بین الاقوامی سیاست میں کچھ معاہدے کاغذ پر چند صفحات ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ بھی بظاہر ایک ایسا ہی معاملہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ تین ممالک کے درمیان باہمی سلامتی کا ایک انتظام دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر اسے خطے کی موجودہ صورتِ حال، بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں اور مسلم دنیا کی دفاعی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ نظر آتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اس معاہدے میں کیا لکھا گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کا مطلب کیا ہے؟ اور شاید اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ معاہدہ کیا بن سکتا ہے؟ سعودی عرب کی سلامتی گزشتہ کئی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک اہم موضوع رہی ہے۔ یمن کی جنگ، حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و عرب ریاستوں کے درمیان مسلسل مقابلے نے ریاض کو یہ احساس ضرور دلایا ہے کہ صرف دولت اور جدید ترین اسلحہ کسی ملک کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ایک ایسا علاقائی دفاعی ماحول بھی ضروری ہے جس میں کسی ممکنہ حملہ آور کو یہ یقین نہ ہو کہ وہ ایک ملک کو تنہا نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہی سے مکہ معاہدے کی اہمیت شروع ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک رکن کے خلاف مسلح جارحیت کو مشترکہ سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے تو پھر کسی ممکنہ مخالف کے لیے حساب کتاب پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ جس ملک پر وہ حملہ کرنے جا رہا ہے، اس کے پیچھے کون کھڑا ہے، اور کسی کارروائی کے نتیجے میں بحران کہاں تک پھیل سکتا ہے۔ جنگ روکنے کے لیے ہمیشہ جنگ لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جنگ روکنے کے لیے صرف اتنی طاقت دکھانا کافی ہوتا ہے کہ مخالف کو اپنی کامیابی پر یقین نہ رہے۔ مکہ معاہدے کی ایک غیر معمولی خصوصیت اس کے تین فریقوں کی نوعیت ہے۔ ترکی کے پاس ایک بڑی فوج، طویل عسکری تجربہ اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی سے لے کر مختلف دفاعی نظاموں تک ترکی نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیت کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ پاکستان کی اہمیت مختلف ہے۔ ایک بڑی منظم فوج اور وسیع جنگی تجربے کے علاوہ پاکستان دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے۔ یہ حقیقت کسی بھی علاقائی حساب کتاب میں نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ اور پھر سعودی عرب ہے، جس کے پاس وہ چیز ہے جو باقی دونوں کے پاس اس پیمانے پر نہیں: غیر معمولی اقتصادی طاقت، توانائی کے عالمی نظام میں مرکزی حیثیت اور حرمین شریفین کی وجہ سے مسلم دنیا میں منفرد مذہبی و سیاسی مقام۔ یوں دیکھا جائے تو یہ محض تین ریاستیں نہیں بلکہ تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کا ملاپ ہے۔ فوجی طاقت، دفاعی ٹیکنالوجی، ایٹمی صلاحیت، اقتصادی وسائل اور جغرافیائی اہمیت۔ گر ان عناصر کو ایک مربوط دفاعی تعاون میں تبدیل کیا جائے تو اس کے اثرات کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں رہیں گے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے : کیا یہ اتحاد ایران کے خلاف ہے؟ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاست کو دیکھتے ہوئے اس سوال سے بچنا مشکل ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان برسوں کی رقابت، یمن میں حوثیوں کا کردار اور خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی نے پہلے ہی ایک حساس ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ سعودی عرب کے لیے ایران سے جڑے سکیورٹی خدشات یقیناً حقیقی ہیں۔ لیکن مکہ معاہدے کو محض “ایران مخالف اتحاد” قرار دینا شاید اس کی سب سے بڑی ممکنہ غلط تشریح ہوگی۔ وجہ سادہ ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے۔ دونوں کے درمیان ایک طویل سرحد موجود ہے اور دونوں ممالک کے لیے باہمی تعلقات کو مکمل دشمنی میں تبدیل کرنا کسی طور فائدہ مند نہیں۔ دوسری طرف ترکی بھی ایران کے ساتھ محض دشمنی کے رشتے میں نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، علاقائی مفادات اور کئی معاملات میں تعاون بھی موجود ہے، اگرچہ بعض میدانوں میں مسابقت بھی جاری رہتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد اور انقرہ کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ یہی ہوگا کہ یہ دفاعی تعاون کسی مخصوص ملک کو گھیرنے کے بجائے وسیع تر علاقائی سلامتی کے تصور پر قائم رہے۔ کیونکہ اگر مکہ معاہدہ کسی نئی فرقہ وارانہ صف بندی کی بنیاد بن گیا تو جس مقصد کے لیے دفاعی اتحاد قائم کیا گیا ہے، وہی مقصد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں شاید سب سے پیچیدہ پوزیشن پاکستان کی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست اور اہم شراکت دار ہے۔ دوسری طرف ایران ایک پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کو جغرافیہ، تجارت اور سرحدی سلامتی سمیت کئی مستقل معاملات میں تعلقات برقرار رکھنا ہیں۔ اسلام آباد کے لیے چیلنج یہی ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے دفاعی مفادات کے ساتھ کھڑا رہے، لیکن خود کو کسی ایسی علاقائی محاذ آرائی کا حصہ نہ بننے دے جو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف لے جائے۔ یہ توازن آسان نہیں ہوگا۔ لیکن شاید یہی مکہ معاہدے کی سب سے بڑی آزمائش بھی ہے۔ اگر پاکستان اور ترکی اس تعاون کو محض ایک دفاعی شراکت کے طور پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ خطے میں استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ اگر یہی تعاون کسی مخصوص دشمن کے خلاف عسکری صف بندی میں تبدیل ہوگیا تو صورتحال یکسر مختلف ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس معاہدے کو ایک اضافی نفسیاتی وزن ضرور دیتی ہے۔ تاہم یہاں جذبات کے بجائے حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس معاہدے کو سعودی عرب کے لیے خودکار پاکستانی جوہری چھتری قرار دینا درست نہیں ہوگا، جب تک کوئی واضح سرکاری دفاعی یا جوہری ضمانت سامنے نہ آئے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ممکنہ مخالف کے لیے پاکستان کی ایٹمی حیثیت کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ یہی تزویراتی ابہام بعض اوقات بازدار قوت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ممکنہ حملہ آور کو معلوم ہوتا ہے کہ بحران کے اگلے مرحلے میں حالات کہاں تک جا سکتے ہیں، لیکن اسے یہ مکمل یقین نہیں ہوتا کہ مخالف اتحاد کس مقام پر کیا ردعمل دے گا۔ اور جنگ کے فیصلوں میں یہی غیر یقینی کبھی کبھی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ مکہ معاہدے کا ایک اور پہلو عالمی طاقتوں کے لیے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ خلیج کی سلامتی کئی دہائیوں تک بڑی حد تک امریکی عسکری طاقت سے وابستہ رہی ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں اب بھی امریکہ کے ساتھ گہرے دفاعی اور سیاسی تعلقات رکھتی ہیں۔ اس لیے مکہ معاہدے کو واشنگٹن سے مکمل دوری کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن دنیا بدل رہی ہے۔ علاقائی ریاستیں اب یہ چاہتی ہیں کہ ان کی سلامتی صرف کسی بیرونی طاقت کے تحفظ پر منحصر نہ ہو۔ وہ اپنی دفاعی صنعت، مقامی عسکری صلاحیت اور علاقائی شراکت داری کو بھی مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔ مکہ معاہدہ اسی بدلتی ہوئی سوچ کی ایک علامت ہو سکتا ہے۔ شاید مسلم دنیا پہلی مرتبہ سنجیدگی سے یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اگر ہمارے پاس وسائل، افرادی قوت، دفاعی ٹیکنالوجی اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے تو کیا ہم اپنی سلامتی کے لیے ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتے رہیں گے؟ اس معاہدے کو “اسلامی نیٹو” کہنا فی الحال سیاسی طور پر پرکشش ضرور ہے، لیکن عملی طور پر قبل از وقت ہوگا۔ نیٹو جیسا اتحاد صرف ایک مشترکہ اعلان سے وجود میں نہیں آتا۔ اس کے لیے مستقل ادارے، مشترکہ کمانڈ، واضح دفاعی ذمہ داریاں، مربوط فوجی منصوبہ بندی اور طویل مدتی ادارہ جاتی نظام درکار ہوتا ہے۔ مکہ معاہدہ ابھی اس مقام پر نہیں۔ لیکن ہر بڑی عمارت کی ابتدا ایک بنیاد سے ہوتی ہے۔ اگر پاکستان، ترکی اور سعودی عرب دفاعی تعاون کو تربیت، انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی، ڈرون اور میزائل دفاع، سمندری نگرانی اور دفاعی صنعت تک لے جاتے ہیں تو شاید آج کا محدود معاہدہ کل کسی بڑے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی بنیاد بن جائے۔ اور یہی وہ امکان ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مکہ معاہدے کے مستقبل کا فیصلہ کسی پریس کانفرنس میں نہیں ہوگا۔ اس کی اصل آزمائش کسی حقیقی بحران کے دوران ہوگی۔ اگر سعودی عرب کو مستقبل میں کوئی بڑا حملہ درپیش ہوتا ہے تو سوال یہ ہوگا کہ ترکی اور پاکستان کس حد تک عملی مدد فراہم کرتے ہیں۔ کیا تعاون صرف سفارتی مذمت تک محدود رہتا ہے؟ یا انٹیلی جنس، فضائی دفاع، ڈرون نگرانی، سائبر سکیورٹی، تکنیکی معاونت اور فوجی وسائل بھی متحرک ہوتے ہیں؟ اور اگر حملہ کسی ریاست کی فوج کے بجائے کسی نیابتی گروہ کی طرف سے ہو تو پھر سب سے پیچیدہ سوال سامنے آئے گا: ذمہ داری کس کی ہوگی؟ یہی وہ قانونی اور سیاسی گرے ایریا ہے جہاں کسی بھی دفاعی معاہدے کی اصل طاقت اور کمزوری سامنے آتی ہے۔ آخر میں شاید اس پورے معاملے کو ایک جملے میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بات یہ بنتی ہے کہ مکہ معاہدے کی اصل اہمیت اس میں نہیں کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کسی جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس کی اصل اہمیت اس امکان میں ہے کہ شاید وہ جنگ کو روکنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا سیکھ رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو اپنی سرزمین، اپنے عوام، اپنی خودمختاری اور اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مضبوط ہونا چاہیے۔ لیکن طاقت کا مقصد محض دشمن کو شکست دینا نہیں ہونا چاہیے۔ طاقت کی سب سے بڑی کامیابی وہ ہے جب اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اگر مکہ معاہدہ ایران کے خلاف ایک نیا محاذ بننے کے بجائے خطے میں طاقت کا ایسا توازن پیدا کرتا ہے جس سے تہران، ریاض اور خطے کی دوسری ریاستیں جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں، تو اس معاہدے کی اہمیت کسی بھی عسکری اتحاد سے کہیں زیادہ ہوگی۔ کیونکہ تاریخ میں سب سے کامیاب دفاع وہ نہیں جس نے سب سے زیادہ جنگیں جیتیں۔ سب سے کامیاب دفاع وہ ہے جس نے دشمن کو جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی رکنے پر مجبور کر دیا۔ اور شاید مکہ معاہدے کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔












