میں کمی کے باعث ملکی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی اور مالیاتی صورتحال میں بہتری نے پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں بہتری اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ملکی معیشت گزشتہ ادوار کے مقابلے میں بیرونی جھٹکوں( جس میں مشرق وسطیٰ کا تنازع بھی شامل ہے) کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت پیدا کر رہی ہے“۔
موڈیز نے کہا کہ ”جولائی 2026 کے اختتام تک پاکستان کے سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریبا 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو جولائی 2025 کے آخر میں 14 ارب ڈالر تھے۔ یہ ذخائر تقریبا تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ موڈیز نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحات کے پروگرام پر مسلسل عمل درآمد سے پالیسیوں کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے، معاشی استحکام برقرار رہا ہے اور سرکاری و بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ پاکستان نے بتدریج بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی بھی حاصل کی ہے۔ اس دوران اپریل 2026 میں پاکستان نے تین سالہ مدت کا 75 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا جبکہ مئی 2026 میں چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں اپنا پہلا 1.75 ارب چینی یوآن، یعنی تقریبا 25 کروڑ ڈالر کا پائونڈا بانڈ جاری کیاگیا۔ اس پیش رفت سے پاکستان کو ایک جانب زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور دوسری جانب مالی سال 2026 کے دوران اپنی تمام بیرونی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد ملی۔ ریٹنگ ایجنسی نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت برقرار رکھتی ہے، سرکاری و بین الاقوامی شراکت داروں سے بروقت رقوم ملتی رہتی ہیں اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی بتدریج رسائی جاری رہتی ہے تو مالی سال 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریبا 19 سے 20 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں 20 سے 21 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں“۔
ریٹنگ ایجنسی نے توقع ظاہر کی کہ ”پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں حالیہ بہتری عارضی نہیں بلکہ نسبتاً پائیدار ثابت ہو سکتی ہے، جس کی بنیاد معاشی استحکام کے تسلسل پر ہے۔موڈیز کے مطابق اگرچہ مہنگائی اب بھی شرح مبادلہ میں تبدیلیوں اور بیرونی جھٹکوں سے متاثر ہو سکتی ہے تاہم بیرونی شعبے میں مضبوط بفر، زیادہ مستحکم معاشی ماحول اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے حکومتی عزم سے مہنگائی کے دبائو کو محدود کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں ہونے والی بہتری کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔موڈیز کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خصوصا ًجغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں افراط زر کے حوالہ سے ایک بڑا خطرہ ہے تاہم موڈیز کا خیال ہے کہ پاکستان کے مضبوط ہوتے پالیسی فریم ورک اور معیشت کی بہتر مزاحمتی صلاحیت ان منفی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی“۔
موڈیز کی جانب سے کیا کہا گیا۔ ایک بار پھر لکھنے کو دل چاہتا ہے۔ کہا گیا ”حکمرانی اور پالیسی سازی میں بہتری آئی“۔ یہ بھی لکھا گیا کہ ”حکومت ملک کے بیرونی شعبے میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب ہوئی“۔ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”پاکستان کو درپیش بیرونی کمزوریوں کے خطرات میں مزید کمی آئی ہے“۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، آئی ایم ایف پروگرام کا کامیاب تسلسل، معاشی استحکام، عالمی منڈیوں تک پاکستان کی بتدریج رسائی، قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری، پاکستان کا مضبوط ہوتا پالیسی فریم ورک اور معیشت کی بہتر مزاحمتی صلاحیت جیسے الفاظ موڈیز نے بار بار لکھے۔
یہ 30جولائی کی بات ہے، ملک میں ہر طرف غل مچ گیاکہ ”سسٹم ڈھے گیا ہے“۔ ہر طرف سے ”آواز“ آنے لگی کہ ”جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا“۔حکومت ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ سسٹم بھی ہے۔ اور وہ ڈیلیور کر رہا ہے۔ یہ ”موڈیز“ نے کہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ”کارکردگی“ پر مہر ”موڈیز“ نے لگا دی ہے۔اب کہنا تو بنتا ہے کہ ”سسٹم تو یہی چلے گا“۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions