نانا پاٹیکر: اداکار سے ملامتی صوفی تک

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم نگار: وقاص عزیز

8 اکتوبر 2026 کی صبح گوا کے ڈونا پاؤلا میں ایک فلیٹ میں سناٹا تھا۔ ایک شخص جس نے چالیس سال تک پردے پر چیخ کر پورے ہندوستان کو جگایا تھا، وہ خود خاموش ہو چکا تھا۔ نانا پاٹیکر، عمر 75 سال، دل کا دورہ۔ ڈاکٹر شیکھر سالکر کی ٹیم نے 45 منٹ تک اس کے سینے کو دبایا، سی پی آر کیا، ایمبولینس اس کے گھر سے ایک کلومیٹر دور ہسپتال تک دوڑتی رہی، مگر وہ جا چکا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا آیا “Left main coronary artery thrombosis”۔

جب اس کی میت پونے کے ڈونجے گاؤں میں اس کے اپنے فارم ہاؤس پر پہنچی تو وہاں کوئی فلمی میلہ نہیں تھا، وہاں کسان کھڑے تھے۔ وہی کسان جن کے لیے اس نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ سے لے کر جیکی شراف تک سب آئے، مگر اصل جنازہ ان کسان بیواؤں کا تھا جو قطار میں کھڑی رو رہی تھیں۔ یہ جنازہ کم اور عرس زیادہ لگ رہا تھا، کیونکہ ایک ملامتی صوفی رخصت ہوا تھا۔

نانا پاٹیکر ایک اداکار تھا، یہ دنیا جانتی ہے۔ مگر وہ اداکار سے بڑھ کر کیا تھا، یہ بہت کم لوگ جانتے تھے۔ وہ ملامتی صوفی تھا۔

صوفیاء میں ایک سلسلہ ملامتیہ کہلاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو جان بوجھ کر اپنی ذات پر ملامت لیتے ہیں تاکہ لوگ انہیں ولی نہ سمجھیں، تاکہ شہرت ان سے دور بھاگے۔ وہ نیکی ایسے کرتے ہیں جیسے گناہ کیا ہو، چھپا کر، ڈر کر۔

نانا کی پوری زندگی اسی تعریف پر پوری اترتی تھی۔ اس نے تین نیشنل ایوارڈ جیتے، فلم فیئر جیتے، پدم شری جیتا، مگر وہ آج بھی ممبئی کے ایک چھوٹے سے ون بیڈروم فلیٹ میں رہتا تھا۔ اس کی ماں اسی فلیٹ میں اس کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے گھر میں کوئی نوکر نہیں تھا، وہ خود سبزی لینے جاتا تھا، خود کھانا بناتا تھا، زمین پر بیٹھ کر کھاتا تھا۔

ایک بار ایک صحافی اس کے گھر گیا تو اس نے دیکھا کہ نانا کی پینٹ پھٹی ہوئی ہے۔ صحافی نے پوچھا سر آپ تو کروڑ پتی ہیں؟ نانا نے ہنس کر کہا تھا، “پھٹی ہوئی ہے تو کیا ہوا، میرا جسم تو ڈھکا ہوا ہے نا؟ جس کے پاس پینٹ ہی نہیں اس کا سوچو۔”

یہی ملامت تھی۔ خود کو چھوٹا رکھنا، دوسروں کو بڑا رکھنا۔

پردے پر نانا کا غصہ مشہور تھا۔ “ایک مچھر سالا آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے” سے لے کر “کرانتی ویر” کی تقریر تک۔ لوگ سمجھتے تھے یہ غصہ اداکاری ہے۔ نہیں، یہ عشق تھا۔

عشق جب حد سے بڑھ جائے تو غصہ بن جاتا ہے۔ اسے نظام پر غصہ آتا تھا، جھوٹ پر غصہ آتا تھا، ظلم پر غصہ آتا تھا۔ اسی غصے نے اسے سچا بنایا تھا۔

وہ ایک انٹرویو میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دو۔ وہ کہتا تھا، “اس سے بڑا لیبر لاء آج تک کوئی نہیں بنا سکا۔”

اسے قرآن کی وہ آیت بہت پسند تھی جس کا مفہوم ہے کہ اگر تم نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا پوری انسانیت کی جان بچائی۔ وہ کہتا تھا، “مذہب کتاب میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔”

اس لیے سوشل میڈیا پر جب لوگ اسے مسلمان، خفیہ مسلمان کہتے تھے تو وہ ہنستا تھا۔ وہ کہتا تھا، “میں انسان ہوں، یہی بہت ہے۔ برتن ہندو مسلم ہوتا ہے، پانی تو ایک ہی ہوتا ہے

نانا کی سب سے بڑی فلم کوئی فلم نہیں تھی، اس کی سب سے بڑی فلم اس کی فاؤنڈیشن تھی۔

2015 میں مہاراشٹر میں بدترین قحط پڑا تھا۔ مراٹھواڑہ میں کسان روز خودکشی کر رہے تھے۔ سرکار سوئی ہوئی تھی۔ بالی ووڈ کے ستارے دبئی میں شوز کر کے پیسے کما رہے تھے۔

اس وقت نانا اور اس کا دوست مکرند اناسپورے ایک پرانی جیپ میں گاؤں گاؤں گئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک کسان کی بیوہ چولہا جلانے کے لیے رو رہی ہے۔ وہاں سے انہوں نے نام فاؤنڈیشن بنائی۔

اس فاؤنڈیشن نے کیا کیا؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:

1. 500 سے زائد کسان بیواؤں کو 25-25 ہزار روپے کے چیک دیے، مگر کبھی کسی کو اسٹیج پر نہیں بلایا، رات کے اندھیرے میں ان کے گھر جا کر دے آتا تھا۔

2. 80 سے زائد گاؤں میں ندیاں گہری کیں، 500 سے زیادہ تالاب بنائے۔

3. ہزاروں کسانوں کو بیج اور کھاد مفت دی۔

4. اس نے اپنی فلم ویلکم کی پوری کمائی اس فاؤنڈیشن کو دے دی تھی۔

ایک بار ایک کسان نے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ نانا نے اسے ڈانٹا اور کہا، “پاؤں اس کے پکڑو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، میرے نہیں۔ میں تم جیسا ہی ہوں۔”

یہی وہ لمحہ تھا جب وہ اداکار سے صوفی بنا تھا۔

اس کے بیٹے ملہار نے بتایا تھا کہ وہ گوا میں اپنے چھوٹے سے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ رات 2:30 بجے اس نے اپنے دوست کو میسج کیا “طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی”۔ دوست سو رہا تھا۔ پھر اس نے کال کی۔ دوست بھاگ کر آیا تو دیکھا نانا پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے اپنے نگران کو ہسپتال بھیجا، ایمبولینس آئی، ڈاکٹروں نے کوشش کی، مگر وہ جا چکا تھا۔

وہ مرنے سے دو دن پہلے تک شوٹنگ کر رہا تھا۔ اس کی آخری فلمیں O Romeo اور ویب سیریز Sankalp تھیں۔ وہ کہتا تھا، “مرنا تو ایک دن ہے، مگر مرنے سے پہلے کچھ کر کے مرو۔”

نانا پاٹیکر مر گیا، مگر وہ ہمیں تین سبق دے گیا ہے

پہلا: شہرت گندگی ہے، اس سے بچو۔ وہ پدم شری واپس کرنے کو تیار تھا، کیونکہ اسے لگتا تھا یہ بوجھ ہے۔

دوسرا: مذہب لڑنے کے لیے نہیں، جوڑنے کے لیے ہے۔ وہ مندر بھی جاتا تھا، درگاہ پر بھی چادر چڑھاتا تھا، چرچ میں بھی موم بتی جلاتا تھا۔ وہ کہتا تھا، سب جگہ وہی ایک ہے۔

تیسرا: اگر تمہارے گھر کے باہر کوئی بھوکا سو رہا ہے اور تم مندر میں بھجن کر رہے ہو، تو تمہارا بھجن بیکار ہےـ۔

آج جب دنیا میں نفرت، کرپشن اور دکھاوا عام ہے، نانا جیسے لوگوں کی بہت ضرورت تھی۔ وہ چلا گیا، مگر اس کا کردار رہ گیا۔

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

نانا خدا کے بندوں سے پیار کرنے والا بندہ تھا۔ اس لیے وہ مر کر بھی زندہ ہے۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

Author

  • M Mubbashir Rauf

    Mubbashir Rauf is the WEB EDITOR of Click Pakistan. He can be reached at mmubbashirrauf@gmail.com.

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions