مکہ کا اعلان اور امت کا نیا سفر، ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ کی تناظر میں

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کچھ اعلان ایسے ہوتے ہیں جو صرف خبر نہیں بنتے، تاریخ بن جاتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ پوسٹ بھی ایسی ہی تھی جس میں انہوں نے لکھا “مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے آخرکار مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا، دبنگ اور اہم پہلا قدم ہے۔ واہ!”

یہ پوسٹ نئی نہیں تھی۔ یہ معاہدہ کئی دن پہلے ہی مکہ مکرمہ میں پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے باضابطہ طور پر سائن ہو چکا ہے,خانہ کعبہ کے سائے میں سعودی قیادت، ترکی کی قیادت اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دنیا کو بتایا تھا کہ اب ہم اپنی سیکیورٹی،استحکام اور مستقبل خود طے کریں گے۔ ٹرمپ کا اب اسے سراہنا اس بات کی مہر ہے کہ مغرب بھی مان رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اب اپنے فیصلے خود کرے گا۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس معاہدے کی ضرورت کیوں پڑی؟ جواب بہت سیدھا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں ہم نے دیکھا کہ جب غزہ میں قیامت بپا کی گئی تو امت صرف مذمتیں کر سکی۔ جب بحیرہ احمر میں تجارت رکی تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ جب امریکہ، اسرائیل اور ایران آمنے سامنے آئے تو پوری دنیا کو تیسری جنگ عظیم کا ڈر لگ گیا۔ ان سب واقعات نے ایک بات واضح کر دی کہ اگر ہم الگ الگ رہے تو کمزور رہیں گے۔ اگر اکٹھے ہو گئے تو دنیا ہماری بات سنے گی۔

اسی سوچ کے ساتھ 3 ممالک آگے آئے۔ سعودی عرب جس کے پاس معاشی طاقت ہے اور جس کے پاس حرمین شریفین کی ذمہ داری ہے۔ ترکی جس نے دفاعی صنعت میں خود کفالت حاصل کر لی ہے اور جس کے ڈرون آج دنیا مانتی ہے۔ اور پاکستان جو دنیا کی واحد ایٹمی اسلامی طاقت ہے ، جس کے پاس 75 سال کا جنگی اور قربانی کا تجربہ ہے۔ ان تینوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب ہم اپنی حفاظت کا ٹھیکہ کسی اور کو نہیں دیں گے۔

مکہ معاہدہ کی بنیاد 5 اہم نکات پر ہے۔ پہلا نکتہ مشترکہ دفاع کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان تینوں میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی جارحیت ہوتی ہے تو اسے تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا اور جواب بھی مشترکہ ہوگا۔ یہ شق اس اتحاد کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

دوسرا نکتہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت ہر اس گروہ کے خلاف مل کر کام کریں گے جو اسلام کے نام پر فساد پھیلاتا ہے یا جو پاکستان اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ریاض، انقرہ اور اسلام آباد میں مشترکہ انٹیلیجنس مرکز بنایا جائے گا جہاں معلومات فوراً شیئر ہوں گی۔

تیسرا نکتہ دفاعی صنعت میں خود کفالت کا ہے۔ اب ہم ہر چیز باہر سے نہیں خریدیں گے۔ ترکی کی ٹیکنالوجی، پاکستان کی میزائل اور طیارہ سازی کی مہارت اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری کو ملا کر ایک بڑی مسلم دفاعی مارکیٹ بنائی جائے گی۔ ہدف یہ رکھا گیا ہے کہ 2030 تک ہم اپنی 40 سے 50 فیصد دفاعی ضروریات خود پوری کریں۔انشااللہ

چوتھا نکتہ سمندروں اور تجارت کی حفاظت ہے۔ بحیرہ احمر سے لے کر بحیرہ عرب اور خلیج تک مشترکہ بحری گشت ہوگی۔ تاکہ تیل اور تجارت کی لائنیں محفوظ رہیں اور کوئی ملک ہماری معیشت کو بلیک میل نہ کر سکے۔

پانچواں اور آخری نکتہ انسانی ہمدردی کا ہے۔ غزہ، یمن، شام اور افغانستان میں امداد اب الگ الگ نہیں جائے گی۔ ایک ہی جھنڈے تلے جائے گی۔ تاکہ دنیا دیکھے کہ امت صرف باتیں نہیں کرتی، ضرورت کے وقت کام بھی کرتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کی تعریف کیوں کی۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اب مزید لمبی جنگیں نہیں لڑنا چاہتا۔ افغانستان اور عراق میں 20 سال اور 8 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد امریکی عوام تھک چکے ہیں۔ ٹرمپ کا نعرہ “America First” کا مطلب ہی یہ ہے کہ امریکی فوجیں واپس آئیں اور خطے کے ممالک اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں۔ اگر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان مل کر مشرق وسطیٰ کو مستحکم رکھتے ہیں تو واشنگٹن کے لیے یہ بہترین صورتحال ہے۔

دوسری وجہ گزشتہ سال کی کشیدگی ہے۔ جب امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے پردے کے پیچھے رہ کر سفارتکاری کی اور تمام فریقوں سے بات کر کے جنگ کو ٹالا۔ ٹرمپ نے یہ دیکھا اور سمجھ گئے کہ اب خطے میں ایک ایسا گروپ موجود ہے جو بحران کو سنبھال سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اسے “بہت بڑا اور اہم پہلا قدم” کہا۔

عام پاکستانی کے لیے اس معاہدے کے 4 بڑے فائدے ہیں۔ پہلا فائدہ معیشت کا ہے۔ اس معاہدے کے بعد کراچی، ٹیکسلا اور کامرہ میں دفاعی صنعت کے بڑے منصوبے شروع ہو رہے ہیں۔ ترکی اور سعودی کمپنیاں پاکستان میں فیکٹریاں لگا رہی ہیں۔ اس سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور ہماری برآمدات بڑھیں گی۔

دوسرا فائدہ سیکیورٹی کا ہے۔ جب سرحدوں پر 3 ممالک کی مشترکہ نظر ہوگی تو دہشت گردوں کے لیے پاکستان میں داخل ہونا اور کارروائی کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس سے اندرونی امن بہتر ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔

تیسرا فائدہ سفارتی وزن کا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اب پاکستان اکیلا نہیں بولے گا۔ اس کے ساتھ سعودی عرب اور ترکی بھی کھڑے ہوں گے۔ کشمیر ہو یا غزہ، ہماری آواز زیادہ طاقتور ہوگی۔

چوتھا فائدہ عزت کا ہے۔ دنیا اب پاکستان کو صرف امداد لینے والا ملک نہیں سمجھے گی۔ بلکہ ایک ایسا ملک سمجھے گی جو خطے کو استحکام دے سکتا ہے اور فیصلے کر سکتا ہے۔

جب یہ معاہدہ مکہ میں سائن ہوا تو دنیا کے بڑے میڈیا چینلز نے اسے براہ راست دکھایا۔ امریکی اخبارات نے اسے “اسلامی نیٹو” کا نام دیا۔ برطانوی میڈیا نے لکھا کہ “مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے”۔ اسرائیل نے اس پر کوئی بڑا بیان نہیں دیا کیونکہ وہ سمجھ گیا کہ اب صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ بھارتی میڈیا میں اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ “اب پاکستان تنہا نہیں رہا”۔ چین اور روس نے اسے خطے کے استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بڑے ملک نے اس معاہدے کی مذمت نہیں کی۔

لیکن ہر بڑے قدم کے ساتھ چیلنجز بھی آتے ہیں۔ اس معاہدے کے سامنے بھی 3 بڑے چیلنجز ہیں۔ پہلا چیلنج ایران کا ہے۔ کیا ایران کو مستقبل میں اس اتحاد میں شامل کیا جائے گا؟ اگر ہاں تو امریکہ ناراض ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں تو خطے کا استحکام ادھورا رہے گا۔ اسی لیے معاہدے میں ایران کے لیے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔

دوسرا چیلنج ہمارا اپنا اتحاد ہے۔ کیا ہم اپنی اندرونی سیاست، اختلافات اور فرقہ واریت کو بھلا کر ایک ہو کر رہیں گے؟ اگر ہم متحد رہے تو یہ معاہدہ تاریخ بن جائے گا۔ اگر ہم لڑتے رہے تو یہ صرف کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گا۔

تیسرا چیلنج مغربی دباؤ کا ہے۔ امریکہ اور یورپ ایک طرف تعریف کریں گے اور دوسری طرف پابندیوں کی دھمکی بھی دیں گے۔ ہمیں حوصلے اور حکمت سے اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی معیشت اتنی مضبوط کرنی ہوگی کہ کوئی دباؤ ہمیں توڑ نہ سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے “پہلا قدم” کہا۔ اور وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ منزل نہیں، سفر کا آغاز ہے۔ اب ہمیں اس معاہدے کو کاغذ سے نکال کر زمین پر لانا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنی تعلیم بہتر کرنی ہے۔ اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنی ہے۔ اپنی نوجوان نسل کو ہنر دینا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے اختلافات بھلا کر ایک قوم بننا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معاہدے کی تقریب میں ایک بہت اہم بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “پاکستان کا دفاع اب صرف پاکستان کا دفاع نہیں ہے۔ یہ امت کا دفاع ہے”۔ یہی اس معاہدے کی روح ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ امت کا درد ہمارا درد ہے۔ آج پہلی بار اس درد کے لیے ہماری بندوق، ہمارا بجٹ اور ہماری پالیسی بھی مشترکہ ہو گئی ہے۔

1947 میں قائد اعظم نے ہمیں ایک ملک دیا تھا۔ 2026 میں مکہ نے ہمیں ایک ذمہ داری دی ہے۔ یہ ذمہ داری قیادت کی ہے۔ یہ ذمہ داری اتحاد کی ہے۔ یہ ذمہ داری اس بات کی ہے کہ اب ہم دنیا کے سامنے سر جھکا کر نہیں، سر اٹھا کر بات کریں گے۔

کیمرے بند ہو چکے ہیں۔ تقریریں ختم ہو چکی ہیں۔ اب باری عمل کی ہے۔ اب باری پسینے کی ہے۔ اب باری قربانی کی ہے۔ جب غزہ کے بچے کو روٹی ملے گی۔ جب بلوچستان کی فیکٹری میں تین شفٹیں لگیں گی۔ جب دنیا کا کوئی سفیر کہے گا کہ “اس مسئلے کے حل کے لیے ان تین ممالک سے بات کرو” تو سمجھ لینا کہ ہم کامیاب ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کو اس عہد پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ اللہ ہمیں اتفاق دے اور دشمنوں کی ہر سازش کو ناکام بنائے۔ پاکستان زندہ باد۔ سعودی عرب زندہ باد۔ ترکی زندہ باد۔ امت مسلمہ پائندہ باد۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions