پورٹ، کسٹمز اور لاجسٹکس شعبے میں اصلاحات جاری، 2 ارب 46 کروڑ روپے کے پپری ملٹی لاجسٹکس پارک پر بھی تیزی سے کام جاری
کراچی: پاکستان کے بحری اور لاجسٹکس شعبے میں بڑے پیمانے پر آپریشنل تبدیلیاں جاری ہیں، وزیراعظم کی میری ٹائم ریفارمز ٹاسک فورس کی قیادت میں ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، کسٹمز، کنٹینر ٹرمینلز اور وسیع تر لاجسٹکس نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ میں پورٹ کی کارکردگی بہتر بنانے اور کارگو کلیئرنس کا عمل تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان اصلاحات میں گرین چینل، فیس لیس پروسیسنگ، گڈز ڈیکلریشن (GD) کلیئرنس، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اور کسٹمز کے دیگر اصلاحاتی اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد کارگو کلیئرنس کے عمل کو زیادہ تیز، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ میں بھی کنٹینر ہینڈلنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ جدید آلات کی تنصیب کے ذریعے آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل اور قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میں بھی جدید کاری اور آپریشنل بہتری کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
پورٹ قاسم میں ڈریجنگ کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے، جو جہازوں کی آمدورفت کے لیے مطلوبہ گہرائی برقرار رکھنے اور بندرگاہی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وزیراعظم کی میری ٹائم ریفارمز ٹاسک فورس، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن اور دیگر متعلقہ ادارے بحری و لاجسٹکس شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پپری ملٹی لاجسٹکس پارک منصوبہ
میری ٹائم اصلاحات کے تحت پپری ملٹی لاجسٹکس پارک کی تعمیر پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بندرگاہوں سے کارگو کی نکاسی اور ملک کے مختلف حصوں تک سامان کی ترسیل کے لیے ایک جدید اور مربوط نظام قائم کرنا ہے۔
نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن سندھ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر الطاف قادر باجوہ کے مطابق یہ منصوبہ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن اور ڈی پی ورلڈ کے اشتراک سے تقریباً 2 ارب 46 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت پورٹ قاسم کو کراچی پورٹ سے منسلک کرنے کے لیے 1.5 کلومیٹر طویل ریلوے لنک بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس سے ریل کے ذریعے مال برداری کو فروغ ملے گا اور بندرگاہوں سے کارگو کی منتقلی کے لیے ایک اضافی اور مؤثر راستہ دستیاب ہوگا۔
پپری سہولت میں ریلوے اور فریٹ انفراسٹرکچر، کنٹینر سہولیات اور ملٹی لاجسٹکس پارک شامل ہوں گے۔ منصوبے میں گودام، کنٹینر اسٹوریج ایریاز، گاڑیوں کی پارکنگ اور انتظامی بلاکس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی بڑی بندرگاہوں کو اندرون ملک لاجسٹکس انفراسٹرکچر سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تیز تر کارگو کلیئرنس، ٹرمینلز کی بہتر صلاحیت اور ریل و فریٹ سہولیات میں اضافے سے درآمدی و برآمدی سامان کی نقل و حرکت میں تاخیر کم ہونے اور سپلائی چین کی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
پپری منصوبے اور دیگر میری ٹائم اصلاحات پر کام جاری رہنے کے ساتھ پاکستان میں ایک زیادہ مربوط پورٹ اور لاجسٹکس نظام تشکیل دینے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، جو بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور ملک کے مجموعی سپلائی چین نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔












