پمز میں 14 جنازے: راکھ، سوال اور ہمارا ضمیر

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

ایک سانحہ، کئی قاتل
کالم: وقاص عزیز

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی تیسری منزل پر صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایک دھماکہ ہوا۔

زچہ بچہ وارڈ میں 16 نوزائیدہ بچے تھے۔ سب ابھی چند دن کے تھے۔ کسی نے دنیا دیکھی ہی نہیں تھی۔ سب انکیوبیٹرز میں تھے۔ سب آکسیجن پر سانس لے رہے تھے۔ ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹا اور ایک منٹ میں آگ نے پوری وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

جب میں یہ تحریر اشکبار آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے لکھ رہا ہوں تو دن کا پونہ ایک ہو رہا ہے۔ ریسکیو کی 6 گاڑیاں اور 4 ایمبولینسز اپنا کام کر چکیں۔ آگ بجھ چکی ہے۔ نیوز چینلز کی سرخ سکرینیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ 14 بچے شہید ہو گئے ہیں۔ ایک بچہ کسی طرح بچ گیا ہے۔ والدین شکر ادا کر رہے ہیں لیکن باقی ماوں کی خالی کوکھ دیکھ کر یہ ماں بھی غم کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

میں سوچ رہا ہوں ان ماؤں کا کیا عالم ہو گا جنہوں نے کل رات ہسپتال سے فون پر کہا ہو گا کہ بچہ ٹھیک ہے۔ کل گھر لے آئیں گے۔

اب وہ کیا کریں گی؟ ان کے گھروں میں جھولے خالی ہیں۔ فیڈر دھلے پڑے ہیں۔ کپڑے الماری میں رکھے ہیں۔ نو ماہ ننھی جان کے آنے کی تیاری اور خوشی چند سیکنڈز میں موت لے اڑی۔

ہسپتال کے باہر ایک باپ بیٹھا تھا۔ آنکھیں سرخ تھیں۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے بس اتنا کہا کہ میرا تین دن کا بیٹا تھا۔ اندر جل گیا۔ تین دن۔ نو مہینے انتظار کے بعد تین دن۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے جدائی۔ وہ ماتم کناں تھا کہ کوئی میرا درد نہیں سمجھ سکتا۔ ہائے ہائے واقعی کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

ایک جانب یہ منظر دیکھ کر دل لہو سے بھرا ہوا ہے تو دوسری جانب ستم ظریفی یہ دیکھیے کہ پمز پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔ سالانہ اربوں کا بجٹ۔ ہزاروں ملازمین۔ لیکن بنیادی فائر سیفٹی زیرو۔

یہاں چند بنیادی سوال میں وفاقی وزیر صحت جناب مصطفی کمال صاحب سے کرنا چاہوں گا کہ
سوال: نرسری میں سموک ڈٹیکٹر کیوں نہیں تھا؟ سپرنکلر سسٹم کیوں نہیں تھا؟ فائر ایگزٹ کہاں تھا؟ عملے کو ایمرجنسی ٹریننگ کس نے دی؟ انکیوبیٹرز کو 30 سیکنڈ میں نکالنے کا پروٹوکول کیوں نہیں تھا؟

پمز ترجمان نے کہا 15 بچے تھے، ایک ڈاکٹر نے ایک بچایا۔ مطلب 14 کے لیے کوئی پلان ہی نہیں تھا۔ انتظامیہ نے کاغذوں پر تو سب لکھا ہو گا، زمین پر کچھ نہیں تھا۔ اس ناکامی کی سزا 14 لاشیں ہیں۔

وزیر صحت نے کہا آگ AC کے دھماکے سے لگی۔ کیا انہیں پتہ تھا مشینیں پرانی ہیں؟ اگر پتہ تھا کہ بجلی کا نظام لوڈ نہیں اٹھا سکتا۔ تو 5 سال میں ایک بار بھی اس سسٹم کی اپگریڈیشن کیوں نہیں کی گئی؟

ہیلتھ کا بجٹ ہر سال GDP کا 1 فیصد سے بھی کم رہتا ہے۔ مشینیں 20 سال پرانی۔ AC کرائے کے۔ وائرنگ جھولے کھا رہی۔ CNN نے لکھا “government facilities are chronically underfunded and short-staffed”۔

جب آپ بچوں کی جان پر پیسہ خرچ نہیں کریں گے تو راکھ ہی ملے گی۔

پمز کی عمارت 50 سال پرانی ہے۔ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کس نے دیا؟ آخری فائر آڈٹ کب ہوا؟ ہر سرکاری عمارت کے لیے قانون ہے کہ سال میں 2 بار فائر ڈرل ہو۔ ہوئی؟

CDA کے DG اب انکوائری کمیٹی میں بیٹھے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حادثے سے پہلے وہ کہاں تھے؟ بلڈنگ کی NOC دیتے وقت انہوں نے وائرنگ چیک کی تھی؟ نہیں۔

پاکستان ہیلتھ کیئر کمیشن، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، ان سب کا کام ہے مانیٹرنگ۔ لیکن یہ صرف کاغذ مانگتے ہیں۔ جا کر چیک نہیں کرتے۔

آکسیجن کے سلنڈر نرسری میں رکھنے کے SOPs کہاں ہیں؟ AC کی مینٹیننس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ کوئی نہیں پوچھتا۔ جب تک لاشیں نہ گریں۔

وزیراعظم نے “گہرے دکھ” کا اظہار کیا۔ تحقیقات کا حکم دیا۔ فورا اعلی سطحی میٹنگ بلائی۔ سیکرٹری ہیلتھ کو عہدے سے ہٹا دیا۔ وزیر صحت مصطفی کمال کو اسلام آباد پہنچنے کا حکم دیا۔ تحقیقاتی کمیٹی بنی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر فضل چوہدری سب سے پہلے ہسپتال پہنچے۔ غمزدہ خاندانوں کو پرسہ دیا۔ لیکن پچھلے 10 سال میں کتنی بار صحت کو ترجیح دی گئی؟ بجٹ تقریر میں شعبہ صحت کے لیے 2 منٹ اور میٹرو کے لیے 20 منٹ۔ ترجیحات یہی بتاتی ہیں کہ ہمارے لیے سڑک زیادہ اہم ہے، سانس لینے والا بچہ نہیں۔

اور سب سے بڑا سوال: نئے صوبے بناو؟

آج کل تمام سیاسی جماعتیں ٹی وی پر بیٹھ کر “نئے صوبے بناو” کے نعرے لگا رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے جنوبی پنجاب صوبہ، کوئی کہتا ہے ہزارہ صوبہ، کوئی سرائیکی صوبہ۔

لیکن میں پوچھتا ہوں،جو 4 صوبے پہلے سے موجود ہیں، کیا وہاں کام ٹھیک ہو رہا ہے؟

کیا پنجاب کے DHQ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی ہے؟
کیا سندھ کے سول ہسپتال میں انکیوبیٹرز چل رہے ہیں؟
کیا KPK اور بلوچستان کے THQ میں ڈاکٹر موجود ہیں؟

جواب نفی میں ہے۔
جب موجودہ سیٹ اپ اپنے شہریوں کو ایک محفوظ ہسپتال نہیں دے سکا،جب بچے AC کے پھٹنےسے مر رہے ہیں، تو نئے صوبے بنا کر ہم کون سا تیر مار لیں گے؟

نئے صوبے کا مطلب نئی سیکرٹریٹ، نئی گاڑیاں، نئے پروٹوکول۔ لیکن کیا نئی نرسری؟ کیا نئی مشینیں؟ کیا نئی جانوں کی حفاظت؟ممکن ہو گی؟

پہلے موجودہ نظام ٹھیک کریں۔ پھر نعرے لگائیں۔ ورنہ یہ نعرے بھی ان 14 بچوں کے جنازوں کی طرح کھوکھلے ثابت ہوں گے۔

سب سے بڑے قاتل ہم عوام ہیں۔ ہم نے سوال نہیں کیا۔ ہم نے احتجاج نہیں کیا۔ ہم نے ووٹ کارکردگی پر نہیں، نعرے پر دیا۔

Reuters نے لکھا “facilities are under-resourced while watchdogs have frequently criticised mismanagement”۔ یعنی ہمیں پتہ تھا۔ ہم چپ تھے۔ آج 14 بچے ہماری خاموشی کی قیمت چکا گئے۔

یہ وہی پمز ہے جسے “پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال” کہا جاتا ہے۔ یہیں VIP علاج کراتے ہیں۔ یہیں غریب آخری امید لے کر آتا ہے۔

جب بڑے ہسپتال کی یہ حالت ہے تو باقی DHQ اور THQ میں کیا ہو رہا ہو گا؟ وہاں تو شاید آگ بجھانے والی بالٹی بھی نہ ہو۔

تاریخ گواہ ہے۔ 3 دن میڈیا شور کرے گا۔ انکوائری کمیٹی بنے گی۔ رپورٹ 6 ماہ بعد آئے گی۔ 2 لوگ معطل ہوں گے۔ پھر فائل بند۔
لیکن اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

1. انتظامیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ۔ انکوائری نہیں FIR۔
2. 30 دن میں تمام سرکاری ہسپتالوں کا فائر آڈٹ۔ رپورٹ پبلک ہو۔
3. نرسری اور ICU میں سموک ڈٹیکٹر، سپرنکلر لازمی۔ نہ ہونے پر ہسپتال سیل۔
4. صحت کا بجٹ فوری دوگنا۔ مشینیں اور عملہ پورا کیا جائے۔
5. ہر 3 ماہ بعد وزیر صحت اسمبلی میں رپورٹ پیش کرے۔

ورنہ لکھ لیں۔ یہ آخری سانحہ نہیں۔ اگلی بار یہ 14 نہیں ہوں گے، خدانخواستہ 40 ہوں گے۔

رات کو جب آپ اپنے بچے کو کمبل اڑھائیں گے تو ایک لمحے کے لیے ان 14 ماؤں کا سوچیں جن کے بچوں کا جنازہ آج اٹھے گا۔

انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ بس اس ملک میں پیدا ہو گئے تھے جہاں بچے کی جان AC سے سستی ہے۔

یا اللہ ان 14 معصوموں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرما۔ ان کی ماؤں کو صبر جمیل دے۔ اور ہمیں اتنی غیرت دے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے محفوظ ہسپتال بنا سکیں۔ آمین۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions