پاکستان: امن کا سفیر، قوموں کا اعتماد

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s, when an unknown printer took a galley of type and scrambled it to make a type specimen book. It has survived not only five centuries, but also the leap into electronic typesetting, remaining essentially unchanged.

It was popularised in the 1960s with the release of Letraset sheets containing Lorem Ipsum passages, and more recently with desktop publishing software like Aldus PageMaker including versions of Lorem Ipsum.

Table of Content

کالم: وقاص عزیز

14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام محض ایک نئے ملک کے وجود میں آنے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسے خواب کی تعبیر تھی جس میں آزادی، خودمختاری، انصاف اور قومی وقار بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ آج 2026 میں جب ہم یومِ آزادی منا رہے ہیں تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ 79 برس کے اس سفر میں پاکستان نے دنیا میں اپنا مقام کس طرح بنایا اور مستقبل میں اسے کس سمت آگے بڑھنا ہے۔

میرے نزدیک پاکستان کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کی جغرافیائی اہمیت یا دفاعی صلاحیت نہیں، بلکہ اس کی سفارتی گنجائش اور مشکل حالات میں توازن قائم رکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ دنیا اس وقت جنگوں، معاشی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے امن، مذاکرات اور تعاون کی پالیسی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ سعودی عرب، چین، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی شراکت داری کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ دفاعی تعاون نے بھی اس بحث کو جنم دیا ہے کہ پاکستان مستقبل میں علاقائی سلامتی اور مسلم دنیا کے معاملات میں کتنا مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستان کی فوج نے بھی ملک کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے اہم ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی خدمات ملک کی بین الاقوامی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم ایک مضبوط ریاست کے لیے دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، سیاسی تسلسل اور اداروں کی مضبوطی بھی ضروری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے معاشی سفارت کاری اور بیرونی سرمایہ کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات، سی پیک اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ملک کے لیے بڑے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان مواقع کو حقیقی معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور داخلی استحکام ناگزیر ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام، بالخصوص نوجوان نسل میں بھی موجود ہے۔ ایک بڑی نوجوان آبادی اگر معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور روزگار کے مواقع حاصل کرے تو یہی انسانی سرمایہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔

یومِ آزادی ہمیں صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ہمیں داخلی تقسیم، عدم برداشت اور سیاسی کشمکش سے آگے بڑھ کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔

پاکستان کے سامنے چیلنجز ضرور ہیں، مگر امکانات بھی کم نہیں۔ اگر ہم اتحاد، نظم و ضبط، تعلیم، معاشی اصلاحات اور ذمہ دار سفارت کاری کو اپنی قومی ترجیحات بنالیں تو پاکستان آنے والے برسوں میں ایک زیادہ مستحکم، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں؛ یہ کروڑوں لوگوں کی امید، شناخت اور مستقبل کا نام ہے۔

پاکستان زندہ باد۔

اعلانِ دستبرداری: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات، آراء اور تجزیے مصنف کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی ان سے متفق ہو یا ان کی تائید کرتی ہو۔

About The Author

Latest News

Click Pakistan is a professional news-based digital platform led by Editor-in-Chief Syed Tanzil Gillani, delivering credible, timely, and fact-based journalism on national affairs and current events.

© 2026 All Right Reserved. Designed and Developed by Alphabetic Solutions