تیری آواز مکے اور مدینے، مکہ معاہدے کی گونج اسرائیل تک پہنچ گئی

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم: قلم کہانی
تحریر: سید صداقت علی شاہ

کسی بات کی تحسین یا تائید کرنی ہو یا پھر کسی حق بات پر داد واجب ہو جائے، تو ایک جملہ استعمال کیا جاتا ہے ”تیری آواز مکے اور مدینے“۔ یہ آواز بھی مکہ سے آئی ہے۔ الحمد اللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ، مرحبا۔ تمام مسلمان ممالک میں واحد ایٹمی ملک پاکستان، دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والا ترکیہ اور تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیا ”ہم ایک ہیں“۔سن لو!ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ پچھلے سال کی بات ہے۔ 17ستمبر 2025کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا۔ دونوں ممالک نے ببانگ دہل کہا کہ ”ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا“۔ کیا تاریخ ساز مناظر تھے۔ جیسے ہی وزیراعظم محمد شہباز شریف کا طیارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو لڑاکا طیاروں نے مہمان طیارے کو حصار میں لے لیا۔ قصر یمامہ پہنچے تو گھڑ سواروں کا شاہی پروٹوکول ملا، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کا خود استقبال کیا۔ تاریخی دفاعی معاہدے پر شہباز شریف اور شہزادہ محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک میں دفاعی تعاون بڑھانا، کسی بھی جارحیت کیخلاف مشترکہ دفاع اور تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ باضابطہ مذاکرات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔ معاہدے پر دستخط کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بغل گیر ہوئے۔
وہ کہتے ہیں نا، ایک سے بھلے دو، دو سے بھلے تین۔ پاکستان اور سعودی عرب نے جو مضبوط دفاعی معاہدے کی جو بنیاد پچھلے برس ڈالی۔ وہ اب آگے بڑھ رہی ہے۔ کسی کو کیا علم تھا کہ اس معاہدے میں کوئی اور بھی شریک ہو گا؟ اور وہ بھی ایک برس سے کم عرصے میں۔پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو ابھی 11ماہ ہی گزرے تھے کہ 7اگست 2026کو ہماری آنکھوں سے وہ منظر دیکھا، جو آج سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔مکتہ المکرمہ میں حرک پاک کے قریب قصر الصفا میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے“ پر دستخط کر دیئے۔ ایک بار پھر الحمد اللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ، مرحبا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے پر دستخط کیے، مصافحہ اور معانقہ کیا۔جمعے کا مبارک دن تھا اور تینوں ممالک کے رہنماؤں نے نماز جمعہ بھی ادا کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیراس موقع پر بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ تھے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ”کسی ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا“۔ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ سٹرٹیجک مفادات اور طویل المدتی دفاعی تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے، مشترکہ حکمت عملی، امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے، جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی اور سفارتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ پاکستان حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے اور ترکیے غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مبصرین کھل کر کہہ رہے ہیں کہ یہ اتحاد عالمی سطح پر گزشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور اب بعض ممالک کو سکیورٹی کی ضمانت چاہئے۔ سعودی عرب کی بات کریں تو 28فروری 2026کے بعد اسے وہ سکیورٹی تحفظ نہیں ملا، جس کی اسے امید تھی۔ اسی طرح پاکستان جوہری طاقت ہونے کے باوجود یہ چاہتا ہے کہ بھارت کیخلاف معاملات میں پاکستان تنہا نہ ہو۔ مئی 2025 میں پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جس طرح منہ توڑ جواب دیا، اس کے بعد تو دیگر ممالک پاکستان کی صلاحیتوں کے قائل ہیں۔ اسی طرح ترکیہ بھی ایسے ہمسایوں میں گھرا ہے، جہاں سکیورٹی مسائل ہیں۔ سمجھ بوجھ رکھنے والے کہتے ہیں کہ یہ بہت تاریخی موقع ہے۔ تینوں ممالک بہت اہم ہیں۔ ترکی کی دفاعی صلاحیت بہت مضبوط ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس دولت ہے۔ اور اس معاہدے کا مقام اور ٹائمنگ بھی انتہائی اہم ہے۔
اس تاریخی معاہدے کی گونج جہاں جانی تھی، چلی گئی۔ اسرائیل نے اس دفاعی معاہدے کو خطے کیلئے ایک اہم اور خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر برائے امور تارکین وطن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ”یہ پیش رفت اسرائیل کیلئے انتہائی پریشان کن ہے اور ممکنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول اسرائیل اور ترکیے کے درمیان متعدد معاملات پر براہ راست اختلافات موجود ہیں، اس لیے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا“۔
کون کہتا ہے نظر انداز کرو۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے آج تک غزہ میں ہونے والی بربریت اور ظلم کو نظر انداز نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں۔ 28فروری 2026کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے یہ کامیابی ایک گولی چلائے بغیر حاصل کی ہے۔ یہ پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی جیت ہے۔ اللہ کا پاکستان پر خاص کرم ہے۔ مئی 2025میں بھارت کیخلاف سرخرو کیا اور اس کے بعد ہر سفارتی میدان میں پاکستان کو کامیابی دی۔ سول اور ملٹری قیادت نے اپنی لیڈرشپ دکھائی۔ ایک بار پھر ہو جائے! الحمد اللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ، مرحبا۔
ذوق دہلوی نے کیاخوب کہا ہے:
موذن مرحبا بروقت بولا
تری آواز مکے اور مدینےیہ آواز بھی مکہ سے آئی ہے۔ الحمد اللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ، مرحبا۔پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیا ”ہم ایک ہیں“۔سن لو!ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions