کالم نگار: وقاص عزیز
پاکستان کی سیاست میں جب بھی کوئی بڑا مسئلہ آتا ہے تو حکومت کوئی نیا “حل” نکال لیتی ہے۔ اس بار حل نکلا ہے اسلام آباد کو صوبے جیسی خودمختاری دینے کا۔
وفاقی حکومت کی ایک ہائی لیول کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو “Islamabad Capital Territory Government Act 2026” کا مسودہ پیش کیا ہے۔ اس مسودے کے مطابق اسلام آباد کی اپنی 27 رکنی اسمبلی ہوگی، اپنا وزیراعلیٰ ہوگا، 27 محکمے ہوں گے اور مالی و انتظامی اختیارات صوبے جیسے ہوں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تو کھل کر اعلان کر دیا کہ وہ “اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے سب سے بڑے حامی ہیں”۔
لیکن کیا واقعی یہ وقت ہے اسلام آباد کی حیثیت بدلنے کا؟ کیا اسلام آباد کو صوبہ بنانے سے پاکستان کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ یا یہ ایک اور مہنگا تجربہ ہوگا جس کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑے گا؟ میری رائے میں اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی بجائے اسے وفاقی دارالحکومت ہی رہنے دینا چاہیے۔ اس کے لیے چند معروضات پیش کرتا ہوں
اسلام آباد کو 1960 میں اسی لیے بسایا گیا تھا کہ یہ کسی ایک صوبے کی ملکیت نہ ہو۔ اس سے پہلے کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا جو سندھ میں واقع ہے۔ اس پر اعتراض تھا کہ وفاق کا دارالحکومت ایک صوبے میں ہے۔ اس لیے قائد اعظم کے ویژن کے مطابق چاروں صوبوں کے سنگم پر ایک نیا شہر بسایا گیا جس کا نام اسلام آباد رکھا گیا۔
اسلام آباد کا مطلب ہی ہے “اسلام کا شہر”۔ یہ شہر پاکستان کی وحدت کی علامت ہے۔ یہاں پارلیمنٹ ہے تو یہ پورے پاکستان کی پارلیمنٹ ہے۔ یہاں وزیراعظم ہاؤس ہے تو یہ پورے پاکستان کا وزیراعظم ہاؤس ہے۔ یہاں 180 سے زیادہ ممالک کے سفارتخانے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کا چہرہ ہے۔
اگر ہم اسلام آباد کو صوبہ بنا دیں تو یہ “سب کا” نہیں رہے گا۔ یہ ایک اور انتظامی یونٹ بن جائے گا۔ پھر کل کو پنجاب والے کہیں گے ہمارا صوبہ سب سے بڑا ہے، سندھ والے کہیں گے ہم سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، KPK والے کہیں گے ہماری قربانیاں زیادہ ہیں۔ وفاق کا وہ تصور جو اسلام آباد سے جڑا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔
دنیا کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ امریکہ کا واشنگٹن ڈی سی، چین کا بیجنگ، آسٹریلیا کا کینبرا، برازیل کا برازیلیا۔ یہ سب وفاقی دارالحکومت ہیں اور کسی صوبے کا حصہ نہیں۔ کیا ہم ان سے زیادہ عقلمند ہیں؟
اسلام آباد پاکستان کا سب سے حساس شہر ہے۔ یہاں پارلیمنٹ ہے، سپریم کورٹ ہے، وزیراعظم سیکرٹریٹ ہے، GHQ کا لنک ہے، تمام غیر ملکی سفارتخانے ہیں، آئی ایس آئی کا ہیڈکوارٹر ہے۔
اب سوچیں اگر یہاں صوبائی حکومت آ گئی تو کیا ہوگا؟ ہر 5 سال بعد نئی حکومت آئے گی۔ ایک وزیراعلیٰ سفارتخانوں کے سامنے میٹرو بس بنا دے گا، دوسرا اسے توڑ دے گا۔ ایک حکومت کسی سفیر کو پروٹوکول دے گی، دوسری نہیں دے گی۔ قانون و امن کا معاملہ پہلے ہی نازک ہے۔ صوبہ بننے کے بعد وفاق اور صوبے میں 24 گھنٹے ٹکراؤ ہوگا۔
مسودے میں کہا گیا ہے کہ قانون و امن وفاق کے پاس رہے گا۔ لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ اگر صوبے کی پولیس اور وفاق کی پولیس میں ٹکراؤ ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ اگر کوئی سفارتکار صوبائی وزیر سے ملاقات کرنا چاہے تو پروٹوکول کون دے گا؟
اسلام آباد میں روزانہ ہزاروں لوگ پورے پاکستان سے آتے ہیں۔ پاسپورٹ بنوانے، عدالتوں میں کیس لڑنے، وزارتوں میں کام کروانے۔ کیا ایک صوبائی حکومت پورے پاکستان کے لوگوں کو سہولت دے سکے گی؟
ذرائع کے مطابق صرف نئی اسلام آباد اسمبلی، سیکرٹریٹ، وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس اور 27 نئے محکموں پر سالانہ 7 سے 9 ارب روپے کا اضافی خرچہ آئے گا۔ اس میں وزراء کی تنخواہیں، گاڑیاں، پروٹوکول، پیٹرول، دفاتر کا کرایہ سب شامل ہے۔
بھائی جان پاکستان کس دور سے گزر رہا ہے؟ IMF سے قرضہ مانگ رہے ہیں۔ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ہسپتالوں میں دوا نہیں، اسکولوں میں استاد نہیں، یونیورسٹیوں میں بجٹ نہیں۔ اور ہم نئی اسمبلی بنا کر نئے 27 وزراء کو مراعات دیں گے؟
یہی 9 ارب روپے اگر اسلام آباد کے ہسپتالوں پر لگ جائیں تو PIMS اور پولی کلینک کا حال بہتر ہو جائے۔ یہی پیسہ اگر سڑکوں پر لگ جائے تو اسلام آباد کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ٹھیک ہو جائیں۔ یہی پیسہ اگر طلبہ کی اسکالرشپ پر لگ جائے تو ہزاروں بچوں کا مستقبل بن جائے۔نئی اسمبلی نہیں بہتر مستقبل چاہیے
اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے حامی فرما رہے ہیں کہ بیس لاکھ شہریوں کی نمائندگی نہیں ہے،،کیا واقعی ایسا ہے؟ بطور خطہ دیکھا جاے تو پوٹھوہار کی تاریخ بتاتی ہے کہ شہر پوٹھوہار کا حصہ ہے،،جدید تاریخ میں دیکھا جاے تو شہری آبادی کا بڑا حصہ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے جو چاروں صوبوں سے یہاں بسلسلہ روزگار رہائش پذیر ہیں ،ایسے میں اگر پوٹھوہار کو صوبہ بنایا جاے تو بات سمجھ میں آتی ہے اور اسلام آباد وفاق کی علامت بھی رہے گا ،مزید یہاں یہ بھی دیکھنے،سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پہلے ہی 3 قومی اسمبلی کی سیٹیں ہیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد MCI موجود ہے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان اداروں کو اختیارات نہیں دیے گئے۔
مزید اگر میں تمام صوبائی دارلحکومتوں کی بات کروں تو
کیا کراچی صوبہ ہے؟ نہیں۔ کیا لاہور صوبہ ہے؟ نہیں۔ کیا پشاور صوبہ ہے؟ نہیں۔ پھر بھی یہ شہر چل رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی لوکل گورنمنٹ مضبوط ہے۔ اسلام آباد کے ساتھ بھی یہی کریں۔
اگر حکومت واقعی انتظامی اصلاحات چاہتی ہے تو سب سے پہلے ان علاقوں کو دیکھے جو 40 سال سے صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنوبی پنجاب کی 4 کروڑ آبادی۔ ایک وزیراعلیٰ بہاولپور سے لے کر راولپنڈی تک کیسے دیکھے؟
ہزارہ صوبہ KPK میں 30 سال سے تحریک چل رہی ہے۔
کراچی صوبہ جو پاکستان کا معاشی حب۔ سندھ حکومت سے نالاں ہے۔
بلوچستان کی تقسیم اس لیے ضروری ہے کہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ۔اور انتظامی امور کے ساتھ امن و امان کے قیام کا واحد حل کم سے کم آٹھ نئے صوبوں کا قیام ہے
ان سب پر قومی کمیشن بنائیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو بٹھائیں۔ آئین کے مطابق نئے صوبے بنائیں۔ لیکن خدارا اسلام آباد کو اس تجربے میں مت گھسیٹیں
اسلام آباد پاکستان کا دل ہے۔ دل کے ٹکڑے نہیں کیے جاتے۔ دل کو مضبوط کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا پلان فوری طور پر روک دیا جائے
CDA اور MCI کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔
اسلام آباد کے لیے ایک منتخب اور بااختیار میئر سسٹم لایا جائے۔
نئے صوبوں کے لیے قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔
پاکستان کو مزید تقسیم کی نہیں، وفاق کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ ہمیں 10 نئی اسمبلیاں نہیں چاہییں۔ ہمیں 1 مضبوط پاکستان چاہیے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔













