پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، امریکی صدر بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے معترف

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم کا عنوان: قلم کہانی
تحریر:سید صداقت علی شاہ

کہاتھا، یہ آوازمکے مدینے سے آئی ہے۔ اب تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہہ دیا ”مکہ معاہدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ متحد ہو رہاہے اور یہ بھی کہ کیسییہ ممالک بہترین اندازمیں اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ یہ بڑا، دلیرانہ اور پہلا اہم قدم ہے۔ میں تینوں ممالک کی عظیم قیادت کو مبادکباد پیش کرتا ہوں“۔اب تو بنتا ہے، سب کہو الحمد اللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ، مرحبا۔
کسے پتہ تھا، 28فروری 2026کے بعدیہ سب کچھ ہو گا۔ پاکستان نے کر دکھایا۔ 28فروری 2026کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جارحیت شروع کی تو سب نگاہیں پاکستان پر مرکوز تھیں۔ پوری دنیا کہہ رہی تھی کہ دیکھنا پڑے گا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک ایران کا ساتھ دیتا ہے یا پھر امریکہ کا۔ ایک تنی ہوئی رسی تھی، جس پر پاکستان کو چلنا تھا۔ پاکستان نہ صرف اپنے ہمسایہ برادر مسلم ملک ایران کو چھوڑ سکتا تھا اور نہ ہی امریکہ کو ناراض کر سکتا تھا۔ اس جنگ نے بہت سے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اردن، قطر غرضیکہ خلیجی ریاستوں کا کوئی بھی ملک اس جنگ سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اس سب کے باوجود پاکستان نے اپنے حواس پر قابو رکھا۔ ”خاموش سفارت کاری“ کے ذریعے سب کو ساتھ رکھا۔ ایک موقع پر حرمین شریفین کے تحفظ کا سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ پاکستان نے اس معاملے کو بھی ”سفارت کاری“ سے حل کیا۔
12اپریل 2026کو چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا۔ جب ایرانی طیارے سے سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد اسلام آباد اترا۔ اس کے بعد امریکی طیارے سے نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی اسلام آباد پہنچے۔پاکستان نے اپنی سفارت کاری کا لوہا منوایا۔ ”اسلام آباد ٹاکس“ کے نام سے دونوں حریف ممالک کو دہائیوں کے بعد آمنے سامنے بٹھایا۔ 21گھنٹے کے طویل مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے۔ اس موقع پر معاہدہ تو نہ ہوا مگر امریکی صدر جے ڈی وینس یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ”اچھی خبر یہ ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوئی۔ ہم بغیر کسی معاہدے کے امریکہ واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعدد بار بات کی، مجھے نہیں معلوم 21گھنٹوں کے دوران ہم نے کتنی بار بات کی، آدھ درجن مرتبہ شاید ایک درجن بار۔ ہم ایڈمرل کوپر مارکو اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے بھی رابطے میں تھے۔ ہم وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہیں، دونوں نے بہترین میزبانی کی اور مذاکرات میں جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی“۔
ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ ”وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا حالانکہ ان کی ٹیم نے مستقبل پر مبنی تجاویز پیش کی تھیں۔ امریکہ ایران کے موقف اور اصولوں کو سمجھ چکا ہے، اب یہ ان پر منحصر ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے یا نہیں۔ باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کیلئے وہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ فوجی جوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ 40دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کیلئے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کیلئے اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا“۔
شکریہ پاکستان، پاکستان شکریہ۔یہ وہ مرحلہ تھا، جب سب کہہ رہے تھے کہ امریکہ اور ایران کسی صورت بھی کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچیں گے۔ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اس خطے کا جنگ سے نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ صرف ایک ملک پاکستان ایسا تھا، جو نہ صرف ڈٹا ہوا تھا بلکہ خطے میں امن کیلئے کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار تھا۔ پاکستان نے ہمت نہ ہاری۔ ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اور پھر 18جون 2026کو پاکستان کی سفارت کاری کا طوطی بولا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اُس وقت فرانس کے دورے پر تھے۔ فرانسیسی صدر کی موجودگی میں دستخط کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کرنے کے بعد امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی دستاویز قرار دیا۔ یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کال کی۔ دونوں رہنماؤں میں 30منٹ تک بات چیت ہوئی۔
واضح رہے، امریکہ اور ایران کے درمیان ابھی تک ”اسلام آباد مفاہمی یادداشت“ ہی ایک دستاویز ہے، جو برقرار ہے۔ امن کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کو نہ صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ اب تو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بھی عالمی سطح پر پذیرائی جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ کو سراہا اور کہا کہ ”پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ مل کر اپنا اور خطے کا دفاع یقینی بنانے میں کردار ادا کرتا رہے گا۔ جنوبی ایشیا میں ایٹمی تباہی ٹالنے اور لاکھوں افراد کی زندگیاں بچانے میں مدد کرنے پر صدر ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پائیدار امن عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کیلئے ضروری اور بنیادی شرط ہے“۔
وزیراعظم نے بالکل ٹھیک کہا۔ ”پائیدار امن“ ہی ضروری اور بنیادی شرط ہے۔ امن ہو جائے اور وہ پائیدار نہ ہو تو ایسے امن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ امریکہ اور ایران کو اب واپس آنا ہو گا۔ ”پائیدار امن“ کی طرف لوٹنا ہو گا۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیے سے سیکھنا ہو گا۔ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ ہی واحد راستہ ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس کی جدید شکل ہے۔ کہا تھا، یہ آواز مکے اور مدینے سے آئی ہے۔ اب تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہہ دیا۔ آپ سب بھی مل کر کہہ ڈالو۔ الحمد اللہ، ماشااللہ، سبحان اللہ،مرحبا۔ پاکستان زندہ باد

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions