تحریر: غلام مصطفیٰ بھٹی
پاکستان میں کسی بھی علاقے کی محرومی، پسماندگی یا انتظامی مشکلات کی بات ہو تو فوراً ایک نئی بحث جنم لیتی ہے نیا صوبہ بنایا جائے، نئے ڈویژن قائم کیے جائیں یا انتظامی یونٹس میں اضافہ کیا جائے۔ بلاشبہ بعض علاقوں کے حالات، آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضروریات ایسے فیصلوں کا تقاضا کرسکتے ہیں، لیکن کیا صرف صوبے کی حدیں تبدیل ہوجانے سے عام شہری کے مسائل بھی حل ہوجائیں گے؟ شاید نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ملک میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، اصل سوال یہ ہے کہ جو اختیار آج حکومت کے پاس ہے، وہ عوام تک کب اور کیسے پہنچے گا؟
ایک عام شہری کے لیے حکومت کسی بڑے سیکریٹریٹ، اسمبلی یا اقتدار کے ایوان کا نام نہیں۔ اس کے لیے حکومت وہ ادارہ ہے جو اس کی گلی صاف رکھے، پینے کا پانی فراہم کرے، نکاسیٔ آب کا انتظام کرے، سڑک بنائے، اسٹریٹ لائٹ روشن کرے، پارک آباد کرے اور بنیادی صحت و تعلیم کی سہولت اس کے قریب پہنچائے۔ اگر یہ بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں تو پھر انتظامی نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے اس شہری کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئے گی، یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کے قیام اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کی واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات تو ہوجاتے ہیں، نمائندے بھی منتخب ہوجاتے ہیں، لیکن اختیارات اور وسائل ان کے ہاتھ میں پوری طرح نہیں آتے۔ نتیجتاً مقامی نمائندے بھی اپنے علاقے کے معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے صوبائی حکومتوں کے محتاج دکھائی دیتے ہیں۔
یہ طرزِ حکمرانی عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایسا بلدیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو محض انتخابی عمل تک محدود نہ ہو بلکہ فیصلہ سازی، وسائل اور اختیار تینوں کو مقامی سطح تک منتقل کرے۔ میئر، چیئرمین، کونسلر اور دیگر منتخب نمائندوں کو ان کے علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے واضح ذمہ داریاں اور مناسب وسائل دیے جائیں۔
کیونکہ جس نمائندے سے عوام ووٹ لے کر سوال کرسکتے ہیں، اسے کام کرنے کا اختیار بھی ملنا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی مسئلہ مالی خودمختاری کا بھی ہے۔ اگر مقامی حکومت کے پاس صفائی، سڑک، پانی یا نکاسیٔ آب کا اختیار تو ہو لیکن اس کے پاس بجٹ نہ ہو تو وہ عوامی توقعات کیسے پوری کرے گی؟ اس لیے بلدیاتی اداروں کو مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن مؤثر بنائے جائیں اور مقامی حکومتوں کو آبادی، رقبے، پسماندگی اور ضروریات کے مطابق ان کا مالی حصہ دیا جائے۔
اختیار اگر وسائل کے بغیر ہو تو وہ اختیار نہیں، صرف ذمہ داری کا بوجھ ہے۔
البتہ مالی اور انتظامی خودمختاری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مقامی اداروں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ جہاں اختیار ہوگا وہاں احتساب بھی ہونا چاہیے۔ ہر ترقیاتی منصوبے، ٹینڈر، بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہری اپنے علاقے کے منصوبوں اور سرکاری اخراجات کی مکمل معلومات حاصل کرسکیں تو کرپشن کے امکانات کم اور عوامی نگرانی کا عمل مضبوط ہوسکتا ہے۔
اصل جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ووٹ کے بعد اپنے منتخب نمائندے سے حساب لینے کا حق بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی خطے کی انتظامی، معاشی اور جغرافیائی صورتحال نئے صوبے کی متقاضی ہو اور عوام بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوں تو آئینی طریقہ کار کے مطابق اس پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سمجھنا کہ ہر انتظامی یا عوامی مسئلے کا حل نیا صوبہ ہے، شاید درست طرزِ فکر نہیں۔
خراب سڑک کو نیا صوبہ نہیں، بہتر بلدیاتی نظام چاہیے۔
گندگی اور ناقص صفائی کو نئی اسمبلی نہیں، فعال میونسپل ادارہ چاہیے۔
پانی کی قلت کو نئی انتظامی حد بندی نہیں، مؤثر منصوبہ بندی اور جواب دہ ادارہ چاہیے۔
نکاسیٔ آب کے مسئلے کو نئے سیکریٹریٹ کے بجائے بااختیار مقامی حکومت بہتر طور پر حل کرسکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی بحث کو صرف نئے صوبوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ وفاق، صوبے اور مقامی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں اور وسائل کی تقسیم کس طرح مؤثر بنائی جاسکتی ہے۔
وفاق قومی معاملات سنبھالے، صوبے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کریں اور مقامی حکومتیں عوام کے روزمرہ مسائل کی ذمہ دار ہوں۔
اگر یہ نظام حقیقی معنوں میں نافذ ہوجائے تو شہری کو ہر چھوٹے مسئلے کے لیے رکن اسمبلی یا صوبائی دفتر کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکومت اس کے قریب ہوگی، فیصلہ سازی اس کے علاقے میں ہوگی اور احتساب بھی وہیں ممکن ہوگا۔
آج پاکستان کو شاید سب سے زیادہ ضرورت انتظامی نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کی نہیں بلکہ حکمرانی کا انداز بدلنے کی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری ترجیح کیا ہے؟ نئی اسمبلیاں، نئے سیکریٹریٹ اور نئے انتظامی ڈھانچے یا ایسے مقامی ادارے جو شہری کے بنیادی مسائل اس کے گھر کے قریب حل کرسکیں؟
عام آدمی کے لیے حکومت کا مطلب اقتدار کی بڑی عمارتیں نہیں، بلکہ اس کے محلے کی وہ سڑک ہے جس پر وہ روز سفر کرتا ہے، وہ نل ہے جس سے اسے پانی ملنا چاہیے، وہ نالی ہے جس میں پانی بہنا چاہیے اور وہ اسپتال ہے جہاں ضرورت کے وقت علاج مل سکے۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث اپنی جگہ، مگر بلدیاتی نظام کی مضبوطی کو قومی ترجیح بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کو نئے نقشوں سے پہلے نئی انتظامی سوچ درکار ہے؛ ایسی سوچ جس میں اختیار چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے محلے، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع تک پہنچے۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے:
عوام کو نیا صوبہ چاہیے یا اپنے دروازے پر بہتر حکمرانی؟
اگر عوام کو صاف پانی، اچھی سڑک، مؤثر صفائی، بہتر نکاسیٔ آب، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات مل جائیں تو شاید ان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوگی کہ حکومت صرف ان پر حکمرانی نہ کرے بلکہ ان کے مسائل ان کے قریب آکر حل کرے۔
نقشے بدلنے سے پہلے نظام بدلنا ہوگا، کیونکہ عوام کی زندگی میں اصل تبدیلی سرحدوں سے نہیں، اختیار کی منتقلی سے آتی ہے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔













