ننھی روحیں دھرتی سے کیوں واپس چلی گئیں؟ 

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content


ننھی روحیں دھرتی سے کیوں واپس چلی گئیں؟

کیا ہم آنے والی روحوں کے قابل زمین بنا رہے ہیں؟

کیا دریا اپنی جگہ واپس لیئے بغیر کسی وجہ کے پلٹے؟

کیا زمین پہ صرف انسانوں کا حق ہے؟

کالم: ڈاکٹر ردا فاطمہ

پہاڑ ،چرند ،پرند ،حشرات، مویشی،آبی حیات ،معدنیات اور قدرتی ذخائر کی جڑیں اور اولادیں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی اشرف المخلوقات کی ،کیا ہم ان کے گھر اور قدرتی راستے چھین نہیں رہے؟

کیا ہم اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے دوسروں جانداروں اور غیر جانداروں کو جینے کے مواقع مہیا کر رہے ہیں؟

اس زمین سے انسان کا رشتہ اتنا ہی ہے جتنا کسی گندم کے دانے ، نمک کی کان ،پہاڑ ، چنار ،کیکر ،دریا،گھونگے،مائی بڈھی، سونے، آم،کھجور،نیلی راوی گائے ،تتلی ،جگنو ،مکوڑے اور کاکروچ کا ہے۔ہم سب اس کرہ ارض پہ مسافر ہیں۔ یہ سفر اتنا شاندار ہونا چاہئے تھا کہ مکوڑے رک کے ہمیں راستہ دیتے اور کہتے وہ دیکھو انسان آ رہے ہیں انہوں نے کسی مخلوق کو تنگ نہیں کیا ہم انہیں تنگ نہیں کریں گے۔ لیکن ہم نے اپنی نسل یعنی انسانوں کا جینا بھی دوبھر کر دیا ہے۔

مشینوں کی تخلیق کے بعد انسان نے خود کو جانے کیا سمجھ لیا کہ وہ سب کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ دوسری مخلوقات کو رلانے کے علاوہ ہم انسان دوسرے انسانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے آپ ایک پھول توڑیں تو آپ قاتل بن جاتے ہیں؟ آپ اس پودے کی آکسیجن ختم کر دیتے ہیں۔ ایک نظام کے تحت سب چل رہا ہے اور دیکھیں اس پھول کیلئے عزرائیل آپ بن گئے۔ اگر آپ وہیں اس پھول کی خوبصورتی بیان کرکے اس رب کی کبریائی بیان کرکے آگے بڑھ جائیں تو سوچیں آپ نے ایک جان بچا لی۔ آپ کے اپنے کرم ہیں اور ہر کرم کا اپنا مکافاتِ عمل ہے۔ کرم کا بدلا اچھا ہو سکتا ہے کہ آپ کی نیت اچھی ہو۔ایک ہی کہانی میں بیس لوگ ہوں تو بیس لوگ الگ طرح کا سبق لے کے نکلتے ہیں۔

ننھی روحوں کا سانحہ ہوا تو میرے ذہن میں سوال لپکا ،یہ روحیں زمین پہ آکے کیوں چلی گئیں؟ انہیں ایسا کیا محسوس ہوا کہ انہوں نے اجتماعی دعا کی اور معصوم دعا ربی بارگاہ میں قبول ہو گئی۔ اس سانحے سے قبل میں ہمیشہ حکامِ بالا اور زیریں کو بلیم کرتی تھی،چونکہ میں اسپتال کے سسٹم کا حصہ ہوں تو میں غفلت اور کوتاہی جیسے الفاظ استعمال کرتی آئی ہوں ، آخر میں ہمیشہ حفاظت کی ذمہ داری ماں باپ پہ ڈالتی رہی ہوں۔ یہ چند الفاظ نو سال سے دہراتی تھک گئی تو سوچنے لگی، جانے کن مظالم کو باور کروانے کیلئے وہ ننھی روحیں آئیں اور لوگوں نے ردِ عمل دیا ،لیکن وہ اپنا مقصد پورا کر گئی ہیں۔ زندگی اور موت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ جو خدا کے انکاری ہیں یا جو کوانٹم فزکس پہ ایمان لائے ہیں وہ خود بھی اسی موت کے عمل سے گزریں گے اور جس وقت انکی پیدائش ہوئی وہ اس وقت کو نہیں بدل سکتے۔ چلیں میں آسان کرتی ہوں ،ویسے تو میں میڈیکل کے لحاظ سے بھی ڈی کوڈ کر سکتی ہوں لیکن آج میں آسٹرالوجی کے لحاظ سے کوشش کروں گی۔

اگرآپ کسی آتشی عنصر کے تابع پیدائش ہوئے ہیں تو ایڑی چوٹی کا زور لگالیں ،آپ اسے آبی میں بدل نہیں سکتے ،یعنی آپ جو سبق سیکھنے آئے ہیں وہ سیکھ کے رہیں گے۔ اگر آپ چاہیں کہ آپ نے لئیو نہیں رہنا وِرگو بننا ہے تو آپ نہیں بن سکتے ،وہ سافٹ وئیر آپکے ہاتھ میں نہیں ہے ۔آپ کی پیدائش کی کمانڈ کمپیوٹر کو دی جاچکی تھی کہ اس وقت اس دنیا میں آپ جلوہ افروزہوں گے اور یہ سبق سیکھ کے کوچ کر جائیں گے، آپ وہ سبق صراط المستقیم پہ چلتے سیکھتے ہیں یا دوسروں سے چھین کے سیکھتے ہیں اس راستے کا تعین 360 dimensions آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ میں نے لوگوں کو کہتے سنا ہے فلاں سے سبق سیکھ لیا ہے اب میں تو نہیں کروں گا /گی وغیرہ۔ لیکن میں ان لوگوں سے پوچھتی ہوں وہ آپکا سبق ہو ہی نا تو آپ کیا کریں گے؟ نقالی کی جگالی مشکل ہے کیونکہ اس کا ہاضمہ آپکے لئے نہہیں بنا۔ اور آخر میں سبق تو قبولیت کا ہے۔وہ رب جسے چاہے آزما لے جسے چاہے گزار دے۔ اگر اپ کو لگتا ہے آپ اپنی حفاظت کر سکتے ہیں تو وہ رب کسی اور مخلوق سے وہی امتحان آپ کے سامنے لے آئے گا ،بھئی سافٹ وئیر ہے نا ،اسے پاس تو کرنا ہی کرنا ہے ۔ جتنے اڑیل بنیں گے اتنے مشکل مقامات سے گزارے جائیں گے۔ اگر آپکو کسی امتحان سے رب بچانا چاہے تو پھولوں کی طرح بچا لے گا بس آپ نے فوکس خود پہ رکھنا ہےاور مزید مکافاتِ عمل کے بغیر سکون سے گزرنا ہے ۔ ایک پتھر نے پتھر کھانا یا بوسہ لینا ہے یہ پتھر کا کارما ہے۔ مکہ میں ایک پتھر حجرِ اسود ہے اور دوسرا جبال الشیاطین ہے۔ایک کو بوسہ ملتا ہے دوسرے کو پتھر پڑتا ہے۔ وہ اس پتھر کا راستہ ہے لیکن سبق تو اس میں بھی ہے۔

پچھلے سال ایک واویلا انہی دنوں ہوا کہ سیلاب آگیا انسانوں کے بنے بنائے گھر اجڑ گئے۔ مجھے بھی شدید دکھ ہوا ۔انسان انسان کا دارو ہے۔لیکن میں پوچھوں تو انسان دریاؤں کے راستے میں گھر بناتے کیوں ہیں ؟ یہ زمین آپکے باپ کی جاگیر نہیں ہے ،یہاں آپ مسافر ہیں جتنا پڑاؤ ہے سکون سے گزاریں۔ باغات کو کاٹنے والے یا گھر اجاڑنے والے سمجھتے ہیں کہ انکی نسل مکافات سے نہیں گزرے گی؟ باوا جی ،ڈی این اے میں سٹور ہے ،نیتی کا سافٹ وئیر بڑا ڈاڈھا ہے ایک کمانڈ آئے گی اور دریا اپنی جگہ واپس لے جائے گا ،کمانڈ تو ربّی عمل ہے وہ کن فرما دے تو کون بدلے گا۔

اس خطے میں پنجاب ،بنگال اور کشمیر تقسیم ہوا تو کیا دھرتی کو اپنے دو حصے منظور ہوں گے ،قدرت کی راہیں ہموار کرنے کی بجائے نفرت اور کانٹوں کی دیواروں کا چناؤ کیا۔ کیا دریا تقسیم کرتے وقت دریا کو کلوژر دیا؟ کہ اب ہمیں یہ زمیں عنایت کر دیں ؟ کیا اپ کو لگتا ہے وہاں رہنے والے آبی جانور ،مچھلیاں اپنے گھر کو بھول گئی ہوں گی؟ نہیں۔ آپ کو ان سے بات کرنا چاہئیے تھی۔ دریاوں سے مانگنا چاہئیے تھا کہ ہمیں یہ پلاٹ ودیعت کریں۔ آپ نے دھونس جمائی قبضے کیے تو کیا وہ راستے بھول گئے،گھر اجاڑے نا؟ کل نیپال میں رنگا رنگ گھر نابود ہوئے۔ تو کیا وہاں کچھ نہیں ہوا ہو گا جو لمحے میں بستی بُرد ہوئی۔ جیسے رب تقسیم کر رہا ہے وہ اسی رحمان پر جچتا ہے۔ انسانوں میں کچھ انسان درگزر والے محبت والے بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ دھرتی قائم ہے۔ چار دناں دا میلہ دنیا ،فیر مٹی دی ڈھیری، خیر کمپرومائز کریں درخت لگائیں ،باغ مت اجاڑیں۔

کسی کے راستے پہ مت چلیں ،اس کے سبق سیکھ کے خود کو پردھان منتری ثابت مت کریں ،اپنے سبق سیکھیں ، دوہرائیں مت ،اپنی جوتی دیکھیں ،اپنی چادر دیکھیں،اسے وسیع کرنے کی غرض سے محنت کریں لیکن چھینیں نہیں کیونکہ بدلے میں قدرت چھوڑے گی نہیں اور جب وہ واپس لے تو قبول کریں ،سکون کریں۔ پانی کو راستہ دیں ،درخت مت کاٹیں ،پھول مت قبول کریں ،پلاسٹک کی اشیاء کم استعمال کریں ،آسانی دیں تاکہ آسانی پلٹے۔کلوژر دیںں تاکہ نئے راستے بنیں، محب بنیں تاکہ محبوب کی بارگاہ میں قبول ہوں۔ مایہ نگری سے خود کو بچائیں تاکہ مثال بنیں۔ وہ ہنجابی میں ہے کہ

حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے

میں بکرا دیواں پیر دا سر دا سائیں مرے

یہاں سر دے سائیں سے مراد ایگو ہے ،جب چھوٹی سی ایگو ہرٹ ہوتی ہے تو میری جنریشن کہتی ہے مر گئے ،ایگو ڈیتھ ہے گزاریں، رائی کا پہاڑ نہ بنائیں۔ اگر کوئی جگہ ،شخص ،مقام یا منسب آپکا ہے تو یقین رکھیں وہ آپکا ہی رہے گا ،وہ خدائی فیصلہ ہے ،میرے جیسے بھاگتے بھاگتے تھک چکے ہیں۔ اب حالات قبول کرنا سیکھ رہے ہیں۔ اگر آپکارستہ Runner ہے تو اپنے رستے کی مہار تھامیں اور بس چل نکلیں۔اگر دریا کی زمین آپکی ہوئی تو پانی نہیں پلٹے گا۔ باغِ فدک پہ جتنا بڑا مرضی قبضہ ہو ،قبرِ مبارک پہ جتنا بڑا مرضی پہرا ہو ،غاصب نہ چھپ سکتے ہیں نہ چھین سکتے ہیں۔ اسی طرح کوئی دریا راستہ نہیں بھولتا ،کوئی پہاڑ اپنا کٹاؤ نہیں بھولتا ،کوئی صحرا کسی باسی کو نہیں بھولتا۔ مایہ نگری سرائے ہے۔ آپ نے زندہ رہنا ہے یا نہیں وہ لکھا جا چکا ہے،تسلیم کرنےکی عادت پیدا کریں۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions