گستاخیاں: بابا فریدؒ کا سوگوار شہر 

Table of Content

گستاخیاں

بابا فریدؒ کا سوگوار شہر

میں ہر سال محرم الحرام میں پاکپتن جاتا ہوں۔

 بابا فریدؒ کا شہر مجھے ہمیشہ محبت، عاجزی، برداشت اور انسان دوستی کی یاد دلاتا ہے۔ وھاں بابا فرید کے روٹی کے فلسفے کو سمجھتا ھوں ، وھاں صابر پیا سرکار تابعداری سمجھتا ھوں ،مگر آج اسی پاکپتن کی خبر نے دل کو ایسے بوجھل کر دیا ہے جیسے کسی اپنے کے گھر سے جنازہ اٹھا ہو۔ گیارہ انسان زندگی سے محروم ہو گئے، تینتیس زخمی ہیں، ایک بس اور ٹرک کا تصادم ہوا، گاڑیوں کا لوہا مڑا، نشستیں ٹوٹیں، لوگ اندر پھنس گئے، امدادی کارکن انہیں نکالتے رہے اور بالآخر گیارہ گھروں کے چراغ بجھ گئے۔

میں سوچ رہا ہوں، آج ان گیارہ گھروں میں کیا ہو رہا ہوگا؟ کسی ماں نے اپنے بیٹے کا انتظار کرتے ہوئے دروازہ کھولا ہوگا، کسی بیوی نے فون پر پوچھا ہوگا کہ کب پہنچ رہے ہو؟ کسی بچے نے باپ سے فرمائش کی ہوگی کہ واپسی پر میرے لیے کچھ لیتے آنا۔ کسی بہن نے بھائی کو فون کیا ہوگا، کسی بوڑھے باپ نے بیٹے کی آواز سننے کے لیے موبائل اٹھایا ہوگا۔ مگر فون کی گھنٹی بجتی رہی ہوگی اور دوسری طرف خاموشی ہوگی۔ وہ لوگ بھی تو کسی کے لیے سفر کر رہے تھے، کسی نے روزگار پر پہنچنا تھا، کسی نے گھر واپس آنا تھا، کسی نے اپنے بچوں کے لیے روٹی لے کر جانی تھی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔

پاکپتن! تم تو محبت کے حوالے سے پہچانے جاتے ہو۔ تمہاری مٹی میں بابا فریدؒ کی نسبت ہے، یہاں صابر پیا کی محبت کی انوکھی مثال ھے

    سوال یہ نہیں کہ حادثہ ہوا کیسے؟ سوال یہ بھی ہے کہ حادثات سے بچنے کے لیے ہم نے آج تک کیا کیا؟ ہر حادثے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آتی ہے، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے، افسران موقع پر پہنچتے ہیں، حکومت افسوس کا اظہار کرتی ہے، رپورٹ طلب کی جاتی ہے، زخمیوں کو بہترین علاج کی ہدایت دی جاتی ہے۔ یہ سب ضروری ہے، مگر کیا یہ سب کچھ حادثے سے پہلے نہیں ہو سکتا؟ کیا سڑکوں پر سفر کرنے والے انسانوں کی حفاظت صرف اس وقت یاد آنی چاہیے جب ان کے جسموں کو ملبے سے نکالا جا رہا ہو؟ یا سیلاب کے پانی میں ڈوبے مردہ جسموں کو دیکھ سوچنا چاہیے؟

ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ ہماری سڑکوں پر رفتار کا بے قابو جن کون رمبا ناچتا رہتا ھے ؟ گاڑیوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ ڈرائیوروں کی تربیت اور آرام کے اوقات کا حساب کون رکھتا ہے؟ اوورٹیکنگ کے اصولوں پر عمل درآمد کون کرواتا ہے؟ سنگل کیرج وے سڑکوں پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا ہر حادثے کے بعد یہ کہنا کافی ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تیز رفتاری وجہ بنی؟ اگر تیز رفتاری وجہ تھی تو اس کی روک تھام کس کی ذمہ داری تھی؟ اگر کوئی اور وجہ تھی تو اس کی شفاف تحقیقات کون کرے گا؟

اور پھر ایک عجیب المیہ ہے، ہم مرنے والوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، ان کے درجات کی بلندی کی دعا مانگتے ہیں، زخمیوں کی صحت یابی کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، اور سب سے افسوسناک بات لواحقین کو صبر کے نام رقم دے دی جاتی ھے ، زخمیوں کو علاج کے لیے معاوضہ دیا جاتا ھے صرف ایک لمحہ کیا انسانی زندگی کا متبادل پیسہ ھے ۔

 اور پھر کچھ دن بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اگلی خبر، اگلا حادثہ، اگلے جنازے کے لیے اور پھر وہی تعزیتی پیغامات۔

 کیا ہماری اجتماعی یادداشت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ جنازوں کے بعد بھی ہمیں اپنی ذمہ داری یاد نہیں رہتی؟

آج پاکپتن کے حادثے میں ریسکیو اہلکار بھی اپنی جان سے گئے۔ وہ لوگ جو دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں، ان کے اپنے گھروں میں بھی انتظار کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ ان کی ماؤں کو بھی اپنے بیٹوں کی فکر ہوتی ہے، ان کی بیویوں اور بچوں کو بھی ان کی واپسی کا انتظار ہوتا ہے۔ ہم ان کے جذبے کو سلام کرتے ہیں، مگر ان کی حفاظت کا انتظام کرنا بھی تو ہمارا فرض ہے۔

میں ہر سال محرم میں بابا فریدؒ کے دربار پر حاضری دینے جاتا ہوں۔ وہاں کھڑے ہو کر انسان اپنے اندر جھانکتا ہے، اپنی انا، اپنی نفرت، اپنے تعصب اور اپنے رویوں کا حساب کرتا ہے۔ آج دل چاہتا ہے کہ اس شہر میں صرف فاتحہ خوانی نہ ہو، ایک اجتماعی احتساب بھی ہو۔ صرف مرنے والوں کے لیے دعائیں نہ ہوں، زندہ لوگوں کی حفاظت کے لیے عملی فیصلے بھی ہوں۔

بابا فریدؒ کے شہر سے آج ایک سوال اٹھ رہا ہے ہم محبت کے کتنے دعوے دار ہیں؟ اگر ہم ایک دوسرے کی جان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہماری محبت کس کام کی؟ اگر ہماری سڑکیں انسانوں کو ان کے گھروں تک محفوظ نہیں پہنچا سکتیں تو ہماری ترقی کے دعوے کس کام کے؟ اگر گیارہ انسانوں کی موت بھی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں دلا سکتی تو پھر کون سا حادثہ ہمیں جگائے گا؟

مجھے نہیں معلوم کہ ان گیارہ لوگوں کے نام کیا تھے، ان کے خواب کیا تھے، ان کے گھر کیسے تھے، ان کے بچوں کی عمریں کیا تھیں۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ گیارہ انسان تھے، ان کی اپنی اپنی دنیا تھی، ان کے اپنے اپنے خواب تھے۔ ان کے جنازے اٹھے ہیں تو صرف گیارہ میتیں نہیں اٹھیں، گیارہ گھروں کی خوشیاں بھی ان کے ساتھ رخصت ہوئی ہیں۔

پاکپتن کی مٹی آج پھر خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں گیارہ گھروں کی آہیں شامل ہیں۔ میں بابا فریدؒ کے شہر کے ان تمام خاندانوں کے غم میں شریک ہوں جنہوں نے آج اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر دے اور زخمیوں کو صحت عطا کرے۔ایک سوال لبوں پر آنے کو مچل رھا ھے کہ

کیا ہم اگلے حادثے، اگلے جنازوں اور اگلی تعزیتی پریس ریلیز کا انتظار کریں

یا اس بار واقعی حادثات سے بچنے کا کچھ سوچا جائے گا۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions