ڈاکٹر راج محمد آفریدی
درہ آدم خیل
سرسبز پہاڑوں، ندیوں اور صنوبر کے گھنے جنگلوں کی آغوش میں بسی وادی کالام کی خوب صورت فضاؤں میں جب علم و ادب کی شمع روشن ہو تو اس کی روشنی دلوں کو منور کر دیتی ہے۔ کسی پُر فضا اور دور افتادہ وادی میں ادب کے اس چراغ کو جلائے رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ عام حالات میں کسی پُررونق شہر کے ایئر کنڈیشنڈ ہال میں ایک دن کی ادبی کانفرنس منعقد کرنا بھی منظمین کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے ۔ ایسے میں جب پہاڑوں کی گود میں، جہاں موسم اور سفری سہولیات کی اپنی دشواریاں ہوتی ہیں، دو دن کے لیے ایک پروقار اور عظیم الشان ادبی میلہ سجایا جائے تو یہ بلاشبہ ادب پروری کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ اس بے مثال کاوش کا سہرا سخن فاؤنڈیشن کے متحرک چیئرمین اور ادب و ادیبوں سے والہانہ محبت رکھنے والے وقاص عزیز کے سر جاتا ہے۔
وقاص عزیز نے 19 اور 20 ستمبر کو کالام کی وادی میں نسلِ نو کے لیے اس دو روزہ ادبی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ انھوں نے 2013ء میں ’نسلِ نو تحریک‘ کا آغاز کیا تھا اور ان کی سب سے بڑی اور منفرِد خوبی یہ ہے کہ وہ روایتی ادبی تقاضوں سے ہٹ کر ہمیشہ نئی نسل کو ادبی تقریبات اور منصۂ شہود پر پیش پیش رکھتے ہیں۔ کالام میں نسلِ نو کا یہ شان دار دو روزہ ادبی میلہ ’انجمنِ کوہِ ادب‘ کے باہمی تعاون سے سجایا گیا، جس کا قیام جولائی 2025ء میں عمل میں آیا تھا اور آفتابِ عالم تاب اس کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کانفرنس کے پہلے دن کا آغاز انتہائی علمی اور فکر انگیز سیشنز سے ہوا۔ پہلا سیشن “جدید اردو ادب کے بدلتے رجحانات اور مصنوعی ذہانت” جیسے موثر اور عصری موضوع پر مبذول تھا۔ اس اہم سیشن میں سب سے پہلے وقاص عزیز نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے ایک کلیدی نقطہ اٹھایا کہ “ہمیں مصنوعی ذہانت کو اپنا آقا نہیں بنانا بلکہ اسے ایک دوست اور مددگار ٹول کے طور پر استعمال کرنا ہے۔”
اس کے بعد معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر تحسین بی بی نے اسی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وقاص عزیز کے اٹھائے گئے چند سوالات کے سیر حاصل جوابات دیے۔ انھوں نے کہا کہ “مصنوعی ذہانت احساسات، جذبات اور انسانی لمس سے مکمل طور پر عاری ہے اسی لیے اس کی تخلیق کردہ تحریر بھی روح اور احساس سے خالی ہوتی ہے۔”
سکردو کی دور افتادہ وادی سے تشریف لائے ہوئے ممتاز ادیب ڈاکٹر عاشق حسین عاشق نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے خوف زدہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بالآخر انسان ہی کا بنایا ہوا ایک تکنیکی آلہ ہے۔
اس بحث میں ناصر علی سید نے اپنے حال ہی میں کیے گئے یورپ، کینیڈا اور امریکہ کے اسفار کے مشاہدات کی روشنی میں انتہائی دل چسپ زاویہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں حال ہی میں مغرب کے دورے سے لوٹا ہوں، وہاں یہ سوال سرے سے موجود ہی نہیں ہے کہ اے آئی اور ادب کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ میرے نزدیک اے آئی سے نہ تو ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس سے بلاوجہ کی دوستی گانٹھنے کی۔ ادب کی راہ اپنی جگہ الگ اور یکتا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کا راستہ بالکل مختلف ہے۔”
بعد ازاں ناز پروین نے موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی افادیت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سیشن کے آخر میں صدرِ محفل محمد حمید شاہد نے تکنیکی اور جمالیاتی دونوں لحاظ سے موضوع کا بھرپور احاطہ کرتے ہوئے ایک شان دار اور فکر انگیز صدارتی خطبہ پیش کیا۔
اسی روز اگلا سیشن فکشن کے حوالے سے تھا جس میں اردو فکشن کی معاصر صورتِ حال، اسلوب اور چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس بزم میں محمد حمید شاہد، ڈاکٹر اویس قرنی، امتیاز قریشی اور ڈاکٹر تحسین بی بی نے اپنے اپنے منفرد اور وزنی نقطہ ہائے نظر پیش کیے جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
فکشن کے سیشن کے اختتام پر ظہرانہ دیا گیا۔ کھلے آسمان تلے، کالام کے خوب صورت قدرتی مناظر کے بیچ کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔ کھانے کے بعد کا وقت اس وقت حیرت اور مسرت کا شاہ کار بن گیا جب دو مقامی بچوں نے احمد فراز کے اشعار اپنے مخصوص انداز میں اس روانی سے سنائے کہ تمام حاضرین ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ ان بچوں نے بلا شبہ پورا میلہ لوٹ لیا۔ اس کے فوراً بعد مقامی بچوں نے احمد فراز کی حیات اور ان کی ادبی خدمات پر ایک خوب صورت ڈراما پیش کیا جس نے تمام شرکا کے دل جیت لیے۔
دوپہر کے بعد کی نشست میں “بچوں کا ادب اور ہماری ترجیحات” کے اہم عنوان پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ادیبوں کی ایک مخصوص اور پروقار محفل سجائی گئی۔ مجھے بھی اس محفل میں بحیثیتِ پینلسٹ شرکت اور گفتگو کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس نشست میں بچوں کے ادب کی موجودہ صورتِ حال، نئ نسل کی تربیت اور پبلشنگ کے ترجیحی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ حاضرین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات اور ادیبوں کے جوابات کا سلسلہ اتنا دل چسپ اور متحرک رہا کہ وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔
پہلے دن کا اختتام ایک شان دار پشتو مشاعرے پر ہوا جس میں نسلِ نو کے شاعروں اور مقامی نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے خوب صورت کلام سے وادیٔ کالام کی شام کو شعر و نغمہ کی ردا اوڑھا دی۔
مجموعی اعتبار سے یہ کامیاب میلہ رہا۔ اس کا سہرا وقاص عزیز کے سر جنھوں نے کئی مشکل مراحل طے کرکے اس کارنامے کو سرانجام دیا ۔ امید ہے آئندہ بھی موصوف ایسے میلوں کا انعقاد کرتے رہیں گے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔
About The Author
Muhammad Mubbashir Rauf
Mubbashir Rauf is the WEB EDITOR of Click Pakistan. He can be reached at mmubbashirrauf@gmail.com.













