سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں طلباکے احتجاج کے دوران مبینہ مداخلت،پاک فوج نے افسر کو تحویل میں لے لیا، تحقیقات کا آغاز

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

پاک فوج نے سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد (روات) کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک فوجی افسر کی مبینہ مداخلت، ہاتھا پائی اور ہوائی فائرنگ کے واقعے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو تحویل میں لے کر باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے۔

پاک فوج کے مطابق فوج کا ڈسپلین اور تادیبی نظام انصاف اور غیر جانبداری پر مبنی ہے۔ تمام قصور واروں کو ان کے کیے گئے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق پیر کو سرحد یونیورسٹی کے روات کیمپس میں طلبہ کی جانب سے فیسوں، کلاسز کی شیڈولنگ اور شعبے کے سربراہ سے متعلق درپیش انتظامی مسائل پر احتجاج جاری تھا۔

اسی اثنا میں مبینہ طور پر چند طلبہ اور اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹرآئینہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور طلبہ کی جانب سے بدتمیزی یا سیٹیاں بجانے کا واقعہ پیش آیا۔ جس پرانہوں نے اپنے شوہر، جو کہ پاک فوج میں افسر ہیں، کو کیمپس بلا لیا۔ افسر کی آمد پر معاملہ مزید بگڑ گیا اور گفتگو ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

ہوائی فائرنگ، وائرل ویڈیو اور پاک فوج کا فوری ایکشن

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو شواہد کے مطابق مذکورہ افسر نے غصے میں آ کر طلبہ پر لاٹھی یا ہاتھ سے وار کیے اور بعد ازاں اپنے پاس موجود پستول سے ہوائی فائرنگ کر دی، جس سے یونیورسٹی کیمپس میں کشیدگی پھیل گئی۔

جیسے ہی واقعے کی ویڈیو سامنے آئی، پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے اپنی دیرینہ روایات کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے معاملے کا سخت نوٹس لیا۔

عسکری حکام نے افسر کو فوراً تحویل میں لے کر تادیبی کارروائی کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی تاکہ بلا تفریق انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مشترکہ اقدامات

واقعے کے فوری بعد اسلام آباد پولیس اور سیکیورٹی ادارے کیمپس پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں کیا۔ اس وقت یونیورسٹی میں حالات بالکل معمول پر ہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے دوران طلبہ کی جانب سے کی جانے والی مبینہ اشتعال انگیزی اور مس کنڈکٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کے دونوں پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔

ویڈیو وائرل ہوتے ہی بغیر کسی تاخیر کے افسر کو تحویل میں لینا اور انکوائری کا حکم دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ادارہ قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

اس ایکشن سے ناصرف طلبہ اور عوام میں اعتماد بحال ہوا ہے بلکہ یہ پیغام بھی واضح ہو گیا ہے کہ ادارے میں ‘بلا تفریق احتساب’ کا نظام کسی بھی قسم کی قانون شکنی کو برداشت نہیں کرتا۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions