سینیٹر منظور احمد کاکڑ اور عبداللہ حمید گل کا پاکستان کے دفاع، اتحاد اور بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر زور
راولپنڈی (وقاص عزیز)- دفاع پاکستان اور جشن آزادی کے سلسلے میں ریلی اور کانفرنس کا راولپنڈی میں انعقاد کیا گیا، جس میں سینیٹر منظور احمد خان کاکڑ، تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین عبداللہ حمید گل، قبائلی رہنما عجب خان، تاجر رہنما حاجی نعیم اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ریلی کا آغاز سید پور روڈ سے ہوا اور بنی چوک و کمیٹی چوک سے ہوتی ہوئی راولپنڈی پریس کلب لیاقت باغ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ حمید گل نے کہا کہ یہ دن قومی یکجہتی کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحانہ عزائم کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
قبائلی رہنما عجب خان نے کہا کہ قبائل نے ماضی میں بھی پاکستان کے دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی ملک کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
حاجی نعیم نے کہا کہ پاکستان سے محبت قوم کے جذبات کا بنیادی حصہ ہے اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔
سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے اصول کو مقدم رکھنا ہوگا۔
انہوں نے قومی اتحاد، اقلیتوں کے تحفظ اور ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے پر زور دیا۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم اپنی سکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور ملک کے تمام حصوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے پاکستان اور امت مسلمہ کے حوالے سے حالیہ دفاعی و سفارتی پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا ہے۔
اختتام پر انہوں نے پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء قوم کا سرمایہ ہیں اور غازیوں کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔












