عنوان: قلم کہانی
تحریر: سید صداقت علی شاہ
خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر نے کیا خوب کہا ہے:
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
پاکستان میں برسات کا موسم چل رہا ہے۔ایسے میں پروین شاکر کا یاد آنا فطری امر ہے۔پنجاب سمیت لاہور اور شمالی علاقہ جات میں روزانہ کی بنیاد پر بارش ہو رہی ہے۔ ملک کا سیاسی موسم بھی آج کل ”برسات“ میں ڈوبا ہوا ہے۔30جولائی2026کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس سے ایسی ”سیاسی برسات“ شروع ہوئی ہے، جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔
جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صاف صاف کہہ ڈالا کہ ”نظام ڈھے چکا ہے۔ وزیراعظم روزانہ 12سے 14گھنٹے کام کرتے ہیں، اس نظام میں وہ 18گھنٹے بھی کام کر لیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ہم صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہیں۔نوجوان یا ”کاکروچ“ اکٹھے ہو گئے تو ہر چیز الٹ دیں گے۔نئے صوبے بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وہ چاہے انتظامی بنیادوں پر بنائیں مگر بنانے پڑیں گے۔جب تک سیاستدان نظام ٹھیک نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا“۔
محسن نقوی کی پریس کانفرنس کے ٹھیک ایک دن بعد 31جولائی کو ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی ایک پریس بریفنگ دی۔ اس پریس بریفنگ کا مقصد تو ملک کی سکیورٹی صورتحال کا احاطہ کرنا تھا۔ مگر محسن نقوی کی پریس کانفرنس کی ”گونج“ راولپنڈی میں بھی سنائی دی۔ سوال کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے واضح انداز میں بتایا کہ ”محسن نقوی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، ان کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، وہ ان کیبیان پر تبصرہ نہیں کریں گے“۔
البتہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا کہ ”پاکستان کی سکیورٹی کیلئے گڈ گورننس بہت ضروری ہے۔ گڈ گورننس کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے، مسائل حل نہیں ہو رہے، اس کا مطلب ہے گڈ گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا۔ آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے اور صوبے صرف 4ہیں۔ اچھی حکمرانی کیلئے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہونا چاہئے“۔
شاکر تنویر نقوی کہتے ہیں:
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جو کہنا تھا، کہہ لیا۔ سمجھنے والے سمجھ گئے۔ دونوں صاحبان کی گفتگو کی ”ٹائمنگ“ بہت اہم ہے۔ ساون کی 16تاریخ ہے۔ 14دن باقی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں ابھی اور بھی ”برسیں“ گی۔ کیا ”سیاسی برسات“ تھمیگی، اس کا جواب مشکل ہے۔ لیکن ”بیک ٹو بیک“ ہونے والی ان پریس کانفرنسز نے بہت سے نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
سوال نمبر ایک: نئے صوبے کس نے بنانے ہیں؟ ان کو بنانے کا کیا طریقہ ہے؟
سوال نمبر 2: نئے صوبے بنانے سے عوام کا کیا فائدہ ہو گا؟
سوال نمبر 3: کیا ملکی نظام واقعی تباہ ہو چکا ہے؟
سوال نمبر 4: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کابینہ کا حصہ ہیں، انہوں نے یہ بات ”پبلک فورم“ پر کیوں کی؟ کیا وہ یہ بات کابینہ میں پہلے کر چکے ہیں؟
سوال نمبر 5: کیا مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی،تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر سیاسی جماعتیں نئے صوبے بنانے کے خلاف ہیں؟
سوال نمبر 6: پاک فوج کے ترجمان کو گڈ گورننس کی طرف اشارہ کیوں کرنا پڑا؟
سوال نمبر 7: کیا وزیراعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر ان تمام سوالوں کا جواب قوم کو نہیں دینا چاہئے؟
سوال نمبر 8: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی باتوں کا ابھی تک وفاقی حکومت نے کیوں جواب نہیں دیا؟
تنویرنقوی کی طرف چلتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
باتیں جو زباں تک آ نہ سکیں
آنکھوں نے کہیں، آنکھوں نے سنیں
کچھ ہونٹوں پرکچھ آنکھوں میں
ان کہے فسانے رہ بھی گئے
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
بدھ کو صدر مملکت آصف زرداری اور محسن نقوی کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟ جمعرات کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس کے بعد جاتی امرا میں بیٹھے نواز شریف کیا سوچ رہے ہیں؟ بلاول بھٹو زرداری کا لہجہ کیوں اتنا سخت ہو چکا ہے؟ شہر اقتدار میں کیا چل رہا ہے؟ کیا پک رہا ہے؟افواہوں کا ایک جمعہ بازار ہے، جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
اتنا ”سناٹا“ کیوں ہے؟ حکومت کو سامنے آنا پڑے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کو بولنا پڑے گا۔حکومتیں افواہوں کے سائے میں زندہ نہیں رہ پاتیں۔ اس حکومت نے تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔ وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے ریاست کی وجہ سے اپنی سیاست کی قربانی دی ہے۔ کیا اس ”قربانی“ سے سسٹم ”ڈھے“ گیا ہے؟ یہ ہے وہ سوال، جس کا جواب ضروری ہے۔ورنہ موسمی برسات تو شاید تھم جائے۔ اس ”سیاسی ساون“ کا مقابلہ مسلم لیگ ن کیسے کرے گی؟ یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ملک کا سیاسی موسم بھی آج کل ”برسات“ میں ڈوبا ہوا ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں ”ساون کی جھڑی“ لگ گئی ہے۔اسے کون روکے گا؟کوئی تو آگے بڑھے۔
اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔













