کیا عمران خان کارڈ 22 صوبے بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم نگار:وقاص عزیز

پاکستان کی سیاست میں پچھلے کچھ دنوں سے ایک نیا بیانیہ بہت زور سے چلایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب اور بعض ٹی وی چینلز پر یہ کہا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کو 22 صوبوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے عمران خان کو جیل سے رہا کیا جائے گا کیونکہ آصف زرداری سندھ کی تقسیم پر راضی نہیں ہو رہے۔ یہ بات سننے میں جتنی آسان لگتی ہے اتنی ہے نہیں۔ اس کے پیچھے آئین، سیاست، جماعتوں کے مفادات اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار جڑا ہوا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 22 صوبوں کا فارمولا ہے کیا؟دراصل پاکستان بننے کے بعد سے ہی انتظامی ماہرین یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ہمارے 4 صوبے بہت بڑے ہیں اور ان کی گورننس ٹھیک طریقے سے نہیں ہو پا رہی۔ پنجاب کی آبادی 13 کروڑ سے زیادہ ہے، سندھ میں 5 کروڑ، کے پی میں ساڑھے 4 کروڑ اور بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے۔ اس لیے تجویز دی جاتی رہی ہے کہ انتظامی بنیادوں پر ملک کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔ اب جو نیا نقشہ زیر بحث ہے اس کے مطابق پاکستان کو 22 صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس میں جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ، پوٹھوہار، کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ، شمالی بلوچستان، جنوبی بلوچستان، مالاکنڈ، کوہاٹ، ڈی آئی خان اور اسی طرح کے انتظامی یونٹ شامل ہوں گے۔ اس کا فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وسائل کی تقسیم بہتر ہو گی، لوکل گورنمنٹ مضبوط ہو گی اور عوام کو انصاف جلدی ملے گا۔ لیکن یہاں سوال آتا ہے کہ کیا یہ اتنا آسان ہے؟بالکل نہیں۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 239 اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق اگر کوئی نیا صوبہ بنانا ہے تو سب سے پہلے اس صوبے کی صوبائی اسمبلی سے 2/3 اکثریت کے ساتھ قرارداد پاس کرانی ہو گی جسے توڑا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وفاق کی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے بھی 2/3 اکثریت درکار ہو گی۔ یعنی اگر سندھ کو تقسیم کرنا ہے تو سندھ اسمبلی کی 2/3 اکثریت لازمی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پاس 2/3 سے زیادہ سیٹیں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سیاست ہی سندھ کارڈ پر چلتی ہے۔ آصف زرداری 2008 سے لے کر آج تک بار کہہ چکے ہیں کہ سندھ کی تقسیم ہمیں منظور نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا۔ اگر سندھ تقسیم ہو گیا تو پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ٹوٹ جائے گا کیونکہ کراچی، حیدرآباد اور اندرون سندھ کی سیاست بالکل الگ ہے۔ اس لیے زرداری کسی بھی قیمت پر سندھ کی تقسیم کے لیے ہاں نہیں کریں گے۔
اب آتے ہیں مسلم لیگ ن کی طرف،ن لیگ کی حکومت اس وقت وفاق میں ہے اور پنجاب میں بھی ان کی حکومت ہے۔ ن لیگ کو جنوبی پنجاب کے صوبہ بننے میں فائدہ ہے کیونکہ جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کا اثر زیادہ ہے۔ اگر وہاں نیا صوبہ بن جائے تو ن لیگ کو دو صوبوں میں حکومت ملنے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن ن لیگ کی مجبوری یہ ہے کہ وفاق کی حکومت پیپلز پارٹی کے سہارے چل رہی ہے۔ اگر وہ 22 صوبوں کی بات کھل کر کریں گے تو زرداری حکومت گرا سکتے ہیں۔ اس لیے شہباز شریف اور نواز شریف دونوں بھائیوں نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہم بہتر گورننس کے حق میں ہیں لیکن فیصلہ اتفاق رائے سے ہو گا۔
اب بات کرتے ہیں مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کی۔ مولانا اس وقت حکومت میں شامل نہیں ہیں اور وہ مسلسل الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 22 صوبوں سے مولانا کو نہ کوئی فائدہ ہے نہ نقصان۔ لیکن مولانا کا سیاست کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرف وزارت یا فائدہ نظر آئے وہ اس طرف چلے جاتے ہیں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ یا حکومت انہیں کوئی لالچ دے تو مولانا 22 صوبوں کے لیے بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ ان کا کوئی اصولی موقف نہیں ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا اس ساری گیم میں کیا کردار ہے؟پی ٹی آئی نظریاتی طور پر نئے صوبوں کے حق میں رہی ہے۔ عمران خان خود وزیراعظم ہوتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبے اور ہزارہ صوبے کا ذکر کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بھی انہی علاقوں میں مضبوط ہے جہاں نئے صوبے بننے کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں ہے۔ عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کیس، سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور دیگر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب سوشل میڈیا پر یہ بیانیہ چلایا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اس لیے رہا کرنا چاہتی ہے تاکہ پی ٹی آئی کے ووٹوں سے پارلیمنٹ میں 2/3 اکثریت پوری کی جائے اور 22 صوبوں کی آئینی ترمیم پاس کرائی جائے۔ کیا یہ ممکن ہے؟ دیکھیں قانونی طور پر عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ اگر عدالتیں ان کی ضمانت منظور کر لیتی ہیں یا کیسز میں بریت ہو جاتی ہے تو وہ قانونی طور پر باہر آ جائیں گے۔ اس کا 22 صوبوں سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ دوسرا آپشن سیاسی ڈیل کا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی ڈیلز ہوتی رہی ہیں۔ ممکن ہے کسی نیشنل ڈائیلاگ کے تحت حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ مل کر کوئی فارمولا طے کریں جس میں عمران خان کی رہائی بھی شامل ہو اور 22 صوبے بھی۔ لیکن ابھی تک اس طرح کی کسی ڈیل کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تیسرا اور سب سے زیادہ ممکنہ امکان یہ ہے کہ یہ سارا بیانیہ صرف دباؤ بنانے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔ زرداری پر دباؤ ڈالنے کے لیے کہ اگر تم سندھ کی تقسیم پر نہیں مانے تو ہم پی ٹی آئی کو لے آئیں گے۔ اور پی ٹی آئی کے ورکرز کو امید دلانے کے لیے کہ آپ کی قیادت جلد رہا ہو جائے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی عمران خان کو رہا کرنا بہت بڑا رسک ہے۔ عمران خان باہر آ کر دوبارہ جلسے کریں گے، دوبارہ بیانیہ بنے گا اور سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ کیا اسٹیبلشمنٹ صرف 22 صوبوں کے لیے اتنا بڑا رسک لے گی؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اب اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو 22 صوبے فلحال بنتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ وجہ صاف ہے کہ پیپلز پارٹی راضی نہیں ہے اور آئین اجازت نہیں دے رہا۔ ن لیگ حکومت بچانا چاہتی ہے اس لیے وہ اس معاملے کو چھیڑ نہیں رہی۔ مولانا موقع پرست ہیں اور بانی پی ٹی آئی جیل میں ہے۔ تو پھر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
میرے نزدیک اس کی چار اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ عوام کی توجہ مہنگائی، بجلی کے بلوں اور معیشت سے ہٹا کر ایک نئے بیانیے پر لگائی جائے۔
دوسری وجہ یہ کہ پی ٹی آئی کے ورکرز میں مایوسی ہے انہیں امید دی جائے۔
تیسری وجہ یہ کہ زرداری پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ حکومت کے ساتھ زیادہ تعاون کریں۔
چوتھی وجہ یہ کہ ن لیگ خود کو نیوٹرل شو کرے اور آئندہ الیکشن میں مضبوط قدموں کے ساتھ میدان میں اترے
پاکستان کی سیاست میں 24 گھنٹے میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ آج جو ناممکن لگ رہا ہے کل وہ ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن آج کی تاریخ 6 ستمبر 2026 تک جو حقائق ہمارے سامنے ہیں وہ یہی ہیں کہ 22 صوبوں کا فارمولا زرداری کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا اور زرداری نہیں مانیں گے۔ عمران خان کی رہائی اگر ہوتی ہے تو وہ قانونی بنیادوں پر ہو گی یا کسی بڑی سیاسی ڈیل کے تحت۔ اس کا 22 صوبوں سے براہ راست تعلق کا کوئی ثبوت ابھی موجود نہیں۔ عوام کا اصل مسئلہ روٹی، کپڑا، مکان، بجلی، گیس اور روزگار ہے۔ 4 صوبے ہوں یا 22، اگر حکمرانی ٹھیک نہیں ہوئی تو عام آدمی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے حقائق کو دیکھیں اور عدالتی فیصلوں کا انتظار کریں۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions